سرگودھا: نوعمر لڑکوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنانے والے 6 بااثر ملزمان گرفتار

'Influential' Sargodha men who molested, filmed minors on gunpoint arrested
'Influential' Sargodha men who molested, filmed minors on gunpoint arrested

:سرگودھا

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں نوعمر لڑکوں سے اسلحے کے زور پر زیادتی کی ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرنے والے 6 با اثر ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تھانہ جھال چکیاں پولیس کے مطابق نواحی علاقے لک موڑ کے رہائشی ظہیر، عامر، جہانگیر، تنویر اور رحمت خان سمیت 6 ملزمان اسلحے کے زور پر نوعمر لڑکوں سے زیادتی کی ویڈیو بناتے اور بعد میں سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر دیتے تھے۔

پولیس نے ملزمان کے خلا ف علاقے کے زمیندار محمد سلیمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ وہ اپنے گاؤں کی ایک فون شاپ پر موجود تھا، جہاں پر لڑکوں سے زیادتی کی ویڈیوز کی سی ڈی تیار کرکے انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے جس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان سے 13 نوعمر لڑکوں سے زیادتی اور بدفعلی کی ویڈیوز ملی ہیں۔

جن بچوں کے ساتھ بدفعلی کا انکشاف ہوا ہے، ان بچوں اور ان کے والدین نے بااثر ملزمان کے خلا ف کھلے عام کارروائی سے انکار کر دیا ہے، تاہم پولیس افسران کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد شناخت خفیہ رکھنےکی شرط پر بعض لڑکوں کے اہلخانہ نے پولیس کو بیانات قلمند کرا دیئے ہیں۔

دوسری جانب کیس کے مدعی محمد سلیمان نے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ با اثر ملزمان کے ڈر سے اہلخانہ کھل کر سامنے نہیں آرہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2015 میں قصور ویڈیو اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا، جب قصور کے گاؤں حسین خان والا میں سیکڑوں بچوں سے بدفعلی کا شور اٹھا اور ویڈیوز بھی سامنے آئیں اور اسی گاؤں کے ایک خاندان پر 284 لڑکوں سے بد فعلی کا الزام لگا، جس کے بعد وزیراعظم کے حکم پر ڈی آئی جی ابوبکر خدابخش کی سربراہی میں 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے واقعے کی تحقیقات کیں۔

اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 20 بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم انسانی حقوق کے ادارے ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس اسکینڈل میں متاثرہ بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here