چکَلے اور ہیرامنڈیاں

AGHA WAQAR AHMED

چکَلے اور ہیرامنڈیاں

معاشرے میں تبدیلیاں 2 طرح کی رو پذیر ہوتی ہیں، مثبت اور منفی تبدیلی۔ کسی بھی دور میں مخصوص حالات کے اندر رہ کر باز اوقات یہ مثبت تبدیلی چند سال گزرنے کے بعد اسی معاشرے میں انتہائی منفی اثرات چھوڑتی ہے جس سے معاشرے کی بنیادیں ہل کر رہ جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی کھیل پاکستان میں 1977 میں کھیلا گیا اور ایک فوجی جرنیل نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر آئینی طور پر مسمار کر دیا اور خود کو امیرالمومنین کہلانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے تمام اخلاقی معیار، دوغلاپن اور ریاکاری نے معاشرے میں جنم لیا۔

جہاں ایک طرف ملک کو نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھونک دیا بلکہ وہی پر معاشرتی قوانین تبدیل کر کے قوم کو ریاکاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا۔ ایک طرف تو ضیاالحق کی خواہش تھی کی وہ ساری دنیا میں امیرالمومنین کہلائے اور کسی نہ کسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے خطے کو کلَی یا جزوی طور پر سلطنتِ پاکستان کا حصہ بنا لے جس کے لیے اس نے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور پاکستان میں ایسے اسلامی قوانین رائج کر دیے جس کا معاشرہ متحمل نہیں تھا۔ جس میں ایک قانون جسم فروشی کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں موجود تمام مخصوص علاقے اور محلَوں کو بند کر دیا جس سے اس دھندے میں ملوث افراد معاشرے کے گلی کوچوں میں پھیل گئے چونکہ ان کے پاس دولت کی فراوانی تھی یا ان جسم فروشی کا کاروبار کرنے والوں کے تعلقات اشرفیا کے ساتھ تھے جس سے انہوں نے پاکستان کے طول وعرض میں جائیدادیں خریدیں اور ایک ہیرا منڈی بند کرنے کے عوض معاشرے میں ہزار جسم فراشی کے اڈَوں نے جنم لیا۔

یہ اُس دور کی بات ہے جب روس کو توڑنے کے لیے افغانستان کے ایک خاص ٹولے کو مراعات حاصل تھی کہ وہ بغیر کسی روک ٹوک کے سرحد کی دونوں جانب آ جا سکتے تھے۔ جہاں انہوں نے معاشرے میں ہیروئن، کلاشنکوف کو پاکستان بھر میں عام انسان کی رسائی تک پہنچایا وہیں پر ہتھیار اور نشہ آور منشیات کے ساتھ ساتھ وہاں سے جسم فروش عورتوں کو پاکستان منتقل کیا جو بعد میں جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک ہوئیں۔

وہ عورتیں پاکستان کس طرح آئیں اور ان کو پاکستان کے مختلف شہروں میں کس طریقے سے پھیلا دیا گیا اور انہوں نے اپنے دھندے کے لیے شہری آبادیوں میں مالکانہ حقوق پر گھر خرید کر اڈَے قائم کیے۔ یہ درحقیقت ریاست کی ناکامی تھی اور ریاست اپنی رِٹ  قائم کرنے میں ناکام رہی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں پر برکیف میں آگے چلتا ہوں۔

جب ہیرا منڈیاں اپنی مخصوص جگہ پر تھیں اور ان کے آباؤ اجداد مغلیہ دور سے ایک ہی جگہ پر رہ کر اپنا کاروبار کرتے تھے تو اس علاقوں میں جاتے ہوئے جسموں کے خریدار احتیاط برتتے تھے کہ انہیں کوئی آتے جاتے دیکھ نہ لے، میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ کچھ شرفا عیاشی کی نیت سے گئے مگر اس بازار کے داخلی دروازے سے پہلے ہی ایک پڑوسی کا آمنا سامنا ہو گیا تو وہ الٹے پیر واپس ہوئے۔

جب افغان خواتین چکلوں میں بیٹھیں اور جسم فراشی کی تجارت شروع کی تو انہوں نے اپنے گاہکوں کو کمسن بچیاں مہیا کرنا شروع کیں جس کے عوض وہ بھاری معاوضہ لیتی تھیں اور اس طرح کمسن بچیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کی بنیاد پڑی۔

میں نے 1971 سے لیکر 1976 تک سینٹرل ماڈل ہائی سکول لوئر مال سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد 1977 سے لیکر 198۱ تک گورنمنٹ کالج لاہور اور 198۱ سے لیکر 1984 تک پنجاب یونیورسٹی سے اپنی تعلیمی سفر جاری رکھا، ہمارے ساتھ کچھ دوست جہاں اندرون شہر سے آتے تھے وہاں کچھ دوست حصولِ تعلیم کی لیے ہیرا منڈی سے بھی آتے تھے جن کی والدہ یا ہمشیرہ جسم فروشی کے کاروبار سے منسک ہوتی تھیں۔

ایک دن ایک دوست نے میرے ساتھ انتہائی سنسنی خیز انکشاف شیئر کیا کہ کچھ سرحد پار سے آئی ہوئی خواتین کمسن بچیوں کی عظمت فروشی کے ساتھ ساتھ اپنے گاہکوں کے مطالبات پر کم عمر لڑکے بھی مہیا کرنے شروع ہو گئی ہیں جس وجہ سے جسم فروشی کا خاندانی طور پر کاروبار کرنے والوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ضیاالحق نے پپو کے ساتھ ہونے والی بدفعلی کے کیس میں جہاں اچھرہ کی سینٹرل جیل سے منسلک شادمان روڈ پر تین مجرموں کو پھانسی پر چڑھا دیا اور عبرت کی لیے حکم دیا کہ لوگ آئیں اور عبرت حاصل کریں جس سلسلے میں ان کی لاشیں مغرب تک پھانسی کے پھندے پر جھولتی رہیں۔

مگر بہت دیر ہو چکی تھی اور اس کاروبار سے منسلک لوگ معاشرے میں پھیل چکے تھے اور آج تک وہ اس کاروبار سے منسلک ہیں مگر چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ جدید دور میں سائنسی ایجاد کو اپنے گھناؤنے کاروبار کو فروغ دینے کی لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم جیسے فیس بک سے بچیوں کو سلیکٹ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اغوا کر کے جنسی بھیڑیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے جو اپنی جنونی وحشی حوس کی تسکین کے دوران ان کی ویڈیوز بنا کر بیرون ملک بھاری رقم کے عوض فروخت کرتے ہیں جبکہ کچھ بچے ان کی درندگی سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور کچھ کو وہ ثبوت ختم کرنے کے لیے موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔

2017 میں 350 مقدمات درج ہوئے کچھ عدالت میں موجود ہیں مگر عدم ثبوت کی وجہ سے یہ وحشی درندے چھوٹ جائیں گے مگے حل تو یہ ہے کہ عدلیہ روزانہ کی بنیاد پر ان مقدمات کو سنے جس کے لیے ہر شہر میں خصوصی جج مخصوص کیے جائیں جو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے 15 دن کے اندر اپنے مقدمات کا فیصلہ کریں اور ایک دن تمام مجرمان کو قذافی سٹیٹڈیم میں اجتماعی پھانسی دی جائے جس کو ملک بھر کے تمام ٹیلی ویژن پر دکھائیں تاکہ قوم عبرت حاصل کرے اور کوئی اس گھناؤے کاروبار کا سوچ بھی نہ سکے مگر شرط یہ ہے کہ تمام مقدمات میں ملوث سہولت کاروں کو بھی مجرموں کے ساتھ پھانسی پر جُھلا دیا جائے۔

مگر اس تجویز پر عمل کرے گا کون؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here