ڈی جی ایل ڈی اے 22 پٹرول پمپوں کی نیلامی کے موقع پر

DG LDA on auction of 22 petrol pumps
DG LDA on auction of 22 petrol pumps

:لاہور

ڈی جی ایل ڈی اے کی عدالتِ عظمٰی میں غلط بیانی اور چیف جسٹس پاکستان کو حقائق سے برعکس رپورٹ دینے کی جراؐت صرف ایل ڈی اے کی ڈی جی کے پاس ہی ہو سکتی ہے۔

پچھلے دنوں جب لاہور میں 22 پٹرول پمپ سیل کرنے کی خبر پڑھی اور اس کے ساتھ ہی ڈی جی ایل ڈی اے کا چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے سامنے  دیا گیا بیان پڑھا تو حیرت ہوئی۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے نا صرف چیف جسٹس کو گمراہ کرنی کی کوشش کی بلکہ اسنے عدالتِ عظمٰی میں کھڑے ہو کر بڑی بےباکی سے جھوٹ بولا اور اسکے بیانیے کا مرکز یہ تھا کہ پٹرول پمپ کی نیلامی والے دن سابقہ پٹرول پمپ کے کرایے داروں نے ہنگامہ آرائی کی اور بولی نہیں ہونے دی جبکہ ایل ڈی اے خود بھی اس بولی کی مکمل ویڈیو بنائی اور اُس میں کسی جگہ بھی کسی قسم کی بھی بدمزگی یا پرانے کرایے داروں کیطرف سے احتجاج کا کوئی منظر نہیں آ رہا تو پھر ایک ڈی جی ایل ڈی اے کے عہدے پر قائم خاتون نے ناصرف چیف جسٹس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ عدالتِ عظمٰی میں جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لیتے ہوئے اپنی نوکری کو مستحکم کیا۔

حقیقت میں یہ پٹرول پمپ سابقہ کئی ڈی جی ایل ڈی ایز کی نظر میں تھے اور وہ ان سی اپنے ذاتی مفادات پورا کرنے چاہتے تھے اور یہ سلسلہ چلتے چلتے موجودہ ڈی جی ایل ڈی اے تک پہنچا۔ ڈی جی ایل ڈی اے جو کہ اس وقت شہر میں موجود انتہائی طاقتور افراد کی قبضہ کی گئی جائیدادوں کو گِرا رہی ہے۔ اسے ڈر تھا کہ کوئی مضبوط فرد اسکا تبادلہ نہ کروا دے، اسلیئے اسنے پٹرال پمپ کی نیلامی کی آڑ میں ناصرف عدالت کو گمراہ کیا بلکہ عدالت سے یہ بھی آرڈر حاصل کر لیا کہ جب تک ان پٹرول پمپ کی نیلامی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی تب تک ڈی جی ایل ڈی اے – ڈی جی ایل ڈی اے کی حیثیت سے اسی عہدے پر فائز رہے گی۔

ڈی جی ایل ڈی اے کی غلط بیانی نمبر 1 کہ یہ پٹرول پمپ والے قابضین نہیں ہیں، انہوں نے غیر قانونی طور پر کسی زمیں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ مختلف ادراک میں یہ زمین رینٹ پر اور لیز پر ملی ہوئی ہے۔ اسکا یہ ریگولر کرایہ جمع کرواتے آ رہے ہیں جو کہ 2019 تک جمع شدہ ہے تو اسکو 2018 میں خالی نہیں کروایا جا سکتا مگر ایل ڈی اے کی ڈی جی نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کیونکہ وہ اور اس سے پہلے کے ایل ڈی کے افسران، سابقہ ڈی جیز صاحبان ان قبضہ گروپوں سے مفادات لیتے رہے ہیں جب یہ گرہنڈ آپریشن ہوا ہے تو انہوں نے اپنی نوکری کو پختہ کرنے کیلئے چیف جسٹس سے غلط بیانی کر کے اسے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ نیلامی والے دن یہاں پر ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ چیف جسٹس پاکستان بڑی باریک بینی سے ہر مقدمے کو دیکھتے ہیں اور جہاں پر ریکارڈنگ موجود ہوتی ہے تو عدالتِ عظمٰی اس ریکارڈنگ کو چلاتے ہیں۔ ایل ڈی اے سے نیلامی کی ریکارڈنگ منگوائی جائے اور دیکھا جائے کہ کیا کسی پمپ والے نے ہنگامہ آرائی کی؟ اگر کسی نے کی ہے تو اسکا لائنسس ختم کر دیا جائے اور سزا دی جائے جبکہ 22 افراد کیساتھ 2200 گھرانے جو بیروزگار ہونے جا رہے ہیں انکو پروٹیکٹ کرنا بھی چیف جسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

میں نے جب تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنا چاہی تو یہ دیکھ کر میں شش و پنج میں پڑ گیا کہ اتنے سنجیدہ مسئلے پر جب 22 پٹرول پمپ کی نیلامی ہو رہی ہو تو ڈی جی ایل ڈی اے اپنے بچے کیساتھ گود میں اٹھائے اس طرح گھوم رہی تھیں جیسے وہ اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں ہوں تو کیا سرکار انہیں اس طرح ڈیوٹی پرفارم کرنے کی اجازت دیتی ہے؟

محترمہ نے جو چیف جسٹس پاکستان کیساتھ دانستہ غلط بیانی کیساتھ کام لیتے ہوئے ایک خود ساختہ سٹوری سنائی جس کی رو سے نیلامی والے دن پٹرول پمپ کے سابقہ ملکان نے ہنگامہ آرائی کی اور نیلامی نہ ہونے دی جبکہ ایک ایک ویڈیو کلپ اس بات کا ثبوت ہے کہ نیلامی انتہائی پرسکون ماحول میں تھی مگر خریدار کوئی نہیں تھا اور کوئی شخص بھی نیلامی میں حصہ لینے کیلئے نہیں آیا اور نا ہی کسی فرد نےنیلامی کیلئے جمع کروائے جانے والی رقم کسی بینک میں ڈپوزٹ کروائی۔

26 ستمبر 2018 کو ایل ڈی اے کی جانب سے 22 پٹرول پمپوں کی جگہ کی کرایہ کی بنیاد پر نیلامی دی گئی اور جس کا کرایہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباََ 82 ہزار 3 سو روپے بنتا تھا۔

یہ 22 پٹرول پمپ جن کو ایل ڈی اے نے سیل کیا ہے کچھ عرصہ مزید بند رہے تو انکی جگہ محلے محلے، گلی گلی اور دوکانوں میں پٹرول بکنا شروع ہو جائے گا جس سے ناصرف انسانی زندگی کو خطرہ ہے بلکہ لا قانونیت کا ایک اور راستہ کھل جائے گا جو پہلے بھی مختلف شہری حدود میں بڑے حادثات کی وجہ بن چکا ہے۔ کیا میرے جیسا ایک ادنٰی رپورٹر ایک تحقیقاتی رپورٹ حاصل کر کے آپ تک پہنچا سکتا ہے تو چیف جسٹس پاکستان ان باریک بینیوں کو کیسے نظر انداز کر گئے۔ یہ پاکستان کے شہریوں کا حق ہے کہ سچ اور حقیقت عدالتِ عظمٰی تک پہنچائیں جس سلسلے میں یہ تحقیقات میں نے کیں اور جو سچائی مجھے نظر آئی میں نے وہ قلم بند کی تاکہ عدالت کو حقائق کا علم ہو۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here