افسر شاہی کی دیدہ دلیری اور بے باکیاں

AGHA WAQAR AHMED

افسر شاہی کی دیدہ دلیری اور بے باکیاں

26 جولائی کو پٹرول پمپ کی نیلامی پر خالی کرسیاں منہ چڑھاتی رہی اور کوئی بولی دینے نہ آیا۔

ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنی خفگی مٹانے کیلئے پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو غلط حقائق پرمبنی رپورٹ پیش کرنے کی جراؐت کی۔

عدالتِ عظمٰی کو یہ تاثر دیا گیا کہ لاہور میں واقع 22 پٹرول پمپ والے ایل ڈی اے کی زمینوں پر قابض ہیں جبکہ حقائق اسکے برعکس ہیں۔ یہ افراد و کمپنیاں قانونی طور پر ناصرف کرایے دار ہیں بلکہ انہوں نے 2019 تک کا واجب کرایہ ایڈوانس کی شکل میں جمع کروا چکے ہیں جبکہ اس رقبہ کا کرایہ اور لیز کی رقم پیشگی طور پر ادا شدہ ہے۔

ایل ڈی اے کی ڈائریکٹر جنرل عدلیہ کے سامنے غلط بیانی کی مرتکب ہوئی۔ ان رقوم کو وقت سے پہلے پیش کرنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ موجودہ اور سابقہ ڈی جی ایل ڈی اے کی غیرقانونی خواہشات اور تقاضے تھی جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ جبکہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے کا نیب کے زیرِ حراست ہونا کسی تفصیل کا محتاج نہیں۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل دورانِ نیلامی اپنے دو سالہ بچے کو اُٹھا کر گھومتی رہی اور نیلامی کے سلسلے میں آئے مختصر افراد کو خود بیان کیا کہ ایل ڈی اے 3 کروڑ روپے سالانہ کی بنیاد پر محض زمین کرایہ پر دے گا اور مدت کرایہ داری صرف 3 سال کیلئے ہو گی جبکہ ایک فرد کے سوال پر ایل ڈی اے کے نمائندہ نے وضاحت سے بیان فرمایا کہ بولی میں کامیاب افراد پٹرول پمپ کا لائنسس خود نئے سرے سے حاصل کریں گے جس طرح کسی مکان کی تعمیر کے لیے زمین ہونے کے بعد مکان کا نقشہ پاس کروایا جاتا ہے اور بعد میں اسکی تعمیر کی جاتی ہے۔

بولی میں شریک ایک اور فرد نے سوال کیا کہ اگر پاکستان سے باہر مقیم کوئی فرد 3 سال کی بجائے 10 سال کیلئے بولی دینا چاہے تو اس بابت ایل ڈی اے کا کیا جواب ہے جبکہ نمائندہ ایل ڈی اے اسکا جواب دینے سے قاصر تھا اور وہ بولی میں شریک غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی یہ پہلی نیلامی تھی جس میں اتنے مہنگے اشتہارات دینے کے باوجود بھی سوائے چند افراد کے باقی خالی کرسیاں منہ چڑھاتی رہی اور کسی بھی شریک فرد نے نیلامی کیلئے بینک چیک یا زر بطورِ  ضمانت جمع نہیں کروایا۔

اسطرح ڈی جی ایل دی اے کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے اس نیلامی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ڈی جی ایل ڈی اے کی بے باکیاں اور ہوشیاری کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ ڈی جی نے عدالتِ عظمٰی کو جو بیان ریکارڈ کروایا اُس میں محترمہ نے کہا کہ نیلامی کو پٹرول پمپ مالکان نے ہنگامہ آرائی کی وجہ سےکامیاب نہیں ہونے دیا۔ جبکہ عدالت جب چاہے اس نیلامی کی ویڈیو ایل ڈی اے اور نجی ٹیلی ویژن سے حاصل کر کے حقائق جان سکتی ہے جس سے افسر شاہی کا جھوٹ بے نقاب ہو جائیگا کیونکہ یہ نیلامی انتہائی پرسکون ماحول میں انجام پذیر ہوئی۔

لاہور آن لائن ٹی وی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ ویڈیو کلپ بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دیے ہیں جسے دیکھ کر آپ کو حقائق کا بخوبی اندازہ ہو جائیگا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here