سی پیک صرف پاکستان اور چین کا نہیں پورے خطے کا منصوبہ ہے، وزیراعظم

CPEC not only plan of Pak-China but of entire region, Prime Minister
CPEC not only plan of Pak-China but of entire region, Prime Minister

:ڈیووس

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ صرف پاکستان اور چین کا نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے اور ہم قوم کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق اور مغرب سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو افغان تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

Prime Minister is pressing a press conference in Davos with federal ministers
Prime Minister is pressing a press conference in Davos with federal ministers

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عالمی اقتصادی فورم ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم ذریعہ ہے اور فورم کے دوران متعدد سربراہان مملکت اور رہنماؤں سے مفید ملاقاتیں ہوئیں۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ سی پیک صرف پاکستان اور چین کا نہیں بلکہ پورے خطے کا منصوبہ ہے، سی پیک کے ذریعے ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنا رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چین کاعزم خوشحال مشترکہ مستقبل کا حصول ہے جب کہ تصادم زدہ علاقوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کے شعبے میں ترقی ہی کامیابی کا راستہ ہے اور آخری تین سالوں میں آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان نے بہت ترقی کی ہے اور 2020 تک آئی ٹی کے شعبے میں 20 ارب ڈالرکا ہدف حاصل کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے، پاکستان کی 37 فیصد آبادی تھری جی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے اور ہر مہینے 10 لاکھ افراد تھری جی اور فور جی کے ساتھ منسلک ہو رہے ہیں۔

وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت پرائم منسٹر ہیلتھ پروگرام کے تحت بنیادی صحت پرتوجہ دے رہے ہیں، اس پروگرام کے تحت خواتین کی صحت کے مسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کا ہونا افسوسناک ہے لیکن گزشتہ 4 سالوں میں انسداد پولیو کے حوالے سے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور گزشتہ برس پولیو کے صرف 8 کیسز سامنے آئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here