خلیج تعاون کونسل کا رکن ممالک کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے پر اتفاق

Gulf Cooperation Council agreed to maintain unity among member states
Gulf Cooperation Council agreed to maintain unity among member states

ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے 39 ویں سربراہ اجلاس میں کونسل کی مضبوطی اور رکن ملکوں کے درمیان اتحاد برقرار دکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اتفاق کیا گیا ہے کہ جی سی سی مشترکہ مفادات مارکیٹ کی تکمیل میں حائل تمام رکاوٹیں دورکی جائیں گی۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک جی سی سی کی وحدت کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، ایران نے دہشت گردی پر عمل جاری رکھا ہوا ہے اور اس نے خطے کے استحکام کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مسائل میں تحریکِ فلسطین کو اولیت حاصل ہے۔

امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے میڈیا کی تمام مہموں کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین اور اومان کے وفود کا خیرمقدم کیا اور ان کے سربراہوں سے ملاقات کی۔

شاہ سلمان سے ریاض کے شاہی محل میں حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم ، سلطنت آف اومان کے وفد کے سربراہ فہد آل سعید اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے الگ الگ ملاقات کی۔

خلیج تعاون کونسل کے 39 ویں سالانہ اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون ، یمن میں جاری جنگ، ایران کی علاقائی سرگرمیوں اور سیکیورٹی سے متعلق مختلف امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر غور بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھا۔

اعلامیے کے مطابق علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے خلیج تعاون کونسل اپنا کردارادا کرتی رہے گی جبکہ جی سی سی کا 40 واں اجلاس اگلے سال متحدہ عرب امارات میں ہوگا۔

خیال رہے کہ جی سی سی کا قیام 1981 میں عمل میں آیا تھا جس میں بحرین،کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سماجی و اقتصادی روابط کا فروغ، سلامتی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here