یہ کرسی عام عوام کی ہے

Ilyas Chadhar

یہ  کرسی عام عوام کی ہے

٢٠١٨ عالمی و مقامی سطح  پربدلتے حالات کا سال ہے آپ دیکھ لیں جو اکائیاں نا مکمل رہ گئی تھیں گزشتہ سال یا سالوں میں وہ اکائیاں اب مکمل ہوں گی کیونکہ ہر چیز کا پیمانہ لبریز ہونے تک ایک وقت ہوتا ہے اب تو پیمانے لبریز ہو چکے ہیں۔

پہلا پیمانہ جو لبریز سے بھی اوپر جا کر الٹ گیا وہ ایران میں مظاہرے اور ایرانی عوام کی طرف سے حکومت خلاف شدید رد عمل  ہے جو اپنے حقوق کی وا گزاری  کیونکہ ملکی  ٹیکس ادا کرنے کے باوجود  ان کو وہ سہولتیں نہیں ملتی تھیں جن پر ان کا حق تھا بلکہ ایرانی عوام کے مطابق ہمارا حق دوسروں کو دیا جا رہا ہے جو انہیں منظور نہیں۔

  آخر کب تک کوئی رعایا کو دبا سکتا ہے  کیونکہ ایک دن یہ رعایا حکومتوں کو پستیوں کی طرف  گرانے میں اپنا کردار بخوبی  نبھاتی ہے ۔ عوامی  رد عمل کی  تاب کوئی نہیں لا سکتا  کہا جاتا ہے کہ سب اپنی مرضی کے مطابق چلو  لیکن اپنی رعایا کے ساتھ رعایا کی مرضی سے چلو  کیونکہ یہی رعایا آپ کی طاقت ہے  اور آپ کے اقتدار کا مضبوط ستون ہے  اگر آپ راعایا  کو دباؤ گے تو  یہ ستون ریت کی دیوار ثابت ہو گا  اور پھر آپ اپنے اقتدار کو  سنبھال نہیں پائیں گے اس لئے اپنی رعایا کے ساتھ اس طرح چلو کہ  جب آپ عام انتخابات یا کسی اور پلیٹ فارم پر  موجود ہوں اور آپ کو عوام کی سخت حمایت کی ضرورت پڑے تو آپ کی ایک کال  پر رعایا آپ کا دست و بازو بن جائے اور آپ کو رعایا اپنے کاندھوں پر اٹھا لے اور آپ پھر سوچیں گے کہ میں نے  تو کچھ نہیں  کیا میں نے تو بس عوام کا پیسہ عوم پر خرچ کیا ہے اور عوام کو وہ سب سہولتیں فراہم کیں جو بحیثیت حکمران کر سکتا تھا اور آج نتیجہ یہ ہے کہ عام عوام  بھی میری آواز بن گئی۔

  اس لئے ان لو گوں کو طاقت بناؤ جو تمہیں ووٹ کی طاقت دیں گےیہ ایک جگہ کی بات نہیں دنیا میں جن ملکوں میں جمہوری عمل پنپ رہا ہے وہاں پر آپ عوام کے بغیر نہیں چل سکتےکیونکہ عوام کے بغیر ،عوامی حمایت کے بغیر ،عوامی تعاون کے بغیر ، اور ووٹ کے بغیر ، سب زیرو ہے۔

 آج جتنے بڑے بڑے نام ہیں انکے پیچھے غریب عوام ہیں۔ ووٹ عوام کی طاقت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  یہ لوگ حالات کے ہاتھوں تنگ، اپنے لیے، اور اپنی اولادوں کے اچھے مستقبل کے لئے ان شاطر لیڈروں کو اپنا آخری مسیحا سمجھ کر ان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ تاریکیوں کی اوٹ سے روشنیوں کو نکلیں  گے مگر یہ لیڈران عوام کو اور تاریکیوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں  اور خود اپنے خوبصورت لان میں بیٹھ کر  چودھویں رات کے چاند کی چھن چھن کرتی چاندنی سے  لطف اندوز ہوتے ہیں  اور تقدیر کے دوسرے رخ میں عوام تاریکیوں میں بیٹھ کر  سوچتی ہے کہ کاش ان لوگوں کا پہلے پتہ ہوتا  تو ہم فیصلہ کرنے سے پہلے سوچتے کہ  ہمیں لچھے دار باتوں اور خوشحال مستقبل  کا خواب دکھا کر آج یہ لوگ ہمیں یکسر نظر انداز کئے ہوئے ہیں ۔

لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ یہ عالمی بیداری کا سال ہے بلکہ آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ سال نئی کروٹوں ، حقیقت پر مبنی اور حالات و واقعات کا سال ہے  اب لوگوں کا حقیقتوں کا سامنا ہو گا، غلط کہانیاں اور افواہیں  ختم ہو جائیں گی  کیونکہ اب انسانی عقل، عادات ، حرکات و سکنات اور رویوں کا پڑھا جانا آسان ہو گیا ہے ۔ جس سے اب جھوٹ اور سچ بولنے کا اسی انسان کے سامنے پتہ چل جاتا ہے  کہ یہ آدمی، لیڈر یا حکمران عوام سے چھوٹ بول رہا ہے یا سچ ؟؟

جیسا کہ وطن عزیز میں داخلی حالات چل رہے ہیں  یعنی منتخب نمائندے بولتے کچھ اور ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے  اور عالمی لیڈران کو ہی لیجئے ہو بتا تے کچھ اور ہیں اورکرتے  کچھ اور ہیں یہ لیڈران اپنی عوام کو ہر سطح پر اصل حالات و واقعات سے  بے خبر رکھتے ہیں

  جس کا نتیجہ آج کل ایران میں دیکھنے کو مل  رہا ہے یہ سب اس طرح کے حالات کا پھٹا ہوا عوامی لاوا ہے اس لاوے کی زد میں اب نہیں تو گزرے  وقت کے ساتھ بہت سے لوگ  آئیں گے جنہوں نے اپنی عوام  کو خبر کے معاملے میں اندھے کنوئیں میں رکھا  اور عوامی وسائل کو اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لئے خواہشوں کے دھکتے تندور میں  جھونکتے رہے تو اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایرانی عوام کا رد عمل اپنے حکمرانوں کے ساتھ کیسا ہے!!۔

ایسا ہی دیگر ممالک میں ہوا اور ہو رہا ہے آپ مشرقی وسط اور مشرقی بعید کے کچھ ملکوں کے گزرے اور موجودہ حالات کو بغور دیکھیں کہ انہوں نے عوامی اعتبار اور عوامی طاقت کو دبایا تو  ان کے کیا بھیانک نتائج نکلے اور کیا نکل رہے ہیں اور مستقبل قریب میں کیا ہو گا  ۔

یہ سب عوامی اعتبار کو عوامی امنگوں کے غیر مطابق  استعمال کرنے کا نتیجہ ہے اپنے ہاں گزشتہ مہینوں اور موجودہ وقت میں جو کچھ ہوا اس میں عوام کی رائے لینا ضروری تھا۔

کیا اب حکمران اور حکومتیں قومی فیصلوں پر عوام کی رائے یا عوامی اعتماد لینا ضروری سمجھیں گے؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here