عمران خان کی رنگینیاں – پارٹ 1

Imran Khan colorful nights
Imran Khan colorful nights

کرکٹ  سے  سیاست تک ،  عمران  خان  نے  شہرت  کی بلندیوں  کو چھوا ہے۔ “پلے بوائے” کی شہرت  کے حامل عمران خان  کے بارے  میں کہا جاتا ہے کہ شادی  کے  بعد  وہ پارسا ہو چکا ہے ۔  اور کچھ  ڈھلتی عمر نے   بھی اپنا  کام دکھایا  ہے۔ مگر مجھے  خود تحریک انصاف  میں کافی عرصہ  تک ایک کلیدی  عہدے  پر فائز ایک شخصیت نے بتایا کہ  ہم  نے عمران خان کا نام ” پانچ منٹی” رکھا ہوا  تھا۔ اس نے یہ بھی  دعویٰ کیا کہ  تحریک انصاف میں  بیشترعہدیدار  خواتین  صرف اس کے لمس کی خاطر آئی ہوئی ہیں ، جبکہ کچھ ایسی خواتین بھی ہیں   جو عمرن خان کی پرسنالٹی کو کیش کرواتے ہوئے نوجوان لڑکیوں کو  اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہیں  بہر حال عمران خان کے بارے میں میڈیا میں اتنا کچھ شائع ہو چکا ہے ۔ کہ  شاید ہی کسی  پاکستانی  کے سیکینڈلز  کے بارے میں  اتنا کچھ لکھا گیا ہو  اس لئے یہاں پر ہر واقع  کی تفصیل میں جانے کےبجائے  چیدہ چیدہ واقعات کا حوالہ دیا جا رہا  ہے ۔ کیونکہ ہمارا مقصد  جنسی لطف لینا نہیں  بلکہ حقائق کو ایک جگہ  یکجا کرنا ہے ۔

٨٠ کی دہائی میں  جب عمران خان نے  پاکستانی کرکٹ  ٹیم کے ہمراہ  انڈیا کا دورہ کیا  ۔ ایک طرف تو انڈین کرکٹ کے کھلاڑی  اس کی تیز باؤلنگ سے خوفزدہ  رہے تو دوسری جانب انڈین فلم انڈسٹری  کی خوبصورت ہیروئنوں  کی دل کی دھڑکن عمران خان بن گیا۔ اس سکینڈل میں زینت امان کا نام  پاکستانی اور انڈین  پریس نے نمایاں طور پر شائع کیا ۔ اس دورے میں عمران خان کا پٹھا تیز باؤلنگ سے چڑھ گیا جبکہ اس تکلیف کو سکینڈل میں  تبدیل کر دیا گیا اور یہاں  تک اخبارات نے شائع کر دیا کہ  عمران خان  نے  زینت  امان  سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا بعد میں یہ صرف سکینڈلز کی صورت بن کر رہ  گیا ۔ اس کے بعد انڈیا کی ایک اور نامور  ایکٹرس  ریکھا کے بارے میں بھی  اخبارات میں  دونوں کا رومانس  اور سکینڈل شائع ہوا ۔  عمران کی اسکینڈل لائف میں  ایشیائی  خواتین  اتنی تعداد میں نہیں  جتنی غیر ملکی لڑکیوں کے بارے میں  اس کے اسکینڈل  بنے ۔شاید اس کی  وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے  کہ اس کی عمر کا زیادہ تر حصہ  یورپ اور مغربی ممالک میں گزرا ہے ۔  مغربی مما لک  کی  حسین ترین لڑکیاں  جو عمران خان کی محبت میں گرفتار ہوئیں  اور بعد میں اسکینڈل بن کر رہ گئیں  ان میں میری بل ون ، ریما سارجنٹ ، لیڈی لیزا کیمپ بل ،سیلو گولڈ اسمتھ  ٹیفیکن بیچم لیلو، بلیکر کرولائن  کیٹ اور نیو یارک کی قانون کی طالبہ  شیرون سلور نمایاں ہیں جس نے عمران خان کو کنگ کا نام دیا ۔ شیرون سلور نے نیچرل ہسٹری  میوزیم میں کینسر ہسپتال  کی تعمیر میں امداد کرنے کے لئے  فنڈ کا اہتمام بھی کیا  اس میں ڈوچس آف یاک کی آئی وینا ٹرمپ،پا میلا سٹیفن سن  اور جیری ہال کے نام بھی شامل ہیں ۔

ہانگ کانگ سے ٹیلی کاسٹ ہونے والی نشریات  ایم، ٹی ،وی کی ایک اناؤنسر نے  93ء میں اپنے ایک انٹر ویو میں کہا  کہ اس کے تعلقات عمران خان سے ہیں  اور وہ جلد شادی کرنے والے ہیں  ٹی۔وی کی اس اناؤنسر باربرا نے  اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ  ہر صورت میں عمران خان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہے  اس نے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  عمران خان زبردست وطن پرست ہیں   اسے بات بات پہ پاکستان نظر آتا ہے ۔ یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اسے ہم بھی نظر آنا چاہئیں ۔

اسی ضمن میں  آسٹریلیا  کی متعدد  خواتین کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو عمران خان سے شادی کرنے کی خواہش مند تھیں  بلکہ وہ تو اس کی خاطر پاکستان آنے کو بھی تیار تھیں  لیکن عمران خان نے ان کے بارے میں اپنے  بننے والے سکینڈلز سے انکار کیا ۔ آسٹریلین  خاتون  ٹموتھی بیریمن نے بر ملا  عمران خان  سے اپنی محبت کا اعتراف بھی کیا

١٩٩٤ کے آخر ی مہینے  میں  اخبارات  میں خبر  شائع  ہوئی کہ  کرکٹر عمران  خان  ایک جرمن دوشیزہ  کرسٹائین  بیکر  کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں  غور کر رہے ہیں  ایک مقامی ہفت روزہ  نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے  لکھا کہ عمران خان گزشتہ سال  اپنے دوست رولنگ  سٹون کی پچاسویں سالگرہ کی  تقریب میں شرکت کے لئے جرمنی گئے تو وہاں پر ان کی ملاقات  کرسٹائن بیکر سے ہوئی۔ کرسٹائن  بیکر نے  پاکستان کے کئی دورے کئے  اور ان کے  جواب میں  اور ان کے جواب میں عمران خان بھی  اس سے ملاقات کرنے کے لئے   جرمنی گئے۔ اسی سال جنوبی افریقہ کے دارالحکومت  میں جو ہنسبرگ میں  منعقد مقابلہ حسن میں بھارتی  نژاد حسینہ ایشویریہ رائے نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ  میں عمران خان کی پجارن ہوں  اور کینسر ہسپتال کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے  تیار ہوں ۔

کرکٹ کی دینا کے کئی کھلاڑی  اس بات کے گواہ ہیں کہ  کئی بھارتی اداکاریں  شارجہ میں عمران خان کے ساتھ  راتیں گزارا کرتی تھیں ۔ جن میں حسینہ عالم ایشوریہ رائے ، اور بھارت کی صف اول کی اداکاراؤں میں پوجا بھٹ ، سری دیوی بھی شامل تھیں ۔ کئی حسینائیں ” جیون ساتھی” بننے کی   خواہشات کے تابع عمران خان  کی جنسی خواہشات کی جنسی تکمیل کرتی رہیں ۔

عمران خان بھارتی حسینہ ایشوریہ رائے میں  اس قدر دلچسپی رکھتے تھے  کہ انہوں نے اسے  ” مقابلہ حسن” میں شرکت کرنے سے روکا۔ ایشوریہ رائے عمران خان کی حقیقت جان چکی تھی  ۔ اس لئے وہ مقابلہ حسن میں گئی اور کامیاب ہو گئی اس کے بعد اس کی رگ پھر پھڑکی اور  اس نے عمران خان کو  پیشکش کی کہ  وہ اس کی تمام رقوم کے  کے لالچ کے ٹارگٹ پورے کر سکتی ہے ۔ لیکن وہ ایسا صرف عمران کے ساتھ شادی کی صورت میں کے گی۔ عمران خان نے اس کی پیشکش کو قبول کیا  لیکن شادی کے معاملہ میں گومگو کی کیفیت  اس لئے برقرار رکھی  کہ اس طرح عمران خان کی ” مارکیٹ ویلیو ” متاثر  ہوتی تھی ۔اسی طرح پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ  ریشم  اور بابرہ  شریف پر عمران خان کےساتھ   تنہائی کے دوران ملاقات  میں جو بیتی اس کی گواہی  پوری فلم انڈسٹری دے سکتی ہے ۔ گلو کارہ ناہید اختر شادی کر کے  گلو کاری کو  خدا حافظ کہ چکی ہے  اس کا نام بھی عمران خان کے نام لیواؤں میں ایک عرصے تک لیا جاتا رہا ۔

ایک کردار بھارت کی نامور فلمی اداکارہ ” ریکھا ” ہیں ۔ ریکھا کے ساتھ عمران کے دوستانہ مراسم  کے قصے دونوں نامور  ہستیوں کے کیرئیر کا حصہ ہیں  ۔ سانولی رنگت اور تیکھے نقوش والی  بھارت کی سدا بہار  ہیروئن ریکھا  نے اس ضمن میں  کسی ہچکچاہٹ  کے بغیر  کھلے لفظوں میں یہ اعتراف کیا ہے کہ  اس کے اور عمران خان کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہیں  ۔ ریکھا کی یہ اخلاقی جرات خواہ ہندو یا پاکستانی معاشرہ میں آتی ۔ ریکھا نے دوستی کے اس حق کو ادا کرتے ہوئے  لاہور کے ایک  شو میں بھی شرکت کی جو  کینسر ہسپتال  کے لئے رقم اکٹھی  کرنے کی غرض سے عمران خان نے  منعقد کیا تھا ۔ ریکھا نے اس شو میں فن کا مظاہرہ بھی کیا  ۔ جس کی وجہ سے عمران خان کو اپنے مشن میں کامیابی کے لئے  خاصی خطیر رقم مل گئی اور اس عرصہ کے لئے  ریکھا کی قربت بھی ۔

عمران خان کے حوالے سے ایک ” ارجنٹائین ” کی ایک خوبرو دوشیزہ  ” لوسی ” نے بھی  خصوصی شہرت حاصل کی اندرون و بیرون ملک میں یہ بات  عام ہو گئی کہ عمران خان لوسی کو بیوی بنا رہے ہیں  ۔ لیکن وہ  بیوی بننے کے  سے محروم رہی ۔ اس کا حسن اور مال و دولت بھی  اسے خان کے دل کی رانی نہ بنا سکے۔ اس طرح لندن کی ایک گوری  ” جین” کے بارے میں بھی کہا جاتا تھا  کہ ان دونوں کے  تعلق کوئی نہ کوئی شکل ضرور اختیار کر لیں گے ۔جین کا باپ ایک بین الاقوامی تاجر ہے  اور صنعت کاروں کی صف اؤل میں شمار ہوتا ہے۔تعلقات  کے دوران  عمران خان اور جین کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے نذدیک  دونوں کے تعلقات دیر پا ہوں گے  جین بھی کینسر سے نفرت کرتی ہے  اور میڈیکل کی اعلیٰ  تعلیم حاصل کرنے کے بعد ” کینسر” پر ریسرچ کر رہی ہے  ۔جین کے بارے میں جب افواہیں سامنے آئیں   تو عمران  خان نے حسب دستور اس کی تردید کی   مگر جین کے دورہ پاکستان نے  ” سچ ” کا بول بالا کر دیا  اور کئی روز تک عمران خان کی  مہمان رہی اور یوسف صلاح الدین نے  ان کے اعزاز میں ایک  شاندار دعوت کا بھی اہتمام کیا   مگر یہ عشق بھی منزل تک نہ پہنچ سکا۔

عمران خان اور سوزانا کانسٹائن  جب لندن  کے ایک  نائٹ  کلب  میں ساتھ  ساتھ  نظر  آنے لگے  تو برطانوی  اخبارات نے  اس کو سکینڈل کا نام دیا اور یہا ں  تک کہ دیا کہ  وہ عنقریب اس دوشیزہ سے شادی کرنے والے ہیں ۔ عمران خان کے  بارے میں ایسی خواتین  کے بھی سکینڈل بنے  جن کو وہ جانتے تک بھی نہیں  ، ان میں سوزینہ نامی برطانوی  دوشیزہ بھی شامل ہے  جس نے برملا عمران خان کے ساتھ  اپنی محبت کا اظہار کر کے  شادی کا ارادہ کیا ۔

انہی دنوں عمران خان کے بارے میں برطانوی اخبارات نے قیاس آرئیاں  شروع کر دیں کہ عمران  خان  یقیناََ ، اشالو ہائٹ، ریما سارجنٹ ، لیزا ان تینوں میں سے کسی ایک  سے ضرور شادی کر لیں گے  اور اگر ان کی شادی کسی بھی برطانوی حسینہ سے ہو گئی  پھر وہ  عملی طور پر  سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے  لیکن بعد میں یہ رومانس بھی  اسکینڈل کی صورت بن کر ختم ہو گیا۔ عمران خان کی جب  شیرون سلور سے دوستی کا چرچہ ہوا  تو اس کے بارے میں برطانوی  پریس نے لکھا کہ  1970ء میں جب عمران خان نے انگلینڈ کا دورہ کیا  تو ان کی والدہ نے نصیحت کی تھی  کہ وہ کسی غیر ملکی سے شادی ہر گز نہ کریں ۔ شروع میں عمران خان پر اس  نصیحت کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے عالمی  مصورہ  ریما سارجنٹ  کی محبت کو ٹھکرا دیا اور اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ  وہ جب بھی شادی کریں گے مسلمان اور ملکی لڑکی سے شادی کریں گے ۔ لیکن ان کی یہ بات  آج 25 سال بعد غلط ثابت ہو گئی ۔

برطانوی اخبار  ڈیلی میل نے اداکارہ جیتا فاسیو  کے بارے میں بھی لکھا کہ  وہ عمران خان کی محبت میں  گرفتار ہونے کے بعد  اس سے شادی کرنے کی خواہش مند ہے ۔ اسی طرح 90 کی دہائی میں  عمران خان  کے بارے میں ایک خبر شائع ہوئی کہ  عمران خان نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے  وہ عنقریب  ایک جرمن خاتون  جو پیشے کے لحاظ سے اناؤنسر ہیں  شادی کرنے والے ہیں  عمران خان کے اس فیصلے کی خبر جب ان کے گھر  زمان پارک پر پہنچی تو وہاں پر  ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔ ان کی بہنوں کے خواب ادھورے رہ گئے ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کے والدنے اس کی شادی  بیوہ کزن کے ساتھ کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔

……ابھی جاری ہے

(ماخذ : پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here