رابطہ کمیٹی کا الیکشن کمیشن کو خط لکھنا نامناسب عمل تھا، فاروق ستار

inappropriate to write a letter to the Election Commission from Coordination Committee, Farooq Sattar
inappropriate to write a letter to the Election Commission from Coordination Committee, Farooq Sattar

:کراچی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر فاروق ستار نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو سینیٹ ٹکٹوں کے معاملے پر خط لکھنا نامناسب عمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان یہاں آکر مجھے بلارہے ہیں اور میں نہیں جارہا، حلفیہ کہتا ہوں مجھے بہادر آباد جاکر اجلاس کی صدارت کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 اور 6 فروری کی رات بہادر آباد کے ساتھیوں نے میری اجازت کے بغیر اجلاس کیا، انہوں نے پریس کانفرنس بھی کی اور معاملہ میڈیا میں چلاگیا جس کے جواب میں مجھےبھی پریس کانفرنس کرنی پڑی۔

فاروق ستار نے کہا کہ سات فروری کو صالحت کا عمل شروع ہوا،معاملات طے ہوگئے تھے تو فیصل سبزواری نے دوبارہ پریس کانفرنس کی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے مشاورتی اجلاس کے بعد شام 7 بجےجانا تھا، بہادر آباد اجلاس میں جانے سے پہلے پتا چلا کہ ایک خط الیکشن کمیشن کو لکھا گیا ہے، جو مجھ پر عدم اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

سینیٹ الیکشن کے ٹکٹ کے معاملے پر شروع ہونے والا ایم کیو ایم پاکستان کا تنظیمی بحران بدستور برقرار ہے۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار سے مذاکرات کے لیے ایک اور وفد ان کی رہائش گاہ پر بھیجا۔

رابطہ کمیٹی کے وفد میں رؤف صدیقی، ریحان ہاشمی اور جاوید حنیف شامل تھے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو قائم رکھنے کے لیے اصولوں پر چلنا ہو گا، تنظیم کو بحران سے نکالنے کی ذمہ داری رابطہ کمیٹی کی ہے۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمت ہاری نہیں اور ہم تقسیم کے خلاف ہیں، کل سے فاروق ستار کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو جتنا ذمہ دار ہے اس پر اتنی بڑی زمہ داری ہے، یہاں کوئی کسی کو توڑ نہیں رہا، ہمیں توڑنے والوں کے ساتھ نہیں جوڑنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات کوئی اتنی بڑی چیزنہیں ہے لیکن چاہتے ہیں کبھی بھی تقسیم کا پہلو سامنے نہ آئے۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ تنظیم میں پیسے کی بنیاد پر کسی کا اثر و رسوخ نہیں چلے گا، تنظیم میں اقراباء پروری کو فروغ نہیں دینا چاہیے اور نا ہی پسند ناپسند کو فروغ دینا چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق ستار نے کل ایم کیو ایم کا جنرل ورکرز اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جنرل ورکرز اجلاس آج دوپہر 3 بجے پی آئی بی کے ایم سی گراؤنڈ میں ہو گا جس میں فاروق ستار کارکنان سے رائے لیں گے اور اہم فیصلے کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا الیکشن کمیشن کو خط

آج صبح ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ پارٹی آئین کے تحت امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اختیار کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ رابطہ کمیٹی کو حاصل ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی نے اپنے آپ کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ جو نام رابطہ کمیٹی منتخب کرے گی وہی سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔

خط کے متن کے مطابق پارٹی آئین کی شق 19 اے کے تحت الیکشن کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ رابطہ کمیٹی دے گی اور ہر طرح کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ دینےکا اختیار صرف رابطہ کمیٹی کو ہے۔

رابطہ کمیٹی کے مطابق رابطہ کمیٹی نے امیدواروں کے لیے خط لکھنے کا اختیار خالد مقبول صدیقی کو دیا جو امیدواروں سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کے مجاز ہیں۔

خیال رہے کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ دینے کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ فاروق ستار کامران ٹیسوری کو سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ دینے کے اپنے فیصلے پر تاحال قائم ہیں اور انہوں نے الیکشن کمیشن کو کامران ٹیسوری کا نام بھی جمع کرا دیا ہے جب کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کامران ٹیسوری کو سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ دینے کی مخالف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here