چیئرمین عام عوام پارٹی سہیل ضیا بٹ کا آغا وقار احمد کے ساتھ خصوصی انٹرویو – فائنل پارٹ

exclusive interview of Chairman AAP Sohail Zia Butt with Agha Waqar Ahmed - ٖFinal Part
exclusive interview of Chairman AAP Sohail Zia Butt with Agha Waqar Ahmed - ٖFinal Part

:لاہور

چیئرمین عام عوام پارٹی سہیل ضیا بٹ کا آغا وقار احمد کے ساتھ خصوصی انٹرویو ہوا جس میں اُن سے بہت سے اہم سوالات کیے گئے اور ان سوالات کا پہلا حصہ آپ نیچے دیے گئے لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔

چیئرمین عام عوام پارٹی سہیل ضیا بٹ کا آغا وقار احمد کے ساتھ خصوصی انٹرویو – پارٹ 3

:باقی سوالات کا سلسلہ کچھ ہوں ہے

آپ نے کہا کہ آپ خلفہ راشدین کا نظام حکومت کے کر چلیں گے وہ کیسے؟

ہماری کوشش ہو گی کہ ہم عام مسلمانوں کی ضروریات کے مطابق اپنی پارٹی بر سر اقتدار آنے کے بعد بنیادی قوانین میں ترمیم کریں اور انہیں عین شریعت محمدی ﷺ کے مطابق بنا کر نافذالعمل کریں اور مملکت پاکستا ن میں  سے سود کی لعنت کو ختم کر دیں گے ۔

آپ کس طرح  کے امید وار وں ک پارٹی ٹکٹ دیں گے؟

ہم لوگ پارٹی بنا رہے ہیں جو “عام لوگوں” کی امنگوں کی ترجمانی کرے گی۔

جس میں آپ کا کیمرا مین  یا آپ بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں یہ لڑکا جو لکھ رہا ہے یہ بھی حصہ لے سکتا ہے اور سامنے  یہ لڑکا امیدوار بن کر بیٹھا ہوا ہے اور پوسٹر لگا رہا ہے  میں نے کوئی ایک پیسہ پارٹی پر خرچ نہیں کیا اور  نہ پارٹی پر ہم نے کوئی ڈونیشن لینی ہے پیسے کی سیاست کو ہم نے ختم کر دیا ہے یہ عوامی سیاست ہو گی یہ گلیوں سے اٹھنے والی آواز ہو گی، یہ محلوں سےاٹھنے والی آواز ہو گی ، یہ کھیتوں، کھلیانوں ، تحصیلوں، یہ اٹھنے والی آواز ہو گی۔

یہ ذولفقارعلی بھٹو کے سوا کوئی نہیں کر سکا اب سیاست ایک بہت مکینیکل گیم ہو چکی ہے جس میں رقم  کی شمولت بہت زیادہ ہے آپ اس کا سامنا کیسے کریں گے؟

ہم اس گیم کو تو ختم کرنے کے لئے باہر نکلے ہیں عام لوگ کہاں سے پیسے خرچ کریں گے ہماری پارٹی میں کوئی وہ نظام ہی نہیں ہے کہ ہم فنڈ ریزنگ کریں ، ہمارے امیدواروں کو الیکشن میں 5000سے 10000 تک کے علاوہ کوئی اجازت ہی نہیں ہو گی کوئی کینٹینرز والا جلسہ ہم کر ہی نہیں سکتے  گلیوں اور محلوں میں سے ایک ایسی ہوا چلے گی کہ آپ لوگ سوچیں گے  کہ ستر سالوں سے جو بندر اور مداری کا تماشہ  لگا ہوا ہے جسے آپ جمہوریت کا نام دیتے ہیں ، لوگ آتے ہیں پیست پھینکتے ہیں  اور چلے جاتے ہیں جو پیسے خرچ کرتے ہیں وہ وڈیروں کی اولادیں ہیں ، سیاست دانوں کی اولادیں ہیں ، سیاست دان ہیں، جاگیر دار ہیں ، ملٹی نیشنل کمپنیز کے مالک ہیں ان کی پیچے میڈیا ہے ، پرائیویٹ یونیورسٹیز ہیں ، اور عام لوگوں کو تو دوائی لینے میں مشکلات ہوتی ہیں اور میڈیسن پر ملٹی نیشنل کمپنیز کا حصہ  ہوتا  ہے ان کے ڈاکٹر  کمیشن لیتے ہیں  موت کی دہلیز پر بیٹھا ہوا انسان  جو مر رہا ہے اس کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے اور آپ مجھے یہ بتائیں کیا انصاف مل رہا ہے آپ کے ساتھ کیا  کوئی غریب آدمی اپنے بچوں کو اس مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے ؟

یہ مہنگائی کا بازار ، رشوت کا دور اور لوگوں کو انصاف کا نہ ملنا ، تعلیم کے حصول میں مشکات کا سامنا میں ان سب مسائل کو ذہن میں لے کر نکلا ہوں ۔

تعلیم بہت ضروری ہے اگر ہم اپنے معاشرے میں برائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو تعلیم ، تعلیم اور بس تعلیم ہی ہونے چاہئے۔ ہم بادشا ہ نہیں ہم خادم بنیں گے ہمارے ایم این اے ، ایم پی اے  گلیوں سے ہی اٹھیں گے اور گلیوں محلوں میں ہی خدت کریں گے اور عام لوگ ہوں گے۔

یہ ایک انتہائی خوشی کی بات ہے اور ایک اچھا اقتدام ہے لیکن حیرت مجھے اس بات پر ہوتی ہے کہ میں جس آدمی سے بات کر رہا ہوں وہ خود بیلینز کا مالک ہے اور اس کا  ایک سیاسی اور کا روباری بیک گراؤنڈ ، اس میں آپ نے کہا ہے کہ ہم عوام کو بنیادی سہولت دیں گے یعنی تعلیم، صحت، رہائش اور حفاظت؟

صاف پینے کا پانی بھی اس میں شامل ہے جناب، اور اس کے بعد انصاف آپ کی دہلیز پر ہو گا  اور مہنگائی  پر کنٹرول ہو گا ہم یہ الیکشن سٹریٹ پاور سے جیتیں گے ہمارا سارا نظام سٹریٹ پاور پر ہے (عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) ہم طوفان نہیں لا رہے کہ جو  پارٹیاں دعوے کرتی ہیں  ہیلی کاپٹروں اور جہازوں میں بیٹھ کر کمپین چلاتی ہیں آپ کے تو خود اندازہ کر لیں کہ آپ کو مجھ جیسے فقیر میں کوئی امارت نظر آتی ہے ؟ کوئی ایک  خوشبو یا کوئی اور آمرانہ جھلک آپ نے دیکھی ہو؟ یا  راستے میں  آپ کا سامنا کسی گارڈ سے ہوا ہو ؟ یا کسی نے آپ سے پوچھا بھی ہو کہ آپ کہاں جا رہے ہیں میری زندگی کا تمدن میری عکاسی کرتا ہے  میں اپنے آپ کو چھپا تو نہیں سکتا  الحمدللہ مجھے فخر ہے کہ میں  مزدور کا بیٹا ہوں اور میں نے یہ کہا ہے کہ

جس ملک  میں مزورپرشان رہے گا
وہ ملک  تو ہر حال میں ویران رہے گا
دیکھا ہے تاریک اورا ق میں ضیاء نے
مزدور ہی سلطان تھا سلطان رہے گا

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here