ایف بی آر نے آن لائن ٹیکس ادائیگی کی سہولت متعارف کرادی

FBR introduced online tax payment facility
FBR introduced online tax payment facility

:اسلام آباد

 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس دہندگان کے لیے انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم،موبائل بینکنگ سمیت دیگر آن لائن ذرائع سے ٹیکس واجبات جمع کروانے کا طریقہ کارمتعارف کروادیا ہے۔

’’نجی چینل کو دستیاب دستاویزکے مطابق ایف بی آر نے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے واجبات متبادل ڈلیوری چینل (اے ڈی سی) سسٹم کے تحت انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم، موبائل بینکنگ سمیت دیگر آن لائن ذرائع سے ٹیکس واجبات جمع کرواسکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنے کسی بھی کمرشل بینک اکاؤنٹ سے انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم، موبائل بینکنگ کے ذریعے کہیں سے بھی اپنے ٹیکس واجبات جمع کرواسکتے ہیں۔ اس اقدام سے نظام میں مزید بہتری آئے گی اور پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ 

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کوانٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم، موبائل بینکنگ سمیت دیگر آن لائن ذرائع سے ٹیکس واجبات جمع کروانے کے لیے پہلے مرحلے میں ایف بی آرسسٹم سے لاگ ان ہونا ہوگا اور پہلے کی طرح پیمنٹ سلپ آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) تیار کرنا ہوگی مگر پی ایس آئی ڈی پر اے ڈی سی پیمنٹ موڈ کا انتخاب کرنا ہوگا اور ٹیکس دہندگان کو مزید پراسیس کے لیے پی ایس آئی ڈی نمبر نوٹ کرنا ہوگا۔

تیسرے مرحلے میں ٹیکس دہندگان کو اپنے متعلقہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے آن لائن بینکنگ سسٹم سے لاگن ان ہو ہوگا اور اس کیلیے اپنے کمپوئٹر کے ذریعے اور موبائل بینکنگ کے ذریعے لاگن ان ہوں گے یا پھر اے ٹی ایم کے ذریعے ٹیکس واجبات ٹرانسفر کریں گے اور اپنی پی ایس آئی ڈی نمبر انٹر کریں گے جس پر ٹیکس دہندگان کے سامنے ٹیکس واجبات کی ادائیگی کے لیے تفصیلات اسکرین پر آجائیں گی جس کی تصدیق کرنے کے بعد پیمنٹ کی جاسکے گی اور ٹیکس دہندہ کی جانب سے ٹیکس کی رقم ادا کرنے کی تصدیق کے تین گھنٹے کے اندر اندر رقم کی ادائیگی کے نشانات اور سائن آجائیں گے جس کے بعد ٹیکس دہندہ کو ای میل کے ذریعے کمپوٹرائزڈ پیمنٹ رسید موصول ہوجائے گی اور موبائل فون پر تصدیقی ایس ایم ایس بھی موصول ہوجائے گی اور ساتھ ہی کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید ایف بی آر کے سسٹم پر بھی دستیاب ہوگی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here