24ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے جلد الیکشن کے راستے بند

Early election path closure by approving the 24th constitutional amendment
Early election path closure by approving the 24th constitutional amendment

:اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مکمل حمایت کے ساتھ سینیٹ نے منگل کو 24ویں آئینی ترمیم منظور کرکے جلد انتخابات کا راستہ بند کر دیا ہے، ترمیم کے نتیجے میں سینیٹ کے انتخابات آئندہ سال مارچ میں کرانا ہوں گے۔

 سیاسی مطالبات اور جلد الیکشن کرانے کے لیے ممکنہ طور پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کی غیر مصدقہ اطلاعات کے دوران سینیٹ الیکشن مارچ 2018ء میں کرانے کے حوالے سے سنگین خدشات پائے جاتے تھے۔

24ویں آئینی ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ 2018ء کے الیکشن قومی اسمبلی کی نشستوں کی نئی تقسیم کے مطابق کرائے جائیں جس کے لیے 2017ء کی مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کا کام ابھی ہونا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 24ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مطالبے کے مطابق جلد الیکشن کرانا اب ممکن نہیں رہا۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے درمیان قومی اسمبلی کی نشستوں کے حصے کی ری ایلوکیشن مردم شماری 2017ء کے نتائج کے مطابق ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی مردم شماری کے مطابق اور قومی اسمبلی کی نشستوں کی ری ایلوکیشن کے تحت، الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کو کام کرنا ہے جس کے بعد آئندہ انتخابات ہوں گے۔

حلقہ بندیوں کا کام جلد شروع ہوگا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو توقع ہے کہ یہ کام اپریل 2018ء تک مکمل کر لیا جائے گا تاکہ آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان چاہتا تھا کہ یہ آئینی ترمیم 10 نومبر تک ہو جانی چاہیے تھی تاکہ 2018ء کے عام انتخابات میں کسی بھی طرح کی تاخیر سے بچا جا سکے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا تھا تاہم اب یہ منگل کو مکمل ہوا۔

 الیکشن کمیشن کی مقرر کردہ 39 دن کی ڈیڈلائن کے بعد پارلیمنٹ نے ترمیم بالآخر منظور کر لی لیکن کمیشن کے ذرائع نے مثبت امید کا اظہار کیا ہے کہ حلقہ بندیوں کا کام وقت پر مکمل ہو جائے گا تاکہ انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔

قومی اسمبلی پہلے ہی گزشتہ ماہ یہ بل منظور کر چکی ہے لیکن سینیٹ میں اس بل پر 17 نومبر کو ووٹنگ نہیں ہو پائی تھی، جب 104 میں سے صرف 58 سینیٹرز ہی ایوان میں موجود تھے۔

یہ بل دوبارہ 20 نومبر کو سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا لیکن ارکان کی غیر موجودگی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر قانون منظور نہ ہو سکا۔

قومی اسمبلی میں اس بل کی حمایت میں ووٹ دینے والی جماعت پیپلز پارٹی ہی سینیٹ میں اس بل کی حمایت سے ہچکچا رہی تھی کیونکہ اسے 2017ء کی مردم شماری کے نتائج پر تحفظات تھے۔

چونکہ تاخیر کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات وقت پر کرانے کا معاملہ بگڑتا جا رہا تھا، اس لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ ہفتے مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور ترمیم منظور کرنے کا فیصلہ کیا۔

ترمیم کی شرائط کے مطابق قومی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد وہی رہے گی تاہم پاکستان کی آبادی میں پنجاب کا حصہ 1998ء کے 56 فیصد سے کم ہو کر 2017ء میں 52 فیصد تک پہنچ گیا، اس لیے اس کی 7 نشستیں (براہِ راست الیکشن) کم ہوں گی، بلوچستان کی دو نشستیں (براہِ راست الیکشن) بڑھ جائیں گی، خیبرپختونخوا کو تین نشستیں (براہِ راست الیکشن) ملیں گی جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کو ایک اور نشست ملے گی، تاہم سندھ کا حصہ وہی برقرار رہے گا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here