حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلئے اپوزیشن کیخلاف پریس کانفرنس کرتی ہے: ن لیگ

Govt repeating container allegations: Maryam Aurangzeb
Govt repeating container allegations: Maryam Aurangzeb

:اسلام آباد

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہنا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس کرتی ہے۔

اپنے بیان میں ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان روز اپنی جھوٹی کمپنی سے پریس کانفرنس کراتے ہیں اور وہی گھِسے پسے جھوٹے الزامات، پھر وہی کنٹینر والے جھوٹ، اب الزامات نہیں، کرپشن ثابت کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پورے پاکستان کے ادارے ہیں لہذا اپنی جھوٹی کمپنی سے جھوٹ نہ بلوائیں اور الزامات نہ لگائیں بلکہ کرپشن کے ثبوت دیں اور کارروائی کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ سے واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام ملاقات نہیں کررہے، جس کا غصہ اپوزیشن پر نکالا جارہا ہے، عوام آپ کے جھوٹ، ڈھونگ اور ڈرامے سمجھ گئی ہے، ترقی کی شرح آدھی اور مہنگائی تین گُنا کیسے ہوئی؟ اس کا جواب دینا ہوگا۔

ترجمان کے مطابق عمران خان نے 28 سال کی عمر میں آف شور کمپنی متعارف کروائی اور بنی گالہ کا بے نامی محل لیا، ان کی بہن علیمہ خان نے غیر قانونی بے نامی جائیدادیں خریدیں۔

’شوکت خانم کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ٹرسٹ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پی آئی ڈی میں تین بہروپیوں نے پریس کانفرنس کی، فواد چوہدری جھوٹ بولنے والے روبوٹ ہیں، وہ پہلے علیمہ آپا کی سلائی مشین کی وضاحت کریں اور پھر تھوڑا تعارف روبینہ باجی کا بھی کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ان داتا جہانگیر ترین منی لانڈرنگ کے ماسٹر ہیں، نیب عمران خان کے فرنٹ مین شہزاد اکبر کے ماتحت ہے، نیب علیمہ آپا اور روبینہ باجی کو کیوں نہیں بلاتا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شوکت خانم کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ٹرسٹ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی جس میں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here