معصوم عزت لُٹ گئی

AGHA WAQAR AHMED

معصوم عزت لُٹ گئی

ایک وقت تھا جب جو شخص خانہ کعبہ کی زیارت کرنے جاتا اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دینے جاتا  تب  اس کے عقیدت میں ہاتھ چومے جاتے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی ذمہ داری اور ان کی ہر ضروریاتِ زندگی کو پورا   کرنے کا عہد کر لیا جاتا اور جب  مقدس مقامات سے واپسی ہوتی تو ان کا پر تکاب استقبال کیا جاتا ۔

اہل  سعادات، اہل بیت اور  صحابہ اکرام و اجمعین  کے مقدس ناموں سے  لوگ اپنے بچوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ اسی طرح مقتولہ زینب کانام  سیدہ بی بی زینبؑ کے نام پر رکھا گیا  کہ مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی زینب نام کا احترام کرتے ہیں اور یہ بچی تمام دنیا میں محفوظ رہے  گی یہ اس کے والدین کی خواہش تھی ۔

زینب کے والدین عمرہ کرنے چلے گئے کہ غلاف کعبہ چوم کر بچی کے  اچھے مستقبل اور  زندگی کی دعا کریں گے  اور روضہ رسول پر جا کر  زینب کے تحفظ کی دعا کریں گے ۔

مگر حقیقت تو یہ ہے  کہ ریاست ناکام ہو چکی تھی اور قصور کے علاقے میں عمرہ پر گئے ہوئے والدین کی بچی زینب کو تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی تھی  اور ادھر پاکستان کی سرزمین پر زینب کی عزت  لٹ چکی تھی  اور ظالم نے معصوم کی عزت پامال کرنے کے بعد اسے موت کی آغوش میں پہنچا دیا تھا۔

وہ زینب اس درندہ انسان سے  ہاتھ جوڑ کر  رحم  کی بھیک مانگتی رہی, خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کا واسطہ دیتی رہی  مگر اس کی عزت پامال کر دی گئی  اور اسے موت کی نیند بھی سلا دیا گیا۔

  کہاں ہیں وقت کے خلیفہ ؟ کدھر ہے ریاست ؟ کون ہے حکمران -جس پر  واجب ہے اسلامی قانون کی عمل داری – سب خاموش ؟؟؟؟

 قیامت کے دن اس معصوم  بچی کے سوالات کا جواب دے گا کون ؟؟؟

کیا اسلامی ریاست میں حکمران ذمہ دار نہیں ہوتا؟ مگر ان  اقتدار کے بھوکوں کو سمجھائے گا کون ؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here