بات چل نکلی ہےاب دور تلق تک جائے گی

Hamza shahbaz
Hamza shahbaz

:لاہور

تحریرو تجزیہ آغا وقار احمد

آج سپریم کورٹ آف لاہور رجسٹری میں جن واقعات کو تحقیق میں لایا گیا۔اُس میں نمبر 1 میں کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ کے ڈاکٹر سعیداخترکے کیس میں کہا کہ آپ کے ہسپتال کی بھرتیاں تمام مشکوک ہیں

آپ کن اختیارات کے تحت کنسٹرکشن کرواتےرہے اور خود اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پیسے ادا کرتے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اگلا سوال جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔کہ ڈاکٹروں کو اب جو تنخواہیں دی جا رہی ہیں وہ اب نارمل ہیں۔ڈاکٹر سعید اختر صاحب 12لاکھ لے رہے ہیں اور ان کی بیگم صاحبہ 8لاکھ روپے ماہانہ لے رہی ہیں جبکہ وہ اس عہدے کے اہل ہی نہیں۔اور آپ کے ہسپتال میں شہباز شریف کی تصویر کیوں لگائی گئی ہے جبکہ سرکاری عمارات میں صرف علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے سوا کسی کی تصویر نہیں لگائی جا سکتی۔ تو کیا آپ شہباز شریف کی تصویر اُتار کر آئے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان محمد ثاقب نثار نے 2 کاغذ ڈاکٹر سعید اختر کے ہاتھ میں تھما دیئے اور کہا کہ مجھے یہ تمام معلومات اگلی پیشی پر درکار ہیں۔

حیرت انگیز واقع تب پیش آیا۔جب چیف جسٹس آف پاکستان نے حمزہ شہباز کو عائشہ احد کے مقدمے میں طلب کیا۔مگرعائشہ احد کے مقدمے میں حمزہ شہبازکے متعلق حکومتی اراکان بلکل بتانے کو تیار نہیں تھےکہ حمزہ شہباز کہا ہیں جب چیف جسٹس نے آخری آرڈر دیاکہ حمزہ شہباز کو 1بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔تو اس وقت گورنمنٹ کا موقف آیا کہ وہ پاکستان سے باہر ہیں چند دن میں تشریف لائے گیں۔اس پر چیف جسٹس برہم

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ عائشہ احد کی درخواست پر ابھی تک مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست میں حمزہ شہباز شریف ، رانا مقبول، مقصود بٹ سمیت دیگر نامزد ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور عائشہ احد کو تحفظ فراہم کرنے کاحکم دے دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عائشہ احد کے ماتحت عدالتوں میں تمام کیسیز کی تفصیلات بھی طلب کر لی۔

آج ہی نامزدگی کے فارم میں تبدیلی کی نشاندہی اور ہائی کورٹ کے حکم پر پرانے فارم بحال کرنے کے سلسلے میں جو حکم نامہ جاری ہوا اس کے خلاف پاکستان مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ آف پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں ساری جماعتوں نے الیکشن ریفارم ایکٹ منظور کیا، اسمبلی کا کسٹوڈین ہونے کے ناطے یہ میری ذمہ داری ہے۔

مگر اچمبہ کی بات ہے کے تمام سیاسی جما عتو ں نے اپنے مفادات کی خاطر الیکشن کمیشن کے فارم میں سے اخلاقیات کی پابندی والی تمام شرائط ختم کر دی ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کی شک نمبر 62اور 63 کا بھی خاتمہ کر دیا ہوا ہے تا کہ کوئی چور بد معاش بد اخلاقی اور بد ایمانی کرنے والا فرد بھی قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن بن جائے مگر گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے درخواست پر پرانا فارم بحال کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن کا شیڈول ملتوی ہونے کا اندیشہ ہے۔

خود غرض سیاست دان اپنے مفادات کے لیے متحد ہو جاتے ہیں اور اندرون خانہ آئین میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں جس کا ادراک عام عوام کو نہیں ہوتا اور یہ تبدیلی بھی اُسی وقت روح پزیر ہوئی جس وقت انہؤن نے ختم نبوت کے قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی مگر عوام کو باقی تبدیلیوں کے متعلق معلومات آہستہ آہستہ ملتی رہیں گی اور عدلیہ نے واضح طور پر علان کر دیا ہے کہ الیکشن اپنے مقرر کردہ وقت پر ہوں گے جب کہ میرے مطابق کوئی سیاست دان جیلوں سے باہر ہوں نہ ہوں مگر الیکشن ضرور ہوں گے۔

فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کیا صرف ووٹ کو عزت دینی چاہیے یا ووٹر کا احترام لازم ہے ؟

بات چل نکلی ہےاب دور تلق تک جائے گی

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here