ناکام امورِخارجہ

AGHA WAQAR AHMED

ناکام امورِخارجہ

کسی ملک  کی ترقی  اور بین الاقوامی  طور پر اس کی اہمیت  اجاگر کرنے کے لئے  اس مملکت کے طریقہ کاروبار (جوگورنس کے نام سے جانا جاتا ہے) کا اچھا یا برا ہونا  ہی اس سلطنت  کے اندرونی و بیرونی مسائل، ان کے حل  اور  خطے میں اس کی انفرادیت  کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں امریکہ کا پاکستان کو آنکھیں دکھانا درحقیقت  ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے اور اس ناکامی کی وجہ پاکستان مسلم لیگ ن کا خارجی امور پربروقت توجہ نہ دینا ہے۔

اس سلسلے میں  وزارت اطلاعات و نشریات ، وزارت خزانہ  اور وزارت خارجہ  کی ناکامی  در اصل معاشرے میں ان  برائیوں کو جنم دیتی ہے جو بظاہر  معصوم برائیاں لگتی ہیں  اگر اسے انتہائی باریکی سے دیکھا جائے تو  ملک میں جنم لینے والے  95 فیصد  مسائل مذکورہ بالا وزارتوں کی نا اہلی  کی وجہ سے جنم لیتے ہیں  مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں  ان تینوں وزارتوں کو غلط سمت کی طرف  استعمال کیا جا رہا ہے  اور ان کا مقصد محض سیاسی طور پر  اپنے سیاسی رہنما اور نا اہل سابق   وزیراعظم  کو کسی نہ کسی طور پر  سیاست کے اندر موجود رکھنا ہے  اور اس سلسلے میں  وہ سلطنت کے امور کو  پس پردہ ڈال کر اپنے  سیاسی مفاد پر کام کر رہی ہیں  جس کی وجہ سے  پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان ہو رہا ہے  مگر یہ خود غرض سیاست دان وفاداری سے  منحرف ہو چکے ہیں  اور اسی وجہ سے معاشرے میں برائیاں جنم لے رہی ہیں ۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان  پر نظر ڈالنے سے پہلے معاشرے میں یوں تو کئی  متبادل نظام  حکومت  قابل ذکر  ہیں  مگر چند ایک ایسی برائیوں کا تذکرہ کرنا  اور ان کے نظام حکومت  سے آگاہ کرنا  میرا  صحافی فریضہ ہے جن کے مطالعہ کے بعد  میں  قدرے پریشان اور حیرت  زدہ ہوا  ان برائیوں  میں ایک نظام گدا گری  اور  دوسرا  خواجہ سراؤں کی تنظیم  قابل ذکر ہے ۔

پہلے نظام گدا گری  کی طرف آپ کی توجہ  مرکوز  کرنا چاہوں گا  کیونکہ معاشرے میں  اس نظام کی وجہ سے  کئی برائیوں نے جنم لیا جس میں منشیات کی خرید و فروخت  سے لیکر  ملک دشمن عناصر  اور غیر ملکی  ایجنسیوں  کی مدد تک ، اس نظام سے کی جا رہی ہے  آپ میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہو  جس نے ٹریفک سگنل  پر  کھڑے ہونے کے بعد  کسی بھکاری ، یا  گاڑی کے شیشہ صاف کرنے والے افراد کو نہ دیکھا ہو  اور اس بات میں بھی  سچائی  ہے کہ یہ افراد کثیر التعداد  میں افغانستان سے آئے ہوئے مہاجرین ہوتے ہیں  مگر آپ میں سے بہت کم افراد کو یہ معلوم ہو گا  کہ یہ بظاہر معصوم نظر آنے والے بچے  در حقیقت ایک مضبوط نیٹ ورک کا حصہ ہوتے ہیں  جو اہم شخصیات کی نقل و حرکت  پر نہ صرف نظر رکھتے ہیں  بلکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کون سا فرد  کس ٹریفک سگنل سے  کس سڑک پر گیا  اور وہ اگلے سگنل پر پہنچا یا نہیں !  وہ اس کی اطلاع  بذریہ  دوسرے ساتھیوں کے  جو زیادہ تر  پرانے کپڑے فروخت کرنے والے  ریڑھی بان ، سٹے بیچنے والے  اور اس طرح کے دوسرے پیشوں سے منسلک  افراد  تک پہنچاتے ہیں  اور  مبینہ طور پر کئی تو ماڈرن ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے  گاڑی صاف کرنے والے وائپر  میں  خفیہ کیمرے انسٹال کروا کر  گاڑی میں بیٹھے ہوئے افراد کی تصاویر تک اپنے آقاؤں  کو فراہم کرتے ہیں  جس سے نہ صرف سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ  ٹارگٹ کلنگ میں بھی بنیادی معلومات   بظاہر معصوم نظر آنے والے  افراد کے ذریعے  ملک دشمن عناصر  تک معلومات کی رسائی ہوتی ہے  جس سے ملک میں انتشار اور تخریب کاری کئے جانے میں  ان افراد کا مکمل نیٹ ورک  اپنے اپنے حصے کے فرائض سر انجام دیتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ  کسی طریقے سے اس نیٹ ورک کو  منظر عام پر لا کر  اس برائی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور انہیں استعمال کرنے والے افراد کو  کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

 سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ  ان کا ایک وزیر خزانہ ہوتا ہے  جو پاکستان دشمن عناصر سے  بھاری رقوم   وصول کر کے اس نیٹ ورک میں  کام کرنے والے  افراد کی مالی معاونت کرتا ہے  اور بر وقت اطلاع دینے کے لئے ان کا ایک  وزیر اطلاعات  و نشریات بھی ہوتا ہے  جو پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے  اغیار سے ہدایات  لے کر  ان کو اپنے  کارندوں میں احسن طریقے سے نشر و اشاعت کا کام سر انجام دیتا ہے   اور اس سلسلے میں  سب سے اہم امور ان گدا گروں کا  وزیر خارجہ ہوتا ہے جس کے روابط  پاکستان دشمن عناصر  سے اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی   سازشی تنظیموں  کے ایجنڈوں کو اپنے نظام کے تحت  پاکستان میں نقص  امن پیدا کرنے کے لئے  ہر وقت سر گرم رہتا ہے  اور اس کے روابط افغانستان ، ایران، عراق،  دمشق،  شام  اور سعودی عرب کے ساتھ  ساتھ  یورپی ممالک  اور امریکہ و اسرائیل  وبھارت سے  انتہائی  قریبی  ہوتے ہیں  جس کی ایک مثال  الطاف  حسین  اور کلبھوشن یادیو   بھی ہیں  جن سے یہ گدا کروں کے آقا ( جنہیں میں  وزیر خارجہ کہتا ہوں )  اس باریکی سے اپنے  فرائض  سر انجام  دیتے ہیں  کہ حکومت  پاکستان  کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔

اگر پاکستان  میں پاک افواج  کا معلوماتی  ادارہ  ایم آئی اور آئی ایس آئی  نہ ہو تو  پاکستان دشمن  عناصر  پاکستان کی سالمیت   کو خطرے میں  ڈال دے  اور پاکستان  کو نا قابل تلافی نقصان پہنچائے  جو کہ ان کے عزائم میں شامل ہے  جس کی مثال ماضی میں  مشرقی پاکستان کا  ہم سے  جدا ہونا  اور دنیا کے نقشے پر ایک الگ نام سے معرض وجود میں آنا  کسی انسان سے ڈھکا چھپا نہیں ۔

حکومت پاکستان  جو اس وقت  عدالتی نا اہل  نواز شریف کو  اہل قرار دلوانے کے لئے  ایک طرف تو عدلیہ کی توقیر کے خلاف اعلان جنگ کر رہی ہے اور دوسری طرف  حکومت وقت کا  محکمہ  اطلاعات  و نشریات  پاکستان کے اداروں کے خلاف  سر گرم عمل ہے   ۔ملک میں  وزارت  خزانہ کا  حقیقی طور پر  وجود  نہیں  مگر  خانہ پری کرنے کے لئے  رانا افضل خان  کو تعینات کر دیا  جس   کا قومی سطح پر  وزارت خزانہ  کے امور طے کرنے کا کوئی تجربہ نہیں اور وزارت خارجہ  جو  سابق نا اہل  وزیر اعظم  کے پاس 4 سال تک رہی اس نا اہل وزیراعظم نے  کبھی  بھی خارجی امور  پر توجہ نہیں دی  جس کی پاداش میں پاکستان  پر اندرونی و بیرونی  دباؤ بڑھتا چلا گیا  اور  60 ہزار شہریوں کی شہادت  کے ساتھ ساتھ  ہزاروں  پاک افواج  کے جوانوں  کی شہادت کے باوجود   امریکہ  ہم سے  آج بھی ڈو مور  کا  تقاضہ کر رہا ہے  جو مکمل طور پر خارجہ پالیسی کی ناکامی  کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔

اب  ایک  بے اختیار اورسابق نا اہل  وزیر اعظم  کے ذاتی خدمت گزاروں میں سے خواجہ آصف  کو وزیر خارجہ لگا دیا گیا  ہے جس کی تربیت میں خارجی امور  اور اس کے مسائل  کو حل کرنے  کی صلاحیت ہی نہیں  اور اسی طرح وزیر داخلہ  احسن اقبال میں یہ قابلیت نہیں کہ  وہ پاکستان کے اندرونی مسائل  اور ان کا حل کر سکے  اس نظام حکومت سے بہتر تو ایک اور  متبادل نظام حکومت چل رہا ہے  جو گدا گروں کے نظام حکومت کی طرح  پاکستان کے لئے  نقصان دہ تو نہیں  اور نہ ہی وہ کسی بیرونی طاقت کے ایجنڈے  کو لے کرچل کر رہا ہے  ۔

یہ نظام ،حکومت وقت کے نظام  سے  بہتر  ہے اور اور ان کے وزرا اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں  جن کو ہم خواجہ سرا   کے نام سے پکارتے ہیں ۔

خواجہ سراؤں  میں  گرو  اور چیلے  ہوتے ہیں  بر صغیر پاک و ہند  میں گرو  کا لفظ خواجہ سراؤں کے علاوہ  چھوٹے موٹے جرائم  کرنے والے افراد  کے استاد کے لئے  استعمال ہوتا آیا ہے   جن کی ذمہ داریوں میں گلی محلوں  سے سائیکل چوری کرنا ، تابنے کے برتن چوری کرنا   اور اسے اپنے گرو  تک  پہنچانا  کہ وہ ان کو فروخت کر کے  انہیں ان کا حصہ دے  اس طرح جیب تراشوں کا بھی  ایک گرو ہوتا ہے   جو انہیں  جیب تراشی کے فن سے متعارف کرواتا ہے  اور ان کی تربیت احسن طریقے سے   سر انجام دیتا ہے   جس سے قانون نافذ کرنے والے ادارے  دھنگ رہ جاتے ہیں  ۔

 بر صغیر پاک و ہند  میں  کبوتر بازی  ایک فن کی حیثیت رکھتی ہے اور کبوتر بازی سیکھانے والے افراد کو بھی  گرو کہا جاتا ہے   مگر میں یہاں جس گرو کا  تذکرہ کرنے جا رہا ہوں  وہ گرو در حقیقت  خواجہ سراؤں کا گرو ہوتا ہے ۔

خواجہ سرا  جو بے ضرر انسان کہلاتے تھے اور اکثر گلی محلوں میں بچے کی پیدائش یا  شادی کو موقع پر  رقص کر کے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے  اور اپنے گرو کی مرضی کے بغیر  دوسرے علاقے میں ہر گز مداخلت نہیں کرتے تھے اور اس طرح مختلف علاقوں میں  خواجہ سراؤں کی ٹولیاں  میلے ٹھیلوں  پر بھی رقص کرتیں  ، آمدن اپنے گرو کے پاس لے جاتیں ہیں اور گرو صاحب اپنے اصول کے تحت  آمدن کو  چیلوں میں تقسیم  کرتےہیں۔

خواجہ سراؤں میں خارجی  امور کے لئے نہ جانے  کس  زمانے سے   ایک نظام چلا آ رہا ہے  کہ کسی بھی  مداخلت  پر دوسرے علاقے  کے ” گرو”  کے  مقرر شدہ  خواجہ  سرا کے ساتھ پہلے علاقے کے  امور خارجہ سر انجام دینے  والے خواجہ سرا ملتے  اور اگر مسئلے کی نوعیت بین الصوبائی  حیثیت کی ہوتی  تو ہر علاقے کا گروہ  اپنے بیرونی مداخلت  کے مسائل حل کرنے کے لئے  ایک خواجہ سرا کو  خواجہ سرا برائے  خارجی امور  منتخب کرتا اور وہ اپنے  مسائل بخوبی سر انجام دیتے  مگر افسوس کہ آج کے دور میں کئی ایسے ممالک  موجود ہیں  جن میں ان کے گرو تو ہیں اور  ان  گرؤں کی خواہش ہوتی ہے کہ  وہ خارجی امور بھی   خود ہی سر انجام دیں اس کے بدلے چاہے  ان کے علاقے  کے باقی  خواجہ سراؤں کا نقصان ہی کیوں نہ ہو  مگر ہم  “عام عوام” نے   خواجہ سراؤں سے خارجی امور نپٹانے کا  ” گُر” نہیں سیکھا   مگر اپنے  انتخابات کے زمانے میں  اپنا ایک  گرو منتخب  کر لیتے ہیں  جس کےپیادے  تمام قومی و صوبائی  اسمبلیوں  پر نمائیندگان  کی حیثیت سے  پردہ ِسکرین پر نمودار  ہوتے ہیں  اور ان میں سے  کثیر  تعداد  ان افراد کی ہوتی ہے  جو اپنا حلقہ انتخاب  کے رہائشی  بھی نہیں ہوتے  جس سے ملک و سلطنت  کو بُری طرح نقصان ہوتا ہے  جس کی ایک مثال پاکستان کی خارجہ  پالیسی اور چار سال گزرنے کے بعد  وزیر خارجہ کا مقرر کرنا  ایک زندہ مثال ہے ۔

پاکستان  کو بین الاقوامی  سیاست میں جس حد تک  وزیر خارجہ  خواجہ آصف  نے  نقصان  پہنچایا اس کو بیان کرنے کے لئے اس طرح  کے کئی کالم  تحریر کرنے  پڑیں  گے۔

موجودہ دور میں  ہر حکومت  کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ  جس  فرد کو بھی  خارجی امور کی  وزارت  دیں اُسے  پہلے  خارجی  امور حل  کرنے کی  تربیت بھی دی جاتی ہے  مگر بد قسمتی سے  پاکستان  میں انتہائی  قابل افراد جنہیں  خارجی  امور  پر  برتری  حاصل ہے  انہیں محض اس لئے خارجی امور کا  وزیر  مقرر نہیں کیا جاتا  کیونکہ  وہ کسی اور  گرو کا چیلہ ہوتا ہے  ۔

دورِ  حاضر میں حکومت ِپاکستان کو جس قدر  خارجی مسائل اور مشکلات ہیں  حکومت کو چاہیے کہ ایک  قابل  فرد  جس کو خاری امور پر مکمل کمانڈ حاصل ہو اس  کا انتخاب  وزیر خارجہ  کی حیثیت سے کرنا چائیے تھا مگر  پھر غلط فرد کا  انتخاب کر کےقوم کو مزید نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

میرے نزدیک  کٹھ پتلی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی  اور ان کی کابینہ  حکومت  پاکستان کے ساتھ وفاداری سے  زیادہ اپنے گرو کی چاپلوسی کرنا  زیادہ اہم خیال کرتے ہیں اور حد تو یہ ہو گئی کہ  سپیکر اسمبلی سے لیکر  وزیر اعظم  پاکستان  بمعہ  مکمل  وزرا  اور  ممبرانِ پارلیمنٹ   ایک نا اہل  شدہ سابق وزیر اعظم  کو  اپنا ” گرو ” تسلیم کرتے ہیں  اور اپنے ہر سیاسی و ریاستی عمل کی  اطلاع ” گرو”  صاحب کو   مفصل طریقے سے دیتے ہیں  جس میں کئی قومی راز بھی  افشاں ہو جاتے ہیں  وہ  راز چونکہ حقیقی طور پر  پاکستان کی  امانت ہوتے ہیں   مگر افسوس کہ ان حکمرانوں کے ٹولے  کو  بر صغیر  پاک و ہند  کے پرانے  خواجہ سراؤں  کی عادت پڑ گئی ہے  کہ وزیر اعظم کوئی بھی ہو  ،عدلیہ کوئی بھی فیصلہ کرے ،  سپہ سالار کچھ بھی کرے  چاہے وہ ضرب عضب یا ردالفساد میں ہو،  چاہے وہ  شہیدوں کے جنازے اپنے کندھے پر اٹھاتا ہو  یا اگلے مورچوں  پر جا کر  مجاہدین کے حوصلے بلند کرتا ہو  ،مگر افسوس یہ لیگی وزرا کی  فوج بلاامتیاز   اپنے گرو کو  حکومتی امور پر  فوقیت دیتے ہیں۔جس سے پاکستانی اداروں کے درمیان غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو  پاکستان کی سالمیت کیلیئے نقصان دہ ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here