سیاسی بند گلی

AGHA WAQAR AHMED

سیاسی بند گلی

الیکشن 2018 کی آمد آمد تھی اور اس وقت کی نگران حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں واضع طور پر کہہ دیا گیا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد اپنی جائیداد کا مکمل اور درست اندراج کرائیں گے، مزید انتخابی اخراجات کا بھی اندراج کروائیں گے اور اگر ان کی دی ہوئی معلومات و جائیداد کے گوشواروں میں اور انکی حقیقی ملکیت میں فرق ہو گا تو انہیں نااہل کر دیا جائے گا۔

بگڑے ہوئے سیاستدان جو ماضی کی روایات کو دیکھ رہے تھے، انہوں نے اس آرڈر کی اہمیت کو نہیں دیکھا اور اسکو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے ہی حساب سے آمدن کے ذرائع، انتخابات میں خرچ رقوم اور اپنی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد کی تفصیل انتہائی کم ریٹ میں درج کر دی اور سمجھا کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اس حکم نامے کا دوسرا حصہ بھی تھا۔

اس حکم نامے کے دوسرے حصے میں انتخابی مہم میں حصہ لینے والے امیدواروں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے الیکشن مہم کے اخراجات کے باقاعدہ حساب کتاب کیلئے کھاتہ مرتب  کریں گے جسے انگریزی زبان میں Ledger کہتے ہیں۔ جو میٹریل اشتہارات اور انکی تشہیر کیلئے خرچ ہوں گے انہیں کھاتہ میں اندارج  کرنا لازمی ہو گا۔

اور جو فلیکسز ڈسپلے کی جائیں گی اگر تو وہ کسی ورکر نے انکو تحفتاََ دی ہیں تو وہ اس فلیکس کا ایک سیمپل محفوظ رکھیں گے جس کے اوپر کھلے الفاظ میں لکھا ہوا ہو گا کہ یہ فلیکسز فلاں محمد فلاں نے عطیے کے طور پر انتخاب لڑنے والے امیدوار کو دی اور اسکے ساتھ ساتھ اس نے جس کمپنی سے وہ پرنٹ کروائیں اسکا نام بھی اس پر درج ہو گا تاکہ اس نام سے اس پرنٹنگ پریس کے اکاؤنٹس چیک ہوں اور پتا چل سکے اصل قیمت کیا تھی ، اسکی پیمنٹ کس ذریعے سے ہوئی اور اسکو رقم کی ادائیگی کی گئی یا نہیں کی گئی اور حقیقی طور پر انتخابات کے سلسلے میں کتنا خرچہ ہوا۔

امیدواروں نے اور اس کے بعد الیکشن میں جیتنے والوں نے اس حکم نامے کو ہوا میں اڑا دیا، مگر آج اس پر عمل درآمد ہونے جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ بہت اہم سیاسی ورکروں کیلئے یہ حکم نامہ انکے گلے کی ہڈی بن کے روپذیر ہو گا۔

ایک ایسا نوالہ جو حلق سے اتر بھی نہ پائے اور اُگلا بھی نہ جائے کیونکہ کام تو ہو چکا، الیکشن تو ہو چکا، سوشل میڈیا و اخبارات و کیبل اور ٹی وی پر زور و شور سے تشہیر بھی ہوئی، بینرز فلیکسز لگیں، ٹکرز بھی چلے، جلسے اجلاس بھی ہوئے، کھانے بھی ہوئےاور اس دفعہ تو ٹی شرٹس بھی پہنیں گئیں اور باقی تو جو الیکشن کے اخراجات عام حالات میں ہوتے ہیں وہ ہوئے تو کیا ایک ایم پی اے نے 20 لاکھ روپے خرچا اور ایک ایم این اے نے 40 لاکھ روپے خرچا؟ یہ وہ ایم سوال ہیں۔

اگر اس نے 20 لاکھ اور 50 لاکھ روپے خرچ کیے تو کیا اس نے حکومت کے دیے ہوئے طریقہ کار کے تحت جو نیا بینک اکاؤنٹ  کھولا گیا تھا اس سے تمام لوگوں کو پیمنٹس کیں؟

کیا انکے بینک کی سٹیٹمنٹ کی تاریخیں اور رقوم اُنکو مال سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے میچ کرتی ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ دھاندلی ہے۔

اور اس دھاندلی کی بنیاد پر حکومتِ وقت کسی بھی ایم این اے یا ایم پی اے کو نااہل کرنے کا مکمل اختیار کرتی ہے اور یہ عنقریب ہونے جا رہا ہے۔

سیاست کے اتار چڑھاؤ بہت دیکھے ہیں ، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ انتخابات میں بےدریغ پیسہ خرچ کیا جاتا ہےاور اسکا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا جاتا مگر اس بار حکم نامہ پہلے آ گیا تھا کہ ان چیزوں کو آپ نے اندراج کرنا ہے اور اگر اندراج نہیں کی گئی تو یہ دانستہ طور پر ایک بدعنوانی ہے اور ایک بدعنوان شخص ایم این اےاور ایم پی اے نہیں ہو سکتا اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے افراد جو اس پیمانے پر پورا نہیں اترتے ، انکے نوٹیفیکیشن ختم کر دیے جائیں گے اور نااہل ہو جائیں گے۔

اسے کہتے ہیں سیاست کی بند گلی جس میں تمام ایم ای اے اور ایم پی اے گھس چکے ہیں۔ ایک طرف الیکشن کمیشن ہے اور دوسری طرف بند گلی، راستہ کیسے حاصل کر پائیں گے؟ یہ سوال آپ کیلئے چھوڑے جا رہا ہوں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here