چین کے ‘بے قابو’ خلائی اسٹیشن کا ملبہ بحر الکاہل میں گر گیا

China's space lab plummets to earth, breaks up over Pacific
China's space lab plummets to earth, breaks up over Pacific

:بیجنگ

چین کا ناکارہ خلائی اسٹیشن ‘تیانگونگ 1’ بحر الکاہل کے جنوب میں جزیرہ تاہیتی کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے چائنا اسپیس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ بے قابو خلائی اسٹیشن صبح تقریباً سوا 8 بجے کے قریب 27 ہزار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے ٹکرایا، تاہم زمین کے مدار میں آنے سے قبل خلاء میں ہی اس کا بیشتر حصہ تباہ ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ ماہرین نے اس حوالے سے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی خلائی اسٹیشن کو آگ لگ جائے گی اور یہ جل کر راکھ ہوجائے گا، لیکن اس کے کچھ حصے زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔

80 ٹن وزنی اس مصنوعی سیارے کے گرنے سےکسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

Most of the space station destroyed before entering in earth Orbit
زمین کے مدار میں آنے سے قبل ہی خلائی اسٹیشن کا بیشتر حصہ تباہ ہوگیا تھا—۔فوٹو/اے پی

خلائی اسٹیشن تیانگونگ 1 کو 2011 میں خلاء میں بھیجا گیا تھا، جس کا مقصد 2023 میں ایک انسان بردار خلائی اسٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کے لیے کام کرنا تھا۔

اس خلائی اسٹیشن کو 2013 میں واپس بلایا جانا تھا، تاہم اس کے مشن میں توسیع کی جاتی رہی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس خلائی اسٹیشن کو خلا نوردوں نے آخری بار 2013 میں استعمال کیا تھا، تاہم مئی 2017 میں چینی حکومت نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ اس خلائی اسٹیشن نے مارچ 2016 میں کام کرنا چھوڑا، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

تیانگونگ 1 کو ایک کنٹرولڈ پروگرام کے تحت بحرالکاہل میں گرانا تھا لیکن ستمبر 2016 میں چین کی خلائی ایجنسی نے یہ بات تسلیم کی کہ اس کا خلائی اسٹیشن سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

اگرچہ یہ واقعہ چین کے خلائی پروگرام کے لیے شرمندگی کا باعث تھا، لیکن اس نے کام کرنا نہیں چھوڑا اور ستمبر 2016 میں دوسرے اسپیس لیب ‘تیانگونگ 2’ کو خلاء میں بھیجا گیا۔

دوسری جانب چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی خلائی اسٹیشن کا زمین کے مدار میں دوبارہ داخل ہونا معمول کی بات ہے لیکن ‘تیانگونگ 1’ کے دوبارہ داخل ہونے پر اتنی بحث کی جا رہی ہے، کیونکہ کچھ مغربی ممالک چین کے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام پر کیچڑ اچھالنا چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here