سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارا جواب

Crown prince downplays Trump's statement on Saudi military
Crown prince downplays Trump's statement on Saudi military

:ریاض

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکا کی مدد کے بغیر بھی ہزاروں سال تک قائم و دائم رہ سکتا ہے۔

امریکی جریدے کو انٹرویو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سیکیورٹی کیلئے امریکا کو کوئی ادائیگی نہیں کرے گا، امریکا سے فوجی سامان مفت میں نہیں لیا، ہمیشہ نقد پیسے دیے ہیں۔

خیال رہے کہ کچھ روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ شاہ سلمان کی حکومت امریکی فوج کے تعاون کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔ ریاست میسی سپی کے شہر ساؤتھ ہیون میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی حفاظت کر رہے ہیں اور سعودی فوج کے لیے اسے ہمیں ادائیگی کرنی ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر اب سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ ‘مملکت میں چند مٹھی بھر شدت پسند عناصر ہیں جن سے قانون کے مطابق نمٹا جارہا ہے، سعودی عرب اپنے بل بوتے پر مزید 2 ہزار سال تک قائم رہ سکتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تاہم بات اگر معاشرتی تغیر کو کامیابی سے سنبھالنے کی ہو تو بلاشبہ امریکا آخری ملک ہوگا جس کا طریقہ ہم اپنائیں گے۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ مالیاتی، سیاسی اور قانونی اصلاحات کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے لیکن اس معاملے میں سعودی تاریخ امریکا کی تاریخ سے کافی مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر آپ امریکا کو دیکھیں، مثال کے طور پر جب امریکیوں نے غلاموں کی آزادی کی جدوجہد شروع کی تو اس کی کیا قیمت چکانی پڑی؟ خانہ جنگی۔۔ اس نے امریکا کو کئی برسوں تک تقسیم کیے رکھا، ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑی’۔

محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ ‘دوسری جانب ہم اپنے ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی سے نجات حاصل کررہے ہیں اور وہ بھی کسی خانہ جنگی کے بغیر، ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹائے بغیر’۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارا ملک امریکا سے پہلے بھی موجود تھا اور آئندہ 2 ہزار سال تک بھی کوئی خاص خطرہ نظر نہیں آرہا’۔

محمد بن سلمان نے واضح طور پر کہا کہ ‘ہم اپنی سیکیورٹی کے لیے کوئی ادائیگی نہیں کریں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے امریکا سے جتنے بھی ہتھیار لیے ہیں وہ مفت میں نہیں ملے ان کی ادائیگی کی گئی ہے، سعودی عرب کے ذمے کوئی قرض نہیں کیوں کہ ہتھیاروں کی خریداری ہمیشہ نقد میں کی گئی ہے’۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کے صدر بننے کے بعد سعودی عرب اپنی ضرورت کا 60 فیصد اسلحہ امریکا سے لینے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے، میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اتحادیوں کے درمیان کبھی کبھار ہوجانے والا معمولی اختلاف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here