سازش

AGHA WAQAR AHMED

سازش

ڈی جی ایل ڈی اے دانستہ طور پر عمران خان کی حکومت کو غیر مستحکم کررہی ہیں، ایسے فیصلے کر رہی ہیں جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو جیسا کے 22 پٹرول پمپ کو بے وجہ بند کرنا ایک مثال ہے۔

ایک منظم سازش تحریکِ انصاف کیخلاف کی جا رہی ہے جس میں سابقہ دورِ حکومت کی افسر شاہی ملوث ہے مگر اس بات کا احساس عمران خان کو دلائے گا کون؟

پاکستان کی معاشی حالت جس قدر مشکلات میں پھس چکی ہے ان حالات میں کسی گھر کا چولہا چلانے کیلئے ایک سے زائد افراد کا کام کرنا اشد ضروری ہے اور حصولِ روزگار بھی بہت مشکل ہو گیا ہے جبکہ ان حلات میں کسی خاندان کے سربراہ کی نوکری ختم ہو جائے تو آپ انداہ نہیں لگا سکتے کہ اس کو کتنی مشکالات سے گزرنا پڑتا تھا۔ حال ہی میں ڈی جی ایل ڈی اے نے لاہور میں سے 22 پٹرول پمپ نیلامی میں شامل کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے کے بعد جب نیلامی کا وقت تہہ ہوا تو یہ سچائی روز حشر کی طرح اٹل ہے کہ اس بولی میں شریک ہونے کیلئے کسی بھی فرد نے بولی کی مطلوبہ رقم جمع نہیں کروائی مگر پھر بھی ڈی جی ایل ڈی اے نے ڈمی افراد کھڑے کر کے پٹرول پمپ کی زمینوں کو 3 سال کرایے پر دینے کیلئے سالانہ کی مد سے بولی کروائی جو کہ 3 کروڑ روپے سالانہ سے لیکر 5 کروڑ روپے سالانہ تک ایک کنال کا کرایہ تھا(خالی پلاٹ کا کرایہ جس پر کوئی تعمیر یا مشین نہیں جبکہ تاثر یہ دیا گیا تھا کہ جیسے کسی پٹرول پمپ کو اس ریٹ پر دینا ہے۔ ) اس وجہ سے اس میں کوئی شریک نہیں ہوا۔ اس پر پہلے بہت کچھ تحریر کر چکے ہیں لیکن کیا اس حقیقت کو بھی کسی نے دیکھا ہے کہ جب ایک پٹرول پمپ بند ہو گا تو کتنے لوگ بے روزگار ہوں گے، ان کو بیروزگار کرنے کا ذمہ دار کیا پاکستان کی اعلٰی عدلیہ ہو گی یا پھر موجودہ قوانین ہوں گے یا ڈی جی ایل ڈی اے ہو گی جنہوں نے اسی کیس کے درمیان اپنی نوکری کو پکا کرا لیا اور سپریم کورٹ سے آرڈر لے لیے کہ جب تک نیلامی نہیں ہوتی وہ اپنی نوکری پر قائم رہیں گی اور انکی ٹرانسفر بھی نہیں کی جائے گی۔

چند سال پہلے اسی طرح کی نیلامی پی ایس او کے پٹرول پمپ کی لبرٹی چوک میں ہوئی، میرے خیال میں 5 سال کا عرصہ بیت گیا۔ جس کمپنی نے اسکو نیلامی میں حاصل کیا اسنے کرایہ بھی ادا کیا، معاہدے کی رو سے ہر سال کرایہ دینا تھا مگر چونکہ ایک پٹرول کو چلانے کیلئے 20 سے لیکر 28 تک محکموں کی اجازت لینی پڑتی ہے جو کہ وہ حاصل نہ کر سکا اور اس نے اپنے پیسے کا ضیاع کیا اور اس زمین کو چھوڑ دیا، بعد میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی جو کہ آج کل نیب کے زیرِ سایہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور نیب کے مہمان بن چکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو فیصلہ لیا تھا اس زمین کو بعد میں کار پارکنگ کو دے دیا گیا اور کار پارکنگ والے نے بھی چند ایک ماہ کرایہ دیا اور اسکے بعد اسنے بھی ایل ڈی اے کو کرایہ نہیں دیا کیونکہ پٹرول پمپ کی زمین لیز پر لے لینا ہی کام نہیں بلکہ اسکے لیے ماہر افراد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ تو ایسے ہوا کہ ایک بلڈنگ لیں اس پر ہاؤس میٹر کا بورڈ لگا کر بندے کو چھری چاقو سے کاٹ دیں – اب ڈاکٹر ہو گا تو بندے کا آپریشن ہو گا، لائنسس ہو گا تو پٹرول پمپ چلے گا، کوئی کمپنی اسکو اجازت دے گی تو کوئی پٹرول پمپ کھولے گا مگر موجودہ ڈی جی ایل ڈی اے نے 22 پٹرول پمپ کو فی الفور سیل کر دیا اور اب وہ ان کی زمین کو کرایے پر لینے کی بولی لگانا چاہ رہی ہے مگر جب کبھی بھی کوئی اشتہار دیا جاتا ہے تو اس میں ظاہر یہ کرتی ہیں کہ جیسے وہ پٹرول پمپ لگا لگایا کرایے پر دے رہی ہیں تو اسکا بھی جواب ضرور عوام الناس کو ملنا چاہیے مگر اس سے بڑھ کر جو مشکل ہے وہ ان افراد کا بیروزگار ہونا ہے۔ ایک پٹرول پمپ کے اوپر اگر 4 مشینیں ہیں تو ان 4 مشینوں پر 8 بندے صبح اور 8 بندے رات کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، 16 یہ افراد ہو گئے، 3 کیشیئر صبح اور 3 رات کو ہو گئے، اب ٹوٹل 22 ہو گئے، 1 صفائی والا ہو گیا، 1 چوکیدار ہو گیا، 1 مینجر ہو گیا، 2 پنکچر لگانے والے ہو گئے،  اور 2 افراد سروس اسٹیشن کے ہو گئے اور 1 پٹرول پمپ کا مالک ہو گیا تو اب ٹوٹل 30 افراد مطلب 30 گھرانے ایک پٹرول پمپ کے ساتھ منسلک ہیں۔ جب ایک پٹرول پمپ کو آپ بند کرتے ہیں تو 30 گھرانوں کی آمدن مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اور 30 گھرانوں کے بچے اس سے فوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں اور 30 گھرانوں کے افراد اپنا علاج کروانے کی سقط نہیں رکھتے۔ اب اگر ایک پٹرول پمپ کے ساتھ 30 افراد وابستہ ہوتے ہیں اور ابھی میں نے دو افراد چھوڑ دیے جو گاڑیوں پر کپڑا مار کر روزی کماتے ہیں تو 30 کی بجائے 32 افراد ہو گئے۔ 32 افراد کو جب آپ 22 سے ضرب دیں تو 704 تعداد اسکی ہو جائے گی۔

یہ 704 خاندان بیروزگار ہو جائیں گے اور یہ بھی مثال قائم ہے کہ لبرٹی مارکیٹ کے جو ملازمین بیروزگار ہوئے تھے انہوں نے جس قدر غربت میں زندگی گزاری اور جس طرح پچھلے 5 سال سے پِس پِس کر مر رہے ہیں اسکا ذمہ دار بھی اس وقت کا ڈی جی ایل ڈی اے ہے اور شاید اسی کی بددعا سے ان 30 افراد کی اس قدر ناجائز آمدن کمائی کہ آج نیب نے اسے حوالات کے پیچھے پھینکا ہوا ہے تو خدارا یہ 704 گھرانوں کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ درحقیقت یہ 704 گھرانوں میں اگر فی گھر کے اندر 5 افراد بھی موجود ہوتے ہیں تو کل 3520 افراد مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔  پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کہا جاتا ہے تو کیا فلاحی ریاست میں 3520 افراد کو غربت کی انتہائی نچلی سطح پر لانے کیلئے فیصلہ دیا جائے گا، پھر اسکا ذمہ دار کون ہو گا؟ وہ ڈی جی ایل ڈی اے جس نے یہ ٹوٹل نیلامی کے کاغذات جھوٹ پر مبنی حقائق کو عدالتِ عظمٰی میں پیش کر کے نیلامی کا آرڈر لیا یا اس وقت کی عدالتِ عظمٰی؟ فیصلہ رب العزت کی ذات کرے گی اور وقت آئے گا جب فیصلہ ہو گا کیونکہ رب کی لاٹھی بے آواز ہے، خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here