وسائل کی منصفانہ تقسیم

Ilyas Chadhar

الیاس چڈھر کے قلم سے

وسائل پر قابض لوگوں نے اگر مشترکہ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ کی  تو پسا ہوا طبقہ ان سے اپنے حصے کی واہ گزاری کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کی تمام عیش و عشرت چھین کر ان لوگوں میں تقسیم کر دے گا جس پر اشرافیہ نے اپنا ہاتھ صاف کیا ہے ۔

کیونکہ وطن عزیز میں اشرافیہ نے سب کچھ  بدل کر رکھ دیا ہے پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا  کہ یہاں پر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو  بلکہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ یہاں پر تمام شہریوں کے حقوق برابر ہوں ، اور حقوق کی تقسیم کے لئے  جو شخص  امین بنے یا بنائے گئے وہ ایمانداری سے وسائل کی تقسیم کی ذمہ داری پوری کریں  اگر ایسا نہ کیا  گیا تو پسا ہوا طبقہ اشرافیہ سے  سب کچھ چھین لے گا  کیونکہ جن ممالک میں اشرافیہ وسائل پر قابض ہو کر  ان کو اپنی اولاد، رشتہ داروں  اور دوستوں  میں تقسیم کر دیں ان ممالک میں اشرافیہ اور پسے ہوئے افراد کے مابین سرد جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے  جو ایک عرصے کے بعد ایک لاوے کی طرح پھٹ جاتی ہے ۔

اشرافیہ کو چاہیے کہ “عام عوام ” کے زخموں پر نمک پالش نہ کرے  کیونکہ ستر  سالوں سے عوام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے  جو ایک حقیقت ہے جس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں ۔

پاکستان ان لوگوں کا نہیں ہے جو سلام، سیلیوٹ ، پروٹو کول اور عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہیں بلکہ یہ ملک عام پاکستانیوں کا ہے  وطن عزیز سیاستدانوں و حکمرانوں اور با اثر طبقے کے لئے ہی نہیں بنا تھا  بلکہ یہ بلا امتیاز  قوم کے لئے ہے۔

مگر قوم کے بیٹے اور بیٹیاں  پڑھ لکھ کر آج اشرافیہ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ، عام عوام کے بچے اور بچیاں آج قابلیت ہونے کے باوجود  اپنا حق لینے سے قاصر ہیں کیونکہ آج ان کی جگہ کوئی اوربراجمان  ہو گیا ہےاور  جو نوکریاں “عام عوام” کے لئے تھیں وہ اقربا پروری کی نظر ہو گئیں ۔

آخر کب تک یہ چلتا رہے گا ؟ کیا اسے  جمہوریت کہتے ہیں ؟

کچھ تو خیال کریں جمہوری قدروں کی پاسداری کریں  کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے!

 عام خاندانوں  کے تعلیم یافتہ نوجوان سفارش یا سفارشی مواد نہ ہونے  کے باعث دل برداشتہ ہو کر  اپنی تعلیم اپنے فن اور اپنی صلاحیتوں کو  بیرون ملک اونے پونے  داموں بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں  اگر  انہی  نو جوانوں کو  پاکستان میں با عزت  طور پر تسلیم کر کے ان کو ان کی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں تو وہ پاکستان کی  مٹی کو سونا بنا سکتے ہیں ۔

 مگر یہ ہونا ناممکن ہے  کیونکہ جو لوگ نسل در نسل کرسیوں پر قابض ہیں وہ کسی اور کو اپنی وراثت نہیں دے سکتے  بلکہ وہ اپنی  جگہ اقربا پروری  یا اپنے کسی خوشامدی کی نظر کر سکتے ہیں ۔

اسٹیج پر کھڑے ہو کر جزباتی لہجے میں مکے لہرا کر  تقریر کرنے والے ذمہ داران خلیفہ  سے یہ سوال کریں کہ جو ڈرامہ  وہ اسٹیج پر کرتےہیں  ضمیر گواہ بنا کر بتائیں کیا وہ حقیقت ہے؟؟؟ تو یقینا وہ لوگ کوئی جواب نہیں دے  پائیں گے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب ڈرامہ کرتے ہیں اور عام عوام ان کی چکنی چیڑی باتوں میں آ کر  ان پر اعتماد کر لیتے ہیں اور  پھر یہی لوگ  عوامی  اعتماد، عوامی حقوق اور اداروں کو  دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں  ۔

ساٹھ  ستر ہزار یا ایک لاکھ ماہوار لینے والا افسر  کس طرح بنگلہ ، گاڑی اور بچوں کی بیرون ملک پڑھائی کے اخراجات  مینج کرتا ہے ؟

یہ لمحہ فکریہ ہے  کہ ایک سرکاری افسر قوم کا حق کھا کر اپنے بچے جوان کرتا ہے  آخر کیوں؟

بھوک ، مفلسی  اور بے روزگاری اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں  بس اتنا سب ہی سمجھتے ہیں  کہ اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں  جن کو ان مسائل کے حل کی ذمہ داری ملی  اور وہ اس ذمہ داری کو پورا نہ کرتے ہوئے  ان مسائل کو ان دروازوں پر لے گئے جہاں پہلے ہی  اس کی فروانی ہے ۔

 اور حق دار پاکستانیوں کو بھوک ، مفلسی اور بے روزگاری  کا ایک نا ختم ہونے والا درد دے گئے ۔

حساب تو ایک دن ان کو دینا پڑے گا  یہ جان لو کہ جب  احتسابی عمل شروع ہوتا ہے تو بہت کڑا ہوتا ہے  اس کا ایک ایک لمحہ اذیت کے پہاڑ توڑ دیتا ہے ۔

اگر تو یہ سب سہ پاؤ گے تو عوامی حقوق ہڑپ کرتے رہو اگر  ذرا بھی انسانیت کا درد رکھتے ہو تو  ہضم کئے گئے انسانی حقوق ان کو واپس کر دو ۔

کیونکہ جس دن حق دار جاگ گئے تو پھر شیشے کے محل  کچھ اور ہی داستان بیان کریں گے ۔

 آخر عوام کے لئے اتنا پیسا آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے  پاکستان کے ہر شہر اور گاؤں سے ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں  اور عوام یہ ٹیکس بخوشی دیتے ہیں ہونا تو یہ چاہیئے کہ اس ادا شدہ ٹیکس سے رعایا کو  سہولتیں ملیں اور رعایا  کی روز مرہ کی زندگی سہل  اور آسان ہو ۔

عالم اقوام میں جو ممالک آج ترقی یافتہ ہیں یا جن ممالک نے  اس حدف کو چھوا  یہ ممالک رعایا  سے ٹیکس وصول کرتے ہیں اور پھر اس ٹیکس سے رعایا کی  روز مرہ کی زندگی کی سہولتیں  اور باقی مانندہ ٹیکس سے  حکومت نے  ریسرچ اور نئی ایجادات  کے کاموں کو جاری رکھا اور وہ نئی ایجادات کے موجد بن کر  ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں ،

کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں ؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here