الیکشن 2018

Ilyas Chadhar

الیاس چڈھر کے قلم سے

آنے والے انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کے لئے  بہت بڑا معرکہ ہوں گےگھمسان کا رن پڑے گا  کیونکہ ماضی کے طرح اب  انتخابات کا  ہونا وہ نہیں ہو گا جو پہلے ہوا کرتا تھا  اب وعدہ کر کے ووٹ لینا تو ایسا ہی ہو گا  جیسے شیر کے منہ سے گوشت نکالنا  اب لوڈ شیڈنگ اور  نہ پوری ہوتی ہوئی ضروریات زندگی نے  عوام کو نئی سمتوں کا تعین کرنے پر مجبور کر دیا ہے اب ہو گا  ” کام کرواؤ اور لو ووٹ ہیں تو الٹے پاؤں  جاؤ لوٹ ”  حالانکہ  قوم اور ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے  پانچ سال کا عرصہ بہت طویل ہوتا ہے ۔

کیونکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انتخابات ہوتے ہیں  وہاں پر جیتنے والی جماعت کو قریباََ پانچ سال یا کچھ دن کم ہی ملتے ہیں  یعنی طریقہ کار ایک ہی ہے  تو اگر نظر دوڑانے سے  سب چیزیں آپ کو شفاف نظر آ جائیں گی کہ کس حکومت نے کتنا کام کیا   وہ واضح ہو جائے گا  کیونکہ اب وہ  دن قریب آ رہے ہیں  بلکہ جو کھلاڑی سیاست دان ہیں انہوں نے اکھاڑے میں  اترنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں  بس جیسے ہی  ڈھنکا بجے گا   پھر سیاست  دان  اپنے مخالف کو  پچھاڑنے کے لئے  پاور پر انتخابی حملے کریں گے مثلا ووٹر خریدنا ووٹر کو دھمکیاں دینا ، میلٹ پیپر پر خود کو  سٹیمپ کرنا یعنی بڑے بڑے ڈرامے ہوں گے، سونے کے چمچ اور چاندی کی پلیٹیں دینے کے وعدے کیئے جائیں گے    قسمیں اٹھائی جائیں گی عوامی عہد لئے  جائیں گے ، یہ وعدے کتنے پورے ہوں گے یہ تو جیتنے کے بعد ہی پتہ چلے گا  کیونکہ وطن عزیز کے سیاستدانوں کا ہمیشہ سے یہ  طرہ امتیاز رہا ہے  کہ وہ انتخابات جیتنے کے بعد پتہ نہیں کہاں چلے جاتے ہیں  عوام لاچار ہو کر رو دھو کر چپ سادھ لیتے ہیں  کہ اب کیا کیا جائے نام لیئے بغیر بڑے بڑے سیاسی  ستون جھوٹے وعدے کرتے ہیں وعدہ کرنے کے بعد وعدہ وفا نہیں کرتے  کوئی بات نہیں لیکن 2018 کے انتخابات  میں ان کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا  یا پھر اپنے سیاسی کردار کی وجہ سے مسند اقتدار پر بیٹھ جائیں گے  2018 میں انتخابی میدان  میں منہ کے بل گرنے والوں میں  ایسے ایسے سیاستدان اور ایسی ایسی سیاسی پارٹیاں بھی ہوں گی  کہ قوم “انگشت بدنداں ” ہو گی  اور وہ خود سکتے کے عالم میں آئیں گے  حالات، واقعات، ماضی پر نظر  اور  سیاسی انتخابی جھگڑوں سے یہی نتیجہ اخذ  کیا جا رہا ہے  کہ اب کی بار پہلی دفعہ ایسا ہو گا  کہ عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے  پھر اس دفعہ مورثی سیاست اور سیاست دانوں کا  بوریا بستر سیاست سے گول ہوتا نظر آئے گا  اور قوم کے خادم خود سے  کہیں گے کہ کاش  میں نے عوام کے ذاتی حقوق عوام تک پہنچائے ہوتے  تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔

اب عوام میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری  نے بہت سے سماجی ، فلاحی اور سیاسی در واہ کر دئیے ہیں اور عوام اب خالی وعدوں اور قسموں سے  متاثر ہونے والے نہیں  الیکشن 2018 نئے اور خوشحال پاکستان کی طرف بڑھتا ہوا  قدم ہو گا بہت سالوں سے منتخب ہونے والے  نمائیندوں نے ریاست کے عوامی حقوق ریاست  کے عوام تک نہیں پہنچائے  بس دلفریب نعروں اور لچھے دار باتوں  سے ہی ان کو دلاسا دیتے رہے    بھوک دلاسا دینے سے نہیں مٹتی بھوک مٹانے کے لئے  بھوک مٹانے والا سامان چاہیے جو  اب تک عوام کو میسر نہیں ہو سکا  اب سامان میسر ہو نہ ہو  اب 2018 کے انتخابات خود ہی فیصلہ کر دیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here