مہنگائی میں اتنا اضافہ 10 سال میں نہیں ہوا جو 6 ماہ میں ہوا: شاہد خاقان

Govt spokesman said country’s financial situation in dire straits: Khaqan Abbasi
Govt spokesman said country’s financial situation in dire straits: Khaqan Abbasi

مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ افراط زر میں اتنا اضافہ 10 سال میں نہیں ہوا جتنا گزشتہ 6 ماہ میں ہوا ہے۔

اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ معیشیت کی شرح نمو آدھی ہو کر رہ گئی ہے، پاکستان کو 1400 ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کی وجہ سے 400 ارب روپیہ اضافی خرچہ لینا ہو گا، اضافی خرچہ لینے کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب دوسرا منی بجٹ متوقع ہے، غیر یقینی صورتحال سے اسٹاک مارکیٹ اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹوں کا ٹولہ ہے، ایک بیان دوسرے سے نہیں ملتا، وزیراعظم، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات منہ بند رکھیں یا جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں؟ عوام پر اضافی ٹیکس لگانا چھوڑ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی امیر کی جگہ ٹیکس دے رہا ہوتا ہے، حکومت نے ٹیکس ریفارمز واپس کرنے کی کوشش کی، ہم نے 5 سال میں ثابت کیا کہ معیشت آئی ایم ایف پروگرام میں جاسکتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو وزیر جیب میں پستول لے کر پھرتا ہے اسے کیا معلوم کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سیکرٹری کو پیش ہونا ہوتا ہے۔

اپنے اوپر پی آئی اے کو تباہ کرنے کے الزامات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں ڈھائی سال پی آئی اے میں رہا ہوں، ریکارڈ دیکھ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئر بلیو 2004 میں بنائی لیکن میں اب اس کا مالک نہیں ہوں، میرا 5 سال سے ایئر بلیو کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ کمپنی اب بھی موجود ہے اور ٹیکس دے رہی ہے۔

نواز شریف سے متعلق سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرام کوٹ لکھپت جیل میں نہیں بلکہ بنی گالا میں ہوتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ رزاق داؤد کو 20 سال سے جانتا ہوں وہ ایک باوقار شخص ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ مہمند ڈیم کی بنیاد نواز شریف حکومت نے رکھی اور عبدالرزاق داؤد نے مہمند ڈیم کے لیے بھی بولی لگائی تھی جسے ہماری حکومت نے قبول کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ رزاق داؤد اب سیاست میں ہیں، فیصلہ انہیں کرنا ہے، وہ خود وضاحت کریں کہ حکومت میں رہتے ہیں یا اس بولی سے نکلتے ہیں۔

ڈاکٹر فرخ سلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فرخ سلیم نے معیشت سے متعلق خطرناک باتیں کیں، معاشی امور پر حکومتی ترجمان نے جو کہا وہ انتہائی غیرمعمولی باتیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فرخ سلیم نے کہا حکومت معاشی مسائل کو حل نہیں کر رہی، ڈاکٹر فرخ سلیم نےکہا کہ حکومت جھوٹ بول رہی ہے، فرخ سلیم نے بتایا کہ اضافی قرضے لیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اپنے ترجمان نے حکومت کی پالیسی کو چیلنج کیا اور تنقید کی، حکومتی ترجمان کہہ رہے ہیں کہ خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے، ہم فرخ سلیم کی بات پر یقین کریں یا وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات کے بیان پر یقین کریں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمان نے کہا کہ حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے کچھ اور سوچنے کی ضرورت ہے، اگر خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں تو سب کو تشویش ہونی چاہیے، ایسے غیرمعمولی حالات کبھی پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرخ سلیم نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر دس سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں اکثر لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ ان کا کیا کام ہے، عمران خان بھی اکثر بھول جاتے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ نوبت یہاں تک آئی ہے کہ حکومتی ترجمان خود ہی تنقید کر رہا ہے، ایسا گزشتہ 32 سال میں نے دیکھا گیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا فرخ سلیم کا دعوی تھا کہ وہ ترجمان ہیں، فرخ سلیم خود ساختہ ترجمان تھے تو ان کے خلاف پرچہ درج کیا جائے، فرخ سلیم کیسے حکومتی اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here