نقیب اللہ کیس میں وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے، فاروق ستار

Chief Minister and Interior Minister should be taken into custody in Naqibullah case, Farooq Sattar
Chief Minister and Interior Minister should be taken into custody in Naqibullah case, Farooq Sattar

:کراچی

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہےکہ نقیب اللہ کے معاملے پر صرف راؤ انوار پر ملبہ ڈالنے سے مسئلہ نہیں ہوگا اس میں وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم نے کیا تھا، ہم نے شہر میں امن قائم کرنے کے لیے اتنی بڑی قربانی دی اور اس سے امن قائم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے اوربے بنیادمقدمات ہیں، یہ  سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے ووٹ ایم کیوایم پاکستان کے پاس ہیں لیکن شہر سے متعلق اجلاسوں میں میئر کراچی اور اپوزیشن لیڈر کو نہیں بلایا جاتا۔

نقیب اللہ کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیات کا مطالبہ

مبینہ پولیس مقابلےمیں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ سے متعلق بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اس معاملے پر اب تمام جماعتیں مذمت کررہی ہیں، غلط فعل کی کوئی حمایت نہیں کرے گا، سب اس کی مذمت کریں گے، اس غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس کا لائسنس کس نے دیا، اگر صوبائی حکومت کی خاموشی نے دیا تو صرف راؤ انوار کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کے خلاف بھی ہونی چاہیے ان سے استعفے کا مطالبہ ہونا چاہیے۔

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ حکومت کی بے حسی اور خاموشی تائید ہے، سارا ملبہ ایک پولیس افسر پر نہ ڈالا جائے اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، ایک کو ہٹا دیں گے تو دوسرا آجائے گا اور اسے ٹاسک دیا جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ ٹاسک دے کون رہا ہے، اس لیے سندھ حکومت کا احتساب ہونا چاہیے، عدالتوں کو اس پر بھی از خود نوٹس لینا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here