ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 16 فیصد اضافہ

FBR tax receipts increase by 16%
FBR tax receipts increase by 16%

:اسلام آباد

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے مالی سال 18-2017 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران ٹیکس وصولیوں کے اعداد و شمار جاری کردیے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 18-2017 کے ابتدائی 10 ماہ میں 2922 ارب روپےکےمحصولات اکٹھے ہوئے۔

ایف بی آر کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران 2513 ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے یعنی ایف بی آر کی محصولات کی وصولیوں میں 16 فیصداضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی 10 ماہ میں 68 ارب روپے کے ری فنڈز بھی جاری کیے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 53 ارب روپے کے ری فنڈ جاری کیے تھے۔

ایف بی آر کے مطابق اپریل کے مہینے میں میں 295 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کیے گئے جبکہ مارچ میں 252 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کیے گئے تھے، مارچ کے مقابلے میں اپریل میں وصولیوں میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خیال رہے کہ 8 اپریل کو صدرمملکت ممنون حسین کے دستخط کے بعد ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔

اسکیم کے تحت 2 فیصد ٹیکس دے کر بیرون ملک سے جتنے چاہیں پیسے پاکستان لائے جا سکیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت پاکستان کا کوئی بھی شہری اپنے غیر ملکی اثاثوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے ظاہر کر سکے گا۔اس اثاثے کی مالیت مارکیٹ ویلیو کے حساب سے طے کرے گا اور یہ اثاثے 10 اپریل سے 30 جون 2018 تک ظاہر کیے جا سکیں گے۔

ظاہر یا پاکستان لائے جانے والے غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس ادا کرکے انہیں ریگولرائز کیا جا سکے گا اور جو غیر ملکی اثاثے پاکستان نہ لائے جائیں ان پر ان کی ظاہر کردہ مالیت کا 5 فی صد ٹیکس دینا ہوگا۔

پاکستان کے باہر غیر منقولہ اثاثے ظاہر کرنے پر ان پر ان کی مالیت کے 3 فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ اگر بیرون ملک موجود سیال اثاثے پاکستان واپس لا کر حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا تو ان پر 2 فیصد ٹیکس لگے گا، لیکن ان پر 3 فیصد کے حساب سے منافع بھی ملے گا۔ جو سیال اثاثے پاکستان لائے جائیں گے ان پر 2 فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور یہ تمام ٹیکسز ڈالر میں ادا کیے جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here