رنگین مچھلیوں کا کاروبار

COLOURFULL FISHES
COLOURFULL FISHES

رنگین مچھلیوں کا کاروبار
دنیا بھر میں ان کا کاروبار بڑے پیمانے میں کیا جارہا ہے اور ان کی افزائش کرنے والے ہزاروں ڈالر کما رہے ہیں۔
رنگین مچھلیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہیں چھوٹے سے رقبے پر اور کم وقت میں پالا جا سکتا ہے اور اس پر لاگت بھی کم آتی ہے اسطرح نسبتآٓ زیادہ منافع کمایا جاسکتا ہے۔ ان مچھلیوں کی افزائش آسان ہونے اور زیادہ منافع کی وجہ سے لوگ انکی افزائش کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ مچھلیاں نازک ہونے کے ساتھ ساتھ بہت منافع بخش بھی ہیں اسلئے انہیں دنیا میں بہت سے ملکوں میں گھروں میں بھی پالا جا رہا ہے۔
اس وقت پاکستان میں بھی بہت سے لوگ تالابوں، گھروں اور دکانوں میں ان مچھلیوں کی افزائش کر کے آمدنی لے رہے ہیں۔
بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور راولپینڈی میں ان کی مارکیٹیں ہیں جہاں ان کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔
خوبصورت مچھلیوں میں سے کچھ تو تقریبآٓ ماہانہ بچے دیتی ہیں جوکہ قومی بچت بینک کی طرح آپ کو مستقل آمدنی فراہم کرتی رہتی ہیں اور اسطرح ایک مستقل روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
خاص طور پر خواتین گھروں کے اندر ان کی افزائش کرکے اپنے خاندان کیلئے اضافی آمدنی حاصل کر سکتی ہیں۔
​رنگین مچھلیاں کئی اقسام کی ہوتی ہیں، کچھ بہت چھوٹے سائیز کی تو کچھ کافی بڑی، کچھ انتہائی پتلی جبکہ بہت ساری لمبائی کے مقابلے میں زیادہ موٹی جبکہ کچھ تو انتہائی عجیب و غریب شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ کچھ انڈے دیتی ہیں تو کچھ بچے اور کچھ اپنے انڈوں اور بچوں کو حفاظت کی خاطر منہ میں رکھتی ہیں تو کچھ انہیں کھا جاتی ہیں۔

چھوٹے پیمانے پر یوں تو آپ کسی بھی قسم کی مچھلی پال سکتے ہیں تاہم انتہائی محدود پیمانے پر جیسے کہ گھروں کے اندر پالنے کیلئے رنگین مچھلیاں انتہائی مناسب ہیں۔ مچھلیوں کو گھر کے کسی بھی حصے میں باآسانی پالا جاسکتا ہے۔ انہیں پانی کے ڈرم یا بڑے ٹب کے علاوہ پلاسٹک کے پانی یا کوکنگ آئل کے بڑے کین؛ کسی بھی قسم کے پرانے برتن جیسے بڑی دیگچی، بالٹی یا مٹی کے گھڑے وغیرہ؛
پرانے ٹائر اور ٹیوب سے بنے ٹب؛ یا کسی دیگر قسم کے برتن جن میں پانی کھڑا ہوسکے میں پالی جاسکتی ہیں۔
تاہم چھوٹے چھوٹے کچے یا سیمنٹ کے ٹینک تعمیر کرکے مچھلی پالنا سب سے بھترین طریقہ ہے۔

رنگین مچھلیاں بہت آسانی سے گھروں میں پالی جاسکتی ہیں۔ رنگین مچھلیاں ایک سے دو مہینے کے اندر بچے دیتی ہیں اسطرح ان سے ہر مہینے آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ان مچھلیوں کیلئے خوراک آسانی سے بنائی جاسکتی ہے اور بنی بنائی بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
ان مچھلیون کیلیئے صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ پانی میں آکسیجن کی مناسب مقدار کا ہونا ضروری ہے۔ آکسیجن کی سپلائی کیلئے چھوٹے سے ہوا پمپ کا استعمال کیا جاتا ہے جو مارکیٹ میں چند سو روپوں میں باآسانی دستیاب ہے۔

بازار میں زیادہ تر تھوک نرخ پر مچھلیاں فروخت کی جاتی ہیں درآمد شدہ چھوٹی مچھلیاں اور مقامی سطح پر پائی جانے والی مچھلیاں درجن کے حساب سے فروخت کی جاتی ہیں ٹھیلوں پر مچھلیاں فروخت کرنے والے بازار سے مچھلیاں خرید کر 5 گنا زاید قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

پاکستانی بازارں میں 100 سے زائد اقسام کی مچھلیاں فروخت کی جاتی ہیں فروخت ہونے والی پاکستانی مچھلیوں کی قیمت 60 روہے سے 5000 روہے تک ہے،
جبکہ درآمدی مچھلیوں کی قیمت 400 روپے سے لے کر 10ہزار روپے فی جوڑا تک ہوتی ہے۔

پاکستان کے پانیوں میں پائی جانے والی مچھلیوں کی مجموعی اقسام 193 ہے،

نیمو کا ننھا جوڑا 4000 روپے
ڈوری کا جوڑا 8سے 10ہزار روپے
1200 روپے کی ببل کریپ،
1000 روپے کی ریڈ کیپ،
800 روپے کی کارپ،
1500روپے کی لائن ہیڈ
گولڈ فش کا جوڑا 2500 روپے کے لگ بھگ ہے۔

اس کے علاوہ مختلف سائز اور نسل کی شارک مچھلیاں، فلاور ہورن، اروانہ، کوئی فش، مولی، گپی، پلیٹی ، سورڈٹیل ،البینو، کلون لوچ، ٹیٹرا، گپی، بٹرفلائی اور فائٹر فش اور اینجل جیسی منفرد اور خوبصورت مچھلیاں فروخت کی جاتی ہیں۔

شیشے کے ایکیوریم کی قیمت 1000 روہے سے 10 ہزار روہے تک ہے۔ جبکہ، دکانوں پر فرمائش کے مطابق بھی ایکیوریم بناکر دئے جاتے ہیں۔

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ 8 سے 10 دن بعد ایکیویرئیم کا پانی ضرور صاف ہوجائے۔ اس سے اس کے پیندے میں اکٹھا ہونے والا فضلہ اور جراثیم بھی دور ہوجائیں گے ۔
واضح رہے کہ مچھلی گھرمیں نل کا پانی ہی ڈالا جاتا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں ڈالے جانے والے دانے، کنڈیشنر اور چند مخصوص ادویہ اس پانی میں تیزابیت اور آکسیجن کو ایک خاص سطح پر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلیاں زندہ رہ پاتی ہیں۔

فلٹریشن موٹر اگر نارمل کوالٹی کی ہو تو پانی کو 10سے15دنوں کے بعد تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس اچھی کوالٹی کی موٹر سے آپ کو تین ماہ تک پانی تبدیل کرنے کی ذمہ داری سے نجات مل سکتی ہے۔

 

مچھلیاں رکھیں لیکن ان کی دیکھ بھال ،صفائی اور خوراک کا لازماً خیال رکھیں تاکہ وہ بھی آپ سے اتنا ہی لطف اٹھائیں جتنا آپ ان سے اٹھاتے ہیں۔ان کے لئے پانی کا موزوں درجہ حرارت 22سے32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here