عمران خان کی رنگینیاں – پارٹ 2

Imran Khan colorful nights part 2
Imran Khan colorful nights part 2

یہاں اگر  سیتا وائٹ کا ذکر نہ کیا جائے تو پڑھنے والوں  پر یقیناََ زیادتی ہو گی ۔ کیونکہ یہ وہ خاتون  ہیں  جس نے عمران خان کو سب سے زیادہ ” ڈسٹرب” کیا  حتیٰ کہ عوامی و سیاسی حلقے کی سیاست میں ان کی ناکامی کا ذمہ دار بھی وہ  سیتا وائٹ کو ہی ٹھہراتے ہیں  جس نے عین انتخابات کر دوران عدالت میں عمران خان کو گھسیٹ لیا کہ  وہ اپنی ناجائز  بیٹی  ٹیری کو اپنی بیٹی تسلیم کرے۔

برطانوی اخبار ڈیلی ایکسپریس نے  برطانوی لارڈ وائٹ  کی بیٹی سیتا کے حوالے سے ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی  جس میں بتایا گیا کہ سیتا نے ایک بیٹی کو جنم دیا  ہے ۔برطانوی صحافی  راس بینن نے اس بچے کو عمران خان سے منسوب کر دیا ۔اس واقعہ نے عمران خان کی پیشہ ورانہ زندگی پر  نہائیت ہی بد ترین اثر ڈالے ۔

لاس اینجلس سے شائع ہونے والے اخبار ” پاکستان لنک ” میں شائع  ہونے والے خصوصی انٹرویو میں سیتا وائٹ نے کہا  کہ ٹیریان  میرے اور عمران خان  کے  رنگین و سنگین جسمانی تعلق  کا خوبصورت  “نتیجہ” ہے ۔ اور میں عمران خان کی اجازت سے اس بچی کی ماں بنی تھی  ۔ میدان سیاست میں کودنے سے پہلے عمران خان نے ٹیریان  کے اپنی بیٹی ہونے کی  کبھی تردید نہیں کی تھی  ، اسلئے میں پاکستانی عوام کو  عمران خان کا اصل  چہرہ دکھانے کے ساتھ ساتھ  اس کی بیٹی ٹیریان کی بھی مدد کرنا چاہتی ہوں ، جس نے کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھا ، لیکن ہمیشہ اس کے بارے میں باتیں کرتی رہتی ہے ۔ سیتا وائٹ نے کہا کہ عمران خان  نے کبھی بھی برطانوی  اور امریکی لڑکیوں سے  اپنے تعلقات کو نہیں چھپایا ، کیا لوگوں کو علم نہیں ہے کہ  عمران خان شادی کے بغیر ایک بچی کا باپ بن چکا ہے؟   سیتا وائٹ نے انکشاف کیا کہ میں کبھی  عمران خان سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی  لیکن میں اس کا ایک بچہ پیدا کرنا چاہتی تھی  جو کہ ہمارے مغربی معیار کے مطابق کوئی بری چیز نہیں ہے ۔ اس نے عمران خان سے اپنے تعلقات کے آغاز  کا ذکر کرتے ہوئے بتایا  کہ پہلی بار لندن میں اپنی سہیلی   ٹیرنئی وڈہال  کے ساتھ اس کے فلیٹ پر گئی ، پھر ہماری دوستی ہو گئی ، اور عمران خان نے مجھے  پاکستان چلنے کی دعوت دی  ۔ اس نے انکشاف کیا کہ  میں عمران خان کے زمان پارک والے گھر میں چار ماہ مقیم رہی  ہم وہاں سے مری گئے جہاں ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے  اور شکار کھیلا ۔ پاکستان کی اہم شخصیت یوسف صلاح الدین بھی ہمارے ساتھ تھے  جب ہم شمال کے برف پوش پہاڑوں کی سیر کو نکلے  تو میں عمران خان کی ” ساتھی” تھی ، جبکہ یوسف صلاح الدین اپنی رفاقت کے لئے  ایک طوائف “گڈی” کو ساتھ لے کر گیا تھا ۔

(اس موقع پر سیتا نے  اخبار نویسوں کو  عمران خان کے سات اپنی،  یوسف صلاح الدین اور اسکی  ساتھی طوائف  ” گڈی” کی تصاویر بھی دکھائیں )

جب سیتا وائٹ کے ساتھ استفار کیا گیا کہ  عمران خان کے خاندان کو تمہارے ساتھ  اس کے تعلقات کا علم تھا  ؟  تو اس نے انکشاف کیا کہ  میں چار ماہ اس کے گھر زمان پارک میں رہی ، اس کے اہل خانہ اور دوستوں کو ہر چیز کا علم تھا ۔ عمران خان کے  خاندان کو علم تھا کہ میں اس کی گرل فرینڈ ہوں ، یہ ڈھکی چھپی بات نہیں تھی ۔ سیتا وائٹ نے کہا کہ عمران خان کے دو چہرے ہیں ۔ پاکستان پہنچتے ہی وہ بڑا قدامت پسند بن جاتا ہے ، جو لوگوں پر توجہ نہیں دیتا تھا ۔ مجھے بار بار کہتا، لوگوں کی طرف مت دیکھو ۔۔۔۔ میرے پیچھے چلو۔۔۔۔ کار میں بھی میں اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتی تھی ۔ یہاں تک کہ جہاز میں بھی  مجھے عمران خان نے پچھلی نشست پر  بٹھایا ۔ لیکن لندن پہنچتے ہی دوسرا  عمران نمودار ہو جاتا ، جہاں میں اس کی باہوں میں باہیں ڈال  کر  کھلے  عام بندوں میں  گھوم پھر سکتی تھی  اور اس سے طویل گفتگو کرتی تھی ۔ اس طرح وہ پاکستان میں مجھے لمبے بازؤں والا  لباس  پہننے پر مجبور کرتا تھا ۔ایک بار میں نے وہاں “شارٹ سکرٹ” پہنی تو اس نے مجھے ڈانتے ہوئے کہا کہ  تمہارا دماغ تو خراب  نہیں ہو گیا، یہ کیا کر رہی ہو ، انہی دنوں عمران خان نے  بتایا کہ  میں نے کرکٹ سے  ریٹائر ہو کر  پاکستان میں  زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس لئے اب ہمیں اپنی راہیں جدا کر لینی چاہئیں ، میں نے اس کی تائید کی اور  اس کے ساتھ ویڈیو فلم  بنوانے کے بعد  پاکستان کو الوداع کہ کر  لندن پہنچ گئی ۔ سیتا نے کہا کہ عمران نے اسے بتایا  تھا کہ  اسلام نے مردوں کو  ایک سے زیادہ خواتین کے ساتھ  جنسی تعلقات قائم رکھنے کی  اجازت دے رکھی ہے ۔اس کے علاوہ  عمران خان نے  مجھے پاکستان میں اپنی زندگی کے  بارے میں  مختصر  بریفنگ  بھی دی تھی  اور کہا کہ اب میں   سیاست دان بنوں گا ۔ پاکستان پہنچنے کے بعد مجھے  اندازہ ہوا کہ یہ ایک غریب ملک ہے  جہاں عمران خان کا ایک بادشاہ کی طرح استقبال کیا جاتا ہے ۔ میں یہ دیکھ کر ششدر  کہ عمران خان کے گرد ہر مقام  پر  ہجوم اکٹھا ہو جاتا تھا ۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ وہ لندن میں کرکٹ کھیل کر پاکستان میں شہرت حاصل کر رہا ہے اور وہ ہمیشہ پاکستانیوں کی نظروں میں رہنا چاہتا ہے ۔ سیتا وائٹ نے کہا کہ عمران پاکستانی لڑکیوں کے بجائے  غیر ملکی خواتین میں زیادہ مقبول رہا ہے ، اور مجھے علم تھا کہ وہ اپنی دلہن کی تلاش میں تھا ، کیونکہ وہ اپنی کئی دوستوں کو پاکستان لیکر گیا  کہ وہ پاکستان میں اس کے اہل خانہ کے ساتھ گزارا کر سکتی ہیں یا  نہیں۔ اکتوبر 1991ء میں جب عمران لاس اینجلس آیا ، اس وقت میری ایک سہیلی بھی آئی ہوئی تھی ۔ میں نے عمران سے کہا کہ میں اس کے بچے کی ماں بننا چاہتی ہوں ، اس نے کہا ” بصد شوق مجھے کوئی اعتراض نہیں ” عمران نے کہا کہ میں لڑکا چاہتا ہوں  جو کرکٹ کھیل سکے  میں نے جواب دیا  بہت اچھا، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد عمران خان واپس چلا گیا  اور چند ماہ بعد اس کا فون آیا تو میں نے اس بتایا کہ میں ” امید سے ہوں ” تو  عمران  نے بیتاب ہو کر بار بار  دریافت کیا کہ مجھے بتاؤ   کیا ہے۔۔۔۔ کیا ہے ۔۔۔۔۔ کیا ہے ۔ چار ماہ بعد ضروری ٹیسٹ کروانے کے بعد  میں نے فون پر بتا یا کہ لڑکی ہو گی ، جس پر عمران بڑا مایوس ہوا  اور مجھے کہا کہ  تمہیں حمل ضائع کروا کے اس سے جان چھڑوا لینی چاہیئے ، اس پر میں نے عمران سے کہا کہ  لڑکا نہیں ہوا تو کیا ہے ، ہماری بچی  ٹینس کھیل  سکے گی ،  وہ اداکارہ بن جائے گی ،وہ ہر کام کرے گی ، ٹیریان  دو سال کی ہوئی تو میں نے  اس کی تصویر عمران خان کو بجھوائی ، ان دنوں وہ اس بات  پر شدید  پریشان تھا  کہ  میں ٹیریان  کی  تربیت محبت اور نظم و ضبط سے کروں ۔ اس وقت تک ہمارے تعلقات میں  سرد مہری پیدا ہو چکی تھی  اور غالباََ  1994ء میں اس نے جمائما سے محبت کا کھیل   شروع کر دیا  تھا اور پھر اس کی ٹیلی فون کالز میں  طویل وقفے بڑھتے  گئے  اور جب کبھی   میں نے  اس کے دفتر  فون پر عمران سے بات کرنا  چاہتی  تو میری اس سے بات نہیں کروائی جاتی تھی  اور پھر اس نے جمائما سے شادی کر لی ۔ ٹیریان کے  پیدائشی سرٹیفیکیٹ میں والد کے خانے میں  عمران خان کا نام نہ ہونے کے بارے میں  سوال کا جواب دیتے ہوئے  سیتا نے کہا کہ  اس وقت میں  نے نام نہیں  لکھا تھا لیکن اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ  میں اب بھی ایسا ہی کروں گی ۔ کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ ” غیرت مند مسلمان” نامی کتاب کا مصنف  اور تحریک انصاف کا سربراہ اپنی بیٹی کے ساتھ بھی انصاف کرے اور اسے باپ کا پیار دے ۔

مذکورہ بالا واقعات  محبوب لیڈر  عمران خان کے  ذاتی  کردار کے عکاس ہیں ۔ ہم اپنی پاکبازی  کا دعویٰ نہیں کرتے ۔ مگر کیا  لیڈروں کو ایسا ہی ہونا چائیے ؟  جیسا کہ مندرجہ  بالا واقعات  سے ظاہر ہوتا ہے ؟یقیناََ نہیں ۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ  اور سیاست میں دلچسپی  کے دوران  خوبرو لڑکیاں اور دوسرے لوگ  اپنے سبز باغ عمران خان کے ہاتھوں دیکھنے کے بعد  اپنا راستہ بدل گئے ۔ ایک روز معروف امریکی صحافی  کرسٹینا لیمب عمران کے ساتھ تھی۔

وہ اسے اپنے سیاسی رہنما کے  پاس  لے گیا  اور  ان سے ملتجی ہوا کہ  وہ اس کی دوست لڑکی کو دیکھیں اور اپنی مردم شناسی کی اہلیت کو کام لا کر رہنمائی کریں  کہ آیا اس صحافی خاتون سے شادی کرنی چایئے یا نہیں ؟ اس سوال کا جواب جنرل حمید گل  اور عمران خان کے درمیان ایک راز ہے ۔

 جو بات  راز نہیں ہے  وہ یہ ہے کہ  اس دن کے بعد عمران طویل عرصہ  کے لئے برطانیہ چلا گیا ، پھر ایک روز اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ  اس کی منگنی سر جیمز  گولڈ اسمتھ کی بیٹی  ” جمائمہ گولڈ اسمتھ ” کے ساتھ ہو گئی ہے  ۔ جو  بالآخر شادی پر منتج ہوئی۔

ادارے کا  اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں  چونکہ یہ کہانی  ( پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)  سے ماخذ ہے  اور عمران خان کی زندگی کے اس سے بعد  کے   حالات ، واقعات آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں کیونکہ سیاست دان کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی ۔

عمران خان کی رنگینیاں – پارٹ 1

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here