اعلانِ جنگ یا اعلانِ بغاوت

AGHA WAQAR AHMED

یہ کالم 14 مئی2018 کو شائع ہوا۔

اعلانِ جنگ یا اعلانِ بغاوت

کچھ روز پہلے کی بات ہے جب پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اپنی بدعنوانیوں کے سلسلے میں نیب کی عدالت میں پیش ہوئے اور باہر آ کر انہوں نے صحافیوں سے جو گفتگو کی اس میں ایک لفظ استعمال کیا جس کو میں تو بغاوت کا نام دیتا ہوں لیکن مسلم لیگ ن کے کارکن اسے اعلانِ جنگ کہتے ہیں۔

رسمی گفتگو کے بعد انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے راز ہیں اگر میں کھولو تو سب کچھ برباد ہو جائے گا۔ ہاں یہ حقیقت ہے ہر ملک کہ ہر سربراہ کے پاس ایسے راز ہوتے ہیں جو وہ پبلک کر دے تو ان کی سلطنت کی بنیادیں ہل جاتی ہیں یا سلطنت کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو جب لاہور ہائی کورٹ سے سزائے موت کا حکم جاری ہوا  تو سپریم کورٹ آف پاکستان میں انہوں نے اپنی صفائی میں جو کچھ کہنا تھا ، انہوں نے یہی کہا کہ احمد رضا قصوری کے والد محمد خان رضا قصوری کے قتل میں میرا ہاتھ کوئی نہیں ہے لیکن اگر میں آپ کو سچ بتاؤں تو میرے اس عہد کی عہد شکنی ہوتی ہے جو میں نے وزیراعظم پاکستان بنتے وقت حلف اٹھایا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے حلف کی پاسداری کی اور اپنی جان تک کھو دی۔

مگر افسوس پاکستان کے 3 دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم جنہیں تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا اور جنہوں نے اپنے آپ کو مسلم لیگ کا صدر بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کی ۔ اس ترمیم کی آڑ میں انہوں نےختمِ  نبوت کے قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی  اور کچھ عرصہ کیلئے اپنے آپ کو مسلم لیگ کا صدر منتخب کر وا لیا تھامگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آیا تو ان سے یہ ناجائز رتبہ بھی لے لیا گیا کیونکہ بدعنوان اور سزایافتہ انسان کسی پارٹی کا نوکربھی نہیں بن سکتا یہا ں تو نواز شریف تا حیات قائد مسلم لیگ بنے بیٹھے ہیں اور ان کے ذہن میں بغا وت اور بادشاہت کا خواب  ہے۔ نواز شریف آرٹیکل 62 ون ایف   کے تحت نااہل ہوا ہے جس کے پاس کوئی حق نہیں کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لے۔

مگر صد افسوس اس وقت کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہتا ہے کہ نواز شریف میرا وزیراعظم ہے اور تمام حکومتی مشینری نیب اور سپریم کورٹ کے خلاف شعلہ بیانیوں سے باز نہیں آ رہی اور حد تو یہ ہو گئی کہ نواز شریف نے بھارت کے بیانیے کو نا صرف تسلیم کیا بلکہ وضاحت بھی کی اور ہمدردی بھی کی اور دنیا میں اس نے  تاثر دیا کہ جیسے  ممبئی حملے  پاکستان نے کروائے تھے اور تاج محل ہوٹل میں 150 لوگ جو  مارے گئے تھے وہ پاکستان حکومت نے مروائے تھے۔

ایک طرف تو یہ سفید جھوٹ ہے اور دوسری جانب ریاستِ پاکستان سے غداری کا اعلان ہے۔

آج پاکستان مسلم لیگ ن کا تاحیات قائد بھارت کی زبان بول رہا ہے اور بھارت کے بیانیے کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے جو سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے جس میں غداری اور غدار کی سزا سزائے موت ہے۔

مسلم لیگ کے کئی اراکین اس جستجو میں ہیں اور کچھ الجھ چکے ہیں کہ وہ مسلم لیگ چھوڑیں یا اس غلط بیانیے کا ساتھ دیں۔ کوئی پاکستانی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ 3 دفعہ وزیراعظم رہنے والا شخص ریاستی راز عوام الناس کے سامنے توڑ مروڑ کے پیش کرے گا کہ وہ اپنے کاروباری شریک بھارت کو خوش کر سکے ، چاہے پاکستانی سالمیت کو کتنا بھی خطرہ ہو۔

اب مسلم لیگ کے پاس ایک ہی حل ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف  نواز شریف شریف سے لا تعلقی کا اعلان کریں اور مسلم لیگ ن کو مسلم لیگ ش میں تبدیل کر دیں کیونکہ اس وقت نواز شریف کے بیانیے کا جو ساتھ دے گا وہ درحقیقت ریاستِ پاکستان کو توڑنے کی سازش میں شریک ہو گا۔

اگر ہم تھوڑا سا زور اپنے ذہن میں ڈالیں تواسی نواز شریف نے کہا تھا کہ مجھے منیب الرحمن سے  مجیب الرحمن بننے میں مجبور نہ کیا جائے۔ یہ جتنی مرضی کرپشن کر لیں ، جتنا مرضی پیسہ لوٹ لیں ، دنیا میں جہاں مرضی جائیداد بنا لیں  اسکا کوئی ڈاکومنٹ پیش نہ کر سکیں، ملک لوٹ کھائیں مگر ان سے پوچھا نہ جائےاور جب عدالتوں نے پوچھ لیا تو چند دن پہلے اس نے اعلانِ جنگ کیا ، میں جسے اعلانِ بغاوت کہتا ہوں ۔ نیب کی عدالت کے باہر آتے ساتھ کہتے ہیں کہ میں پھر وہ راز اگلوں گا تو قیامت آ جائے گی اور آخرکار اپنے کاروباری  شریک پارٹنرز کے کہنے پر انہوں نے وہ بیانیہ بولا جو پہلے دن سے بھارت بول رہا ہے۔

پاکستان میں لوگوں کی یادداشت اتنی لمبی نہیں  یہ بھول گئے کہ مری میں بھارت کے سب سے بڑے لوہے کے تاجر کے ساتھ اسکی ملاقات جبکہ اس تاجر کے پاس اسلام آباد سے باہر جانے کا ویزہ نہیں تھا۔ وہ ملاقات کیوں ، کیسے اور کس لیے ہوئی؟

قوم یہ بھی بھول گئی کہ 220 مسافروں سے بھرا ہوا جہاز جس میں بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل تھا وہ لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کر کے بغیر پاسپورٹ بغیر ویزہ گاڑیوں میں بیٹھ کے سیدھا جاتی عمرہ گیا اور وہاں پر انہوں نے کھانے کے ساتھ ساتھ جو خفیہ معاہدے کیے اس ملک کو کمزور کرنے کیلئے وہ ابھی تو منظرِ عام پر نہیں آئے ۔اور اگر منظرِ عام پر آیا ہے تو نواز شریف کا نیا بیانیہ جس میں وہ غداری کرنے کے مرتکب ہوئے۔

ہر پاکستانی کی درخواست ہے کہ پاک افواج کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پراس نواز شریف کے بیانیے پر کوئی سخت قدم اٹھائیں تاکہ ریاستِ پاکستان داؤ پر نہ لگ جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کہیں  بڑی دیر ہو گئی ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here