نگران دورِحکومت

AGHA WAQAR AHMED

نگران دورِحکومت

پاکستان میں الیکشن 2018 اپنے مقررہ وقت پر ہونگے، اس سلسلے میں گزشتہ ہفتہ لاہور میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار احمد کے درمیان ایک طویل نشست ہوئی جس کا دورانیہ 4 گھنٹوں پر مشتمل تھا ۔

مذکرات لاحاصل رہے کیونکہ چوہدری نثار کا مطالبہ تھا کہ مسلم لیگ ن الیکشن 2018 میں حصہ لے اور امیدوار  کی ٹکٹوں اور انتخابی حلقوں کا فیصلہ  چوہدری نثار کی مشاورت سے بااختیار شہباز شریف  کریں مگر  جب ٹکٹوں کی تقسیم کی حقیقت چوہدری نثار پر عیاں ہوئی کہ ان کا حتمی فیصلہ مریم اور نواز کریں گے تو چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں بااختیار لیڈر کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں نہ کہ بےاختیار لیڈر کے ساتھ۔

بادی النظر میں مسلم لیگ ن نہیں چاہتی کہ الیکشن 2018 مقررہ وقت پر منعقد ہوں کیونکہ اگر مسلم لیگ ن ٹکٹوں کی تقسیم نواز اور مریم کے اختیار سے کرتی ہے تو کسی بھی بنیادی کارکن کو ٹکٹ ملنے کی کوئی امید نہیں جبکہ تحریک چلانے کیلئے مسلم لیگ ن کو درکرز کی اشد ضرورت ہے اور عدلیہ خلاف تحریک ہی مریم اور نواز شریف کی خواہش و ضرورت ہے۔

یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن مقررہ وقت پر یلیکشن نہیں ہونے دینے کی خواہش رکھتی ہے مگر  ملک کی سلامتی کے خیر خواہ اداروں نےاسکا ایک فارمولا نکال لیا جس کے تحت  چند مخصوص افراد کو ذمہ داری سونپ دہ گئی کہ وہ وطن عزیز کے ان گمنام ہیروز کو تلاش کر کے سامنے لائے گا جنہوں نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن حکومتی اور عوامی سطح پر انہیں ایسا نظرانداز کیا گیا کہ وہ اب کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔

نگران حکمران انہیں افراد میں سے تلاش کیے جائیں گے جو احسن طریقہ سےناصرف اپنا دورِحکومت مقررہ وقت میںمکمل کریں گے بلکہ انتخابات کا انعقاد انتہائی ایمانداری سے کریں گے اور انتخابات کے امیدوار افرادکی اسکروٹنی آئینِ پاکستان کے مطابق کی جائے گی ۔

 اس کے ساتھ ساتھ یہ افراد سیاستدانوں کے انتخابات سے قبل اور بعد کے اعلانات اور دعوئوں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں اور ان کی قانون سازی کی ترجیحات پر نظررکھا کرے گا۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ان میں نمایاں افراد  جن میں سابق آئی جی پولیس اسلام آباد اور وفاقی سیکرٹری چودھری افتخار احمد، سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق کھوسہ، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ، معروف آئینی و قانونی ماہر وتجزیہ نگار سعد رسول ایڈووکیٹ، سابق بیوروکریٹ اور معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر معید پیرزادہ، معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر امجد اسلام امجد، سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگار ایاز امیر، معروف ٹی وی اینکر اور کالم نگار اعجاز حیدر،قائد اعظم یونیورسٹی اور فارمین کرسچین کالج کے سابق پروفیسر اور معروف نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہودبائی، سابق بیوروکریٹ، محقق اور رائٹر ڈاکٹر شہزاد قیصر، معروف آئینی ماہر بابر ستار ایڈووکیٹ، کیئر فائونڈیشن کی سربراہ اور معروف سماجی رہنما سیمہ عابد عزیزاور دیگر شامل ہیں۔

ان کے ذمہ 15 اپریل 2018 سے پہلے پہلے 100 افراد سےزائد کو تلاش کرنا ہے جن کے سپردنگران حکومت کی بھاگ دوڑ  کی جائے کیونکہ موجودہ حالات میں متفقہ طور پر قائد حزب ایوان اور قائد حزب اختلاف کا کوئی مشرکہ امیدوار نامزد ہوتا نظر نہیں آ رہا جبکہ آئین کہ رو سے قومی اسمبلی اورتمام صوبائی اسمبلیاں 31 مئی 2018 کو خودبخود تحلیل ہو جائیں گی۔

ان حالات کے پیش نظر ملک میں سے ایماندار و گمنام قومی ہیرو تلاش کیے جا رہے ہیں کہ بووقت ضرورت ملک کی بھاگ دوڑ ان کو تھما دی جائے۔

 پاکستان میں قومی سطح کے سیاسی اور حکومتی معاملات اور عام آدمی کے معاملات میں بہت فرق ہے اور ان کو الگ الگ سمجھنے کی ضرورت ہےکیونکہ سیاسی و حکومتی ایشوز کی وجہ سے عام آدمی ہمیشہ سے نظرانداز ہوتاآیا ہے، اس لئے ایک ایسے افراد کی ضرورت ہے جو دونوں معاملات میں فرق پیدا کرے اور ان کے مسائل اور کارکردگی کو علیحدہ علیحدہ سامنے لائے۔

ذرائع کے مطابق ان افراد نے سیاست نہیں کرنی بلکہ صرف سیاستدانوں اور حکومتوں کی کارکردگی پر نظر رکھنی ہےاور دیکھنا ہے کہ اگر کسی سیاستدان نے انتخابات سے قبل یا بعد میںکوئی دعوی یا اعلان کیا تھا تو کیا وہ مقررہ مدت کے اندر عملی طور پر پورا ہوا یا نہیں۔

عام آدمی کی آواز کو سیاسی بیان بازیوں میں دبنے نہیں دیا جائیگا  عوامی مسائل کی ایسے منفرد انداز میں نمائندگی کی جائیگی جس کی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ضرورت ہے۔

یہ تجربہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے کیونکہ ہر سیاسی جماعت کے فرد اپنی سابقہ کارکردگیوں کی وجہ سے سلطنتِ پاکستان کے عدالتی نظام کے سامنے جوابدہ ہیں اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں نیب ذدہ ہو چکی ہیں اسلیئے الیکشن 2018 میں انتخابی امیدواروں کی 1973 کے آئین کے مطابق  اسکروٹنی ٖکی ضرورت ہے کہ آئندہ مستقبل میں کوئی حکمران اور سیاستدان ملکی خزانوں کی لوٹ مار نہ کر سکے اور انہیں احساس ہو کہ وہ عدلیہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here