چیئرمین عام عوام پارٹی سہیل ضیا بٹ کا آغا وقار احمد کے ساتھ خصوصی انٹرویو – پارٹ 2

exclusive interview of Chairman AAP Sohail Zia Butt with Agha Waqar Ahmed - Part 2
exclusive interview of Chairman AAP Sohail Zia Butt with Agha Waqar Ahmed - Part 2

:لاہور

سہیل ضیا بٹ نے مجھے اور میری ٹیم کو عجوہ کھجوریں کھانے کے لیے دیں اور انٹرویو کا آغاز ہوا جس میں میرے سوالات یہ تھے:۔

جناب لو گوں نے تو آپ کو  آپ کے سیاسی بیک گراؤنڈ کے ساتھ دیکھا ہے  لیکن اگر ہم اسے غور سے دیکھیں تو 1990ء میں آپ اسمبلی کے رکن تھے 1990ء وہ وقت تھا جس وقت نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں  پودے تھے اور لاہور میں الیکشن جیتنے کی ذمہ داری آپ پر ڈالی گئی آپ جمہوری اتحاد کے رکن تھے تو 1990ء کی سیاست کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

سہیل ضیا بٹ نے فرمایا کہ وقار صاحب مجھے خوشی ہوتی اگر آپ آج مجھ سے میری پارٹی کے متعلق ہی سوال کرتے کہ آپ کیاکرنے جا رہے ہیں؟ آپ کی سوچ کیا ہے؟ آپ کے کیا خدوخال ہیں ؟ آپ نے سیاست میں کیا سیکھا؟ آپ نے سیاست میں کیا تجربے حاصل کیے اور  کیسے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ؟ آپ کے موقف کیا ہیں؟ اور آپ پارٹی کے قائد کی داستان سنتے آپ نے تو 1990 کی بات  شروع کر دی۔

 میں نے ایم اے او کالج میں پہلا الیکشن لڑا تھا یہ  72-1971 کی بات ہے ۔

میں وہ پہلا بندہ تھا جس نے سُرخوں کے خلاف ایم اے او کالج میں الیکشن لڑا اس وقت مسلم لیگ تو نہیں تھی لیکن اسلامی تنظیم کی بنیاد میں نے رکھی اور الیکشن بھی میں نے ہی جیتا تھا۔

Sohail Zia Butt interview

آپ کا تعلق جماعت اسلامی کی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ کی طرف سے تھا؟

اُس وقت دو ہی جماعتیں تھیں ایک طرف انقلابی لوگ تھے اور دوسری طرف ہم لوگ جو کہ اسلامی نظریے کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جس کے بعد میاں نواز شریف صاحب بھی سیاست میں آئے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب 78-77 میں  اسلامی جمہوری  اتحاد بنا تھا  تب یہ لوگ منظر عام پر آنا شروع ہوئے اور انہوں نے    اسلامی جمہوری اتحاد کو سپورٹ کیا جبکہ میں ایم اے او کالج سے الیکشن جیتا اورجاوید ہاشمی پنجاب یونیورسٹی کے جنرل سیکریٹری بنے جس کے ساتھ راشد بٹ  نائب صدر بنے وہ  انقلابی (سرخے) تھے  اور حفیظ خان  صدر بنے  اور اسی طرح باقی کالجز میں ہماری یونینز بنی تھیں ۔

کیا اُس وقت میاں محمد شریف سیاست میں تھے؟

سیاست میں ہمیشہ ہر ایک کا رول رہتا ہے جمہوریت کس کو کہتے ہیں ؟ ہاں یہ بات ہے کہ  وہ کسی بھی پارٹی کے لیڈر نہیں تھے ، اس طرح کے ان کے حالات نہیں تھے، ورنہ میاں شریف صاحب کے  ہائی آفیسرز کے ساتھ اچھے  تعلقات  تھے پہلے تو سیاست اسی طرح ہوتی تھی  یہ تو ذولفقار علی بھٹو صاحب سیاسی تبدیلی لائے اور انہوں نے  عام لوگوں کو آگے کیا وہ کھیتوں کھلیانوں سے گلی محلوں سے چوک و چوراہوں سے لوگ لائے یہ وہ سیاست تھی کہ عام لوگوں کو ٹکٹیں دیں  اور وہ بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔وہ حقیقی طور پر جمہوری و عوامی دور تھا۔

سال 1990 میں جب آپ اسمبلی میں گئے تو اس کے بعد آپ کا سیاسی سفر شروع ہوا جو آہستہ آہستہ ایک خاص موقع پر پسِ پردہ چلا گیا اور 2008 میں آپ کے صاحبزادے عمر سہیل کو مسلم لیگ(ن) سے ٹکٹ ملا اور وہ  کامیاب ہوئے مگر 2013 میں کیا وجہ تھی کہ ان کو ٹکٹ نہیں دی گئی؟

اس بات کا مجھے علم نہیں مگر 2008 میں جو الیکشن ہوا عمر اس وقت باہر سے پڑھ کر آیا تھا جب میں میاں نواز شریف صاحب کے ساتھ مقیم تھا پاکستان میں نہیں تھا تب  مجھ پر مقدمات بنائے گئے  پہلے تو کچھ بھی نہیں تھا پھر میں نے پاکستان واپس آ کر مقدمات کا سامنا کیا اور الحمد للہ  باعزت بری ہوا ۔

Agha Waqar Ahmed interviewer

مرزا اقبال بیگ اور ایوب آفریدی کے ساتھ آپ کے کیا تعلق تھے؟

میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، نہ تھا اور نہ ہی وہ سیاست میں تھے میری سیاسی زندگی کی ابتدا گھر سے ہوئی کیونکہ میرے والد صاحب بھی الیکشن لڑتے تھے مجھے سمجھ نہیں آ سکتی کہ آپ  نے یہ سوال کیوں کیا ؟ باقی ایک دور تھا جب میاں نواز شریف کو کچھ اور نہیں ملتا  تھا تووہ اس طرح کے الزامات مجھ پر یا کسی اور پر لگا دیتے ۔ آج تک اللہ کے حکم سے میرے ہاتھ صاف ہیں اور میں پاکستان کا پہلا سیاست دان ہوں جو نیب عدالت سے با عزت بری ہوا ہوں ۔

نواز اور شہباز شریف نے ایک اشٹام پیپر پر بیانِ حلفی دیا کہ ان کی آپ سے کوئی رشتہ داری نہیں جبکہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ آپ کا ان سے کیا رشتہ ہے۔ اس بارے آپ کی رائے ہے؟

سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب سہیل ضیا بٹ کا جواب جاننے کے لیے انٹرویو کے بقیہ حصہ کا انتظار کیجیے۔

چیئرمین عام عوام پارٹی سہیل ضیا بٹ کا آغا وقار احمد کے ساتھ خصوصی انٹرویو

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here