خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر انتخابات کالعدم ہوسکتے ہیں، الیکشن کمیشن

ECP warns constituency results may be declared invalid if women's participation not ensured
ECP warns constituency results may be declared invalid if women's participation not ensured

:اسلام آباد

الیکشن کمیشن پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جائے گا ان علاقوں میں انتخابات کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن خیبر بختونخوا اور بلو چستان نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے معاہدوں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ جس حلقے میں بھی خواتین ووٹرز کے ووٹنگ کا تناسب 10 فیصد سے کم ہوا تو اس کے نتائج کالعدم قرار دیے جائیں گے۔

بلوچستان کے الیکشن کمشنر نیاز بلوچ نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت خواتین کو حق رائے دہی سے دور رکھنا جرم ہے، صوبے میں خواتین ووٹرز آبادی کا بڑا حصہ ہیں اور رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 18 لاکھ 22 ہزار 252 ہے۔

دوسری جانب صوبائی الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا پیر مقبول احمد کا کہنا تھا کہ خواتین گھروں سے نکلیں اور اپنا حق رائے دہی کا بھرپور استعمال کریں اور اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو 3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here