مرزا غالب کی 220 ویں سالگرہ، گوگل کا بھی خراج عقیدت

Google pays tribute to Mirza ghalib on his 220th birthday anniversary
Google pays tribute to Mirza ghalib on his 220th birthday anniversary

:لاہور

اردو زبان کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی آج 220 ویں سالگرہ ہے۔

اس موقع پر گوگل نے بھی مرزا غالب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک ڈوڈل تخلیق کیا، جس میں غالب کو کاغذ اور قلم تھامے اپنے تخیلات کو یکجا کرنے میں مگن دیکھا جاسکتا ہے۔

گوگل ڈوڈل کے پس منظر میں مغل طرز تعمیر کی ایک عمارت بھی نہایت بھلی معلوم ہورہی ہے۔

مرزا اسد اللہ خان غالب، جنہیں لوگ پیار سے ‘مرزا نوشہ’ کہتے تھے، 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور لڑکپن سے ہی شاعری کا آغاز کردیا۔

١٨١٢ میں وہ دلی چلے گئے  اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔

شاعری ہو یا نثر، انشا پردازی ہو یا خطوط نویسی، غالب نے ہر شے میں منفرد و رنگین جدتیں پیدا کیں۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے

:غالب کو مشکل سے مشکل موضوعات کو نہایت سادگی سے بیان کرنے کا ملکہ حاصل تھا، بقول غالب

نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو

محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گم نام رہو

 اُن کی شاعری کا حسنِ بیان اپنی جگہ مُسلَّم ہے، مگر اُن کا اصل کمال تلخ حقائق کا ادراک اور انسانی نفسیات کی پرکھ ہے اور اسی کو غالب نے نہایت آسان الفاظ میں ڈھالا۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

الغرض زندگی کی تمام کیفیتیں، احساس کی کروٹیں اور خیال کے زاویے، مرزا غالب کی شاعری میں سبھی کچھ ملتا ہے۔

:غالب نے فرمایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی، دردِ لادوا پایا

:ایک اور جگہ غالب کہتے ہیں

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

 1850 میں مغل بادشاہ، بہادر شاہ ظفر نے انہیں مختلف خطابات سے نوازا۔

غالب پر کئی ڈاکیومینٹریز، فلمیں اور ڈرامے بھی بنتے رہے ہیں۔

فارسی اور اردو شاعری کے نوشہ میاں کے قلم کا اعجاز ہے کہ آج اردو دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔

غالب کا انتقال 15 فروری 1869 کو ہوا۔

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here