بارش کو کس طرح ناپا جاتا ہے؟

How is the rainfall measured?
How is the rainfall measured?

پیارے بچو! تم نے اکثر دیکھا ہے کہ بار ش سے پہلے آسمان بادلوں سے گھر جاتا ہے اور بغیر بادل کے بنے ہوئے بارش کا ہونا ممکن نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر بادل بارش نہیں کرتا اور بارش کےلئے کچھ خاص قسم کے بادل ہوتے ہیں، جنہیں ہم ’’برساتی بادل‘‘ کہتے ہیں۔

بادلوں تک اوپر جانے سے پہلے یہ پانی زمین پر ہی ہوتا ہے۔ سمندر کی اوپری سطح سے مسلسل پانی بھاپ کی شکل میں نکل کر فضاء میں پھیلتا رہتا ہے اور اونچائی پر بادلوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مثلا جب ہم کسی برتن میں پانی گرم کرتے ہیں تو اس سے بھاپ نکلتی ہے اگر اس پر ایک ڈھکن رکھ دیں تو پانی کے قطرے اس پر جمے ہوئے دکھائی دیں گے، بالکل اسی طرح زمین سے پانی بھاپ کی شکل میں اُڑ کر برساتی بادل کی شکل اختیار کرلیتا ہے، پھر یہی پانی کے بہت سارے قطرے آپس میں مل کر بارش کرتے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ فضا میں اونچائی کے ساتھ ساتھ ہوا کا درجہ حرارت کم ہوتا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر پانی کے جماؤں کی سطح بنتی ہے۔

یہ جماؤ کی سطح مختلف موسموں میں الگ الگ ہوتی ہے۔ جمنے والے قطروں کے یہی بادل بارش کرتے ہیں یہی پانی کے چھوٹے ذراتی قطرے آپس میں ٹکراتے ہیں اور ٹوٹ کر زمین پر ٹپکنے یا برسنے لگتے ہیں اور پھر برسات شروع ہو جاتی ہے۔ بادلوں سے نکلی ہوئی بوندیں شروع میں بہت بڑی ہوتی ہیں لیکن زمین تک پہنچتے پہنچتے بہت چھوٹی ہوجاتی ہیں۔

بارش (Rain) بادلوں سے زمین کی سطح پر پانی کے قطروں کا علیحدہ علیحدہ گرنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ بارش زراعت اور پودوں کے لئے زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اوسطاً بارش کا ایک قطرہ ایک یا دو ملی میٹر قطر کا ہوتا ہے۔

مون سون ہے کیا؟ 

عام طور پر اس کا مطلب زمین اورسمندر پر گرمی کے ساتھ فضا میں تبدیلی لیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر مون سون، بارشوں اور موسم کے بہت بڑے نظام کا نام ہے۔ مون سون ہواؤں، بادلوں اور بارشوں کا ایک نظام ہے۔ یہ موسم گرما میں جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرقی ایشیاء میں بارشوں کا سبب بنتا ہے۔

اپریل اور مئی کے مہینوں میں افریقہ کے مشرقی ساحلوں کے قریب خط استوا کے آس پاس بحر ہند کے اوپر گرمی کی وجہ سے بخارات بننے کا عمل ہوتا ہے، یہ بخارات بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مشرق کا رخ اختیار کرتے ہیں۔

جون کے پہلے ہفتے میں یہ سری لنکا اور جنوبی بھارت پہنچتے ہیں اور پھر مشرق کی طرف نکل جاتے ہیں۔ ان کا کچھ حصہ بھارت کے اوپر برستا ہوا سلسلہ کوہ ہمالیہ سے آ ٹکراتا ہے۔ بادلوں کا کچھ حصہ شمال مغرب کی طرف پاکستان کا رخ کرتا ہے اور 15 جولائی کو مون سون کے بادل لاہور پہنچتے ہیں۔ عموماً 15 جولائی کو پاکستان میں ساون کی پہلی تاریخ ہوتی ہے۔

(Rain Gauge)، ایک آلہ (Instrument) ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر بارش ہوئی۔ بنیادی طور پر بارش کے دو اہم ذرائع ہیں۔

1- قطبین پر ہوا کے دباؤ میں تبدیلی اور موسم کا بدلنا 2 – سمندر کی سطح پر موسموں کی تبدیلی کا اثر، یہ دونوں مراحل ایسے ہیں، جن کے زیر اثر بارش کے سائیکل اور اس کے نظام میں تبدیلی ہوتی ہے اور پوری دنیا میں بارش ہوتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here