ڈیل یا ڈھیل

AGHA WAQAR AHMED

ڈیل یا ڈھیل

اس قوم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اسکا پہلا صدر کون تھا، تاریخ یہ بھی بھول گئی کہ پہلی سیاسی حکمتِ عملی یا این آر او یا مصالحت کس نے کی وہ تو ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر جھومنے کے بعد بینظیر نے کی اور نصرت بھٹو کو مجبور کیا کہ ان افراد کیساتھ مل کر حکومت بنا لے جن لوگوں نے مل کر ذوالفقار بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا تھا۔ اگر بینظیر اپنے باپ کے قاتلوں کیساتھ اتحاد کر کے حکومت بنا سکتی تھی تو کیا پاکستان مسلم لیگ جو اس وقت کرنے جارہی ہے کیا وہ این آر او ہے، نہیں وہ بھی این آر او نہیں ہے وہ بھی تحفظ نواز شریف و شہباز شریف ہے۔ لوٹ ماڑ کا بازار یونہی گرم رہے گا اور اسی کو ہی شاید پاکستان کہتے ہیں۔

اگر بینظیر اپنے باپ کے قاتلوں کیساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہے اور اسکو مفاہمت کا نام دے سکتی ہے تو کیا عمران خان اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے علیم خان کی قربانی نہیں دے سکتا، کیا بزدار خود اس سیاسی عمل کا حصہ ہے یا اس کے پیچھے کچھ ایسے عوامل یا ادارے موجود ہیں جو ہر حالت میں اسکو کامیابی کیطرف لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جو آپ کیلئے چھوڑے جا ریا ہوں اور اس میں ایک مسئلہ ایسا بھی ہے جس پر آپ غور نہیں کرتے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم این ایز اور ایم پی ایز حضرات  ترقیاتی بجٹ نہ ملنے کی وجہ سے تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہیں۔

یہ سیاست میں ڈیل اور ڈھیل کی آواز بلند کرنے میں جتنا ہاتھ پاکستان تحریک انصاف کا ہے اس سے کہیں زیادہ شیخ رشید کا، مگر نا تو کوئی ڈیل اور نا ہی کوئی ڈھیل حکومت کے اختیار میں ہے۔

اگر کسی قسم کی کوئی انسانی بنیادی حقوق پر رعایت ملنے کی امید کی جا سکتی ہے تو وہ موجودہ حالات میں عدلیہ کے ہاتھ میں ہے۔

کوئی بھی ریاست یہ نہیں چاہے گی کہ ایک شخص جو 3 مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم بنا ہو اور جس کی عمر 70 کے لگ بھگ ہو اسے جیل کی سلاخوں کی پیچھے کوئی ایسا عارضہ ہو جائے جس سے اسکی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہو جائے اور خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو اسکی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور عدلیہ پر عائد ہو گی۔

لیکن اسکے ساتھ ساتھ ایک بہت کڑوا سچ  یہ بھی ہے کہ پاکستان میں تو نہیں بلکہ صرف پنجاب میں 375 قیدی جن کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں۔  وہ عارضہ قلب کیساتھ ساتھ گُردوں کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان میں تقریناَ 70 قیدی ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔

اگر نواز شریف کو اسکی مرضی کے مطابق علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت عدلیہ دے تو پھر ان 375 قیدیوں کا کیا قصور ہے؟

ایک طریقہ کار ہے کہ حکومت وقت اور حزب اختلاف مل کر ایک قانون پاس کریں کہ وہ تمام قیدی جن کی عمر 60 سال سے زیادہ ہو اور وہ اسطرح کے عارضے میں مبتلا ہو جائیں تو انکی ناصرف سزا معاف کر دی جائے بلکہ باقی مانندہ زندگی میں اسکا علاج بھی سلطنت پاکستان یا اسکے ادارے کروائیں۔

کسی عام قیدی کو یہ رعایت کیوں نہیں دی جا سکتی ہے جبکہ قانون کی نظر میں تمام قیدی ایک برابر ہوتے ہیں۔

دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں انصاف کی دیوی پر بندھا ہوا کپڑا اتار دیں تاکہ انصاف بھی امیر و غریب میں تمیز کر سکے تو پھر ان حالات میں نواز شریف کو علاج کروانے کیلئے باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے پر شرط یہ ہے کہ وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کریں۔

جیسے ہی نواز شریف کو پاکستان کی حدود پار کرنے کی اجازت دی جائے اس سے پہلے قومی اسمبلی میں قانون پاس کر کے پاکستان کے تمام قیدی جن کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے اور وہ اسی طرح کی بیماریوں کو بہادری سے سامنا کر رہے ہیں انہیں بھی رہا کر دیا جائے اور ان کے علاج کیلئے بھی کم از کم سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کروانے کا انتظام کیا جائے تب اسے انصاف کہا جایے گا وگرنہ میں بھی اور مجھ جیسے لاکھوں انسان سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اگر یہ ڈیل نہیں تو کوئی ڈھیل ہے اور ڈھیل حکمرانِ وقت نہیں دیتا وہ کہیں اور سے ملتی ہے لیکن کہیں اور سے  ڈیل اور ڈھیل ملنے کی تصدیق کرے گا کون؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here