اجتماعی خودکشی

AGHA WAQAR AHMED

اجتماعی خودکشی

حکومتِ وقت نے عوام کو اجتماعی خودکشی کی طرف گامزن کر دیا ہے آج سے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیسن ملنا بند ہوگئی ہے اور جو وارڈ کے اندر مریض داخل ہوتے ہیں وہ اپنی ادویات کے ساتھ ساتھ جو ٹیسٹ کروائیں گے اس کی بھی پیمنٹ کریں گے تو غریب کہا جائے گا ماسوائے اس کے کہ وہ مرنے کا انتظار کریں۔

ایک کام نہ ہو اور ان کے پاس کسی قسم کی کوئی پالیسی نہ ہو اور وہ حکومت چلانے میں ناکام ہوجائیں۔  قانون کو لاگو کرنے کے اختیارات کا استعمال کرنے کی بجائے اشرفیہ کے لیے کام کرنا شروع کر دیں تو عموماََ ایسی قومیں اس صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن تاریخ میں لکھا جائے کہ پاکستان ایک خطے پر آباد تھا جہاں کے افراد نے اجتماعی خود کشی کرلی اور اس کی تمام تر ذمہ داری اس دور کے حکمرانوں پر لاگو ہوتی ہے کیونکہ جب کوئی ریاست بنیادی حقوق، آئین کی بنیادی شک زندہ رہنے کے لیے، خوراک کمانے کے لئے، برابر موقع صحت اور علاج کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے مساوی حقوقدینے میں ناکام ہوجائے تو عوام الناس مجبورََ اجتماعی خود کشی کرنے کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں۔

موجودہ دور حکومت میں عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا پی ٹی آئی کی حکومت کے سات مہینے ہو گئے ہیں کوئی شخص مجھے سات کام گنوا دے جو انہوں نے کیے ہوں ۔ان کی کوتاہی اور نالائقی کی یہ حد ہے کہ نہ تو ان سے افسر شاہی پر کنٹرول ہو رہا ہے اور نہ ہی یہ قانون نافذ کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

مفروضوں پر حکومتی نہیں چلتی مزید عوام کو الجھانا فضول ہے کسی ایک سابقہ حکمران پر کسی قسم کا کوئی کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اس کے باوجود عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

تعلیم کی طرف ہو تو برابری کے بات نہیں، مساوی حقوق جب علم حاصل کرنے کے نہ دیئے جائیں تو معاشرہ بکھر جاتا ہے۔

صحت کے مسائل اور مفت علاج ریاست کی ذمہ داری ہے مگر جب حکومت سے ادویات بنانے والے ادارے اور کاروباری حضرات بےلگام گھوڑے ہو جائیں تو ادویات کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ ادویہ سازکمپنیوں کے مالکان انہیں راتوں رات 100 فیصد مہنگا کردیں، سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں ادویات ملنا بند ہو جائیں، مزید یہ کہ بنیادی ٹیسٹ بھی حکومت کی جانب سے مفت نہ رہے تو وارڈ میں پڑا ہوا مریض موت کی دعا نہ کرے تو کس بات کی دعا کرے؟

حکومت وقت کو فی الفور سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت بحال کرنا ہوگی ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here