وراثتی ٹکٹیں

Hereditary tickets
Hereditary tickets

:لاہور

ہم نے 26 مارچ 2018 کو ہی بتا دیا تھا کہ وراثتی ٹکٹیں تقسیم ہوں گی۔ ہم نے بتایا تھا کہ مسلم لیگ ن وراثتی سیاست کی قائلل ہے۔ سہیل ضیاءبٹ کے بیٹے عمر سہیل بٹ کو ماڈل ٹاؤن سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مل گیا جبکہ سہیل ضیاءبٹ عام عوام پارٹی کے جئیرمین ہیں جن کی پارٹی سے ملک بھر میں تقرہباََ 100 سے زائد ممبران الیکشن لڑیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے اصولی طور پر قومی اسمبلی کی 4 اورصوبائی اسمبلی کی 6 نشتیں لاہور میں  اپنے خاندان میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسطرح لاہور میں 4 ایم این اے اور 6 ایم پی اے شریف خاندان سے الیکشن لڑیں گےاور پاکستان بھر میں الیکشنز کے دنوں کے درمیان سب سے زیادہ توجہ کا مرکز لاہور رہے گا لیکن ایک طرف تو یہ خبر مسلم لیگ ن کا لاہور میں جیتنے کی نوید سناتی ہے اور دوسری جانب وہ ورکرز جنہیں ٹکٹیں ملنے کی امید تھی، جو ہمیشہ مسلم لیگ کے ساتھ تھے اور جنہوں نے اپنی جوانی مسلم لیگ کے نام کر دی اور اس وقت بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں رہےجب پاکستان مسلم لیگ کے قائدین ایک معاہدہ کرنے کے بعد ملک سے خود جلاوطنی کر کے سعودی عرب میں جا بیٹھے، اُن دنوں میں ورکرز نے مسلم لیگ میں جان ڈالی رکھی لیکن اب جو یہ فیصلہ ہونے جا رہا ہے جس کے تحت ایم این اے کی 4 نشست اور ایم پی اے کی 6 نشست نواز اور شہباز شریف خاندان کے اندر رہیں گی تو اسطرح مسلم لیگ کے مستقبل میں ان کے ورکرز کومحنت کرنے سے کیا کبھی بھی محنت کا ثمر ملے گا۔

شہباز شریف اور کلثوم نواز قومی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑیںگے۔

مریم نواز ایم این اے اور  ایم پی اے  کی نشست سے الیکشن لڑیں گی۔ حمزہ شہباز بھی ایم این اے اور  ایم پی اے  کی نشست سے الیکشن لڑیں گے۔

سلمان شہباز اور بلال یٰسین و دیگر 2 ارکان ایم پی اے  کی نشست سے الیکشن لڑیںگے۔

ایم این اے کی 1  مزید سیٹ کیلئے مذاکرات جاری ہے جو کہ شاید  سہیل ضیاء بٹ کے بیٹے کو دے دی جائے۔

کیا اسے جمہوریت کہتے ہیں؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here