آئی جی سندھ تقرری کیس: یہ نہیں مان سکتے جب چاہیں آئی جی تبدیل کردیں، چیف جسٹس

IG Sindh Appeal Case: This can not be said whenever we want, will change IG, Chief Justice
IG Sindh Appeal Case: This can not be said whenever we want, will change IG, Chief Justice

:اسلام آباد

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تقرری کے کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس کا کام کسی سیاسی مداخلت کے بغیر ہونا چاہیے اور ہم یہ بات نہیں مان سکتے کہ آپ جب چاہیں آئی جی کا تبادلہ کردیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سندھ حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ اےڈی خواجہ سےکیوں پریشان ہیں؟ ان کی تعیناتی کے کتنے دن رہے گئے ہیں جو آپ پریشان ہیں؟

اس پر فاروق نائیک نے جواب دیا کھل کرکہتا ہوں کہ اے ڈی خواجہ سے کوئی پریشانی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی پریشانی نہیں تو اس کیس کو 2سال کے لیے ملتوی کردیتے ہیں،  فاروق نائیک نے جواب دیا کہ آپ ملتوی کردیں، میں قانون کی بات کررہاہوں۔

فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر قدغن نہیں لگا سکتی، پارلیمنٹ نےاختیار صوبائی حکومت کو دیاہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صوبے میں اہم عہدوں پر افسران کی تقرری کی معیاد 3 برس ہے، لگتا ہے سندھ ہائیکورٹ نے یکسانیت پیدا کرنے کے لیے آئی جی کی مدت بھی 3 سال کردی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آئی جی کو صوبائی حکومت کے کہنے پر ہٹا دیاجائے یہ صوبے کے مفاد میں ہوگا؟ پولیس کا کام کسی سیاسی مداخلت کے بغیر ہونا چاہیے، ہم یہ بات نہیں مان سکتے کہ آپ جب چاہیں آئی جی کا تبادلہ کردیں۔

سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ پولیس کے حوالے سے 4 قوانین ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے 1861 کا قانون ریوائز کردیا ہے، مجھے موقع ملا تو پولیس کا یونیفارم لاء ہوگا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی۔

واضح رہےکہ سندھ حکومت نے آئی جی کی تبدیلی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور اس کے لیے وفاقی کابینہ سے بھی منظوری لی گئی۔

سندھ حکومت نے آئی جی کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے بھی صوبائی حکومت کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here