کسٹمز انٹیلی جنس کا کریک ڈاؤن، چھالیہ کی 8500 بوریاں پکڑ لیں

customs intelligence crack down 8500 sacks of bit nut
customs intelligence crack down 8500 sacks of bit nut

 :کراچی

ملک میں4 ماہ قبل قانونی طور پردرآمد ہونیوالی چھالیہ کی 8500 بوریاں ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس کراچی نے 5 روز قبل قبضے میں لے لی ہیں تاہم بدھ کی شام تک ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اس ضمن میں باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے چھالیہ کی فروخت پرپابندی عائد کرنے اور30 اپریل2018 تک چھالیہ کے کاروبار سے منسلک بیوپاریوں کوکاروبارکی منتقلی کیلیے مہلت دینے کے فیصلے کے بعد متعلقہ محکموں نے مئی تا اکتوبر2017 کے دوران درآمد ہونے والی چھالیہ کے گوداموں پر پڑے ذخائر کو قبضے میں لینا شروع کردیا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی نے سائٹ کے علاقے میں ارباز گودام میں انڈونیشیا سے قانونی طور پردرآمد ہونے والے چھالیہ کی 8500 بوریاں گزشتہ ہفتے قبضے میں لے لی تھیں لیکن تاحال اس کی ایف آئی آر کا اندراج نہیں کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں تحقیقات کررہے ہیں اور متعلقہ درآمدکنندگان سے درآمدی چھالیہ سے متعلق دستاویزات حاصل کرنے کے بعدان کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کی جائے گی اوربعد ازاں ضرورت پڑے گی تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ پاکستان پہنچنے والے چھالیہ کے کنسائمنٹس کی لیب ٹیسٹنگ سے مشروط کیے جانے کے باعث مزید تقریباً 130 کنٹینرز بندرگاہوں پر پڑے ہوئے ہیں جبکہ پہلے سے درآمد ہونے والے چھالیہ کے کنسائمنٹس جو  قبضے میں لیے گئے ہیں کی حوالگی کے لیے مبینہ طور پر نچلے درجے کے افسران بھاری رشوت طلب کررہے ہیں اور یہ افسران شاہراہ فیصل کے ایک گیسٹ ہاؤس میں یومیہ 4000 روپے کرائے کے عوض گزشتہ 4 ماہ سے رہائش پذیر ہیں۔

کموڈٹیز کے ایک سرفہرست درآمدکنندہ اور کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ہارون اگر نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے روکی گئی چھالیہ لیب ٹیسٹنگ کی شرط سے قبل درآمد ہوئی تھی اور ان کی کسٹمزکلیئرنس باقاعدہ ڈیوٹی وٹیکسوں کے بعد حاصل کی گئی تھی جنہیں قبضے میں لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہارون اگر نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہوں پرچھالیہ کے130 کنٹینرز پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے ریلیز آرڈرز کے عدم اجرا کے باعث رکے ہوئے ہیں، ارباز گودام میں موجودچھالیہ کی بوریوں کو پکڑنے اور بندرگاہوں پررکے ہوئے کنسائمنٹس کی وجہ سے نہ صرف بیوپاریوں میں خوف وہراس کی لہردوڑ گئی ہے بلکہ مقامی تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں چھالیہ کی فی کلوگرام قیمت کئی گنا بڑھ کر 1500 سے2300 روپے فی کلو گرام کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔

کے سی سی آئی کے صدر نے اس امرکے بھی خدشے کا اظہار کیا کہ اب ملک میں مس ڈیکلریشن کے ذریعے چھالیہ کی آمد بڑھ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت نے املی اورجھاڑو کے کنسائمنٹس کو بھی پلانٹ پروٹیکش ڈپارٹمنٹ کی لیب ٹیسٹنگ سے مشروط کردیا گیا ہے جس سے املی کی قیمت100 روپے سے بڑھ کر400 روپے کلوہوگئی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here