آئی جی اسلام آباد کو ہٹوانے والے اعظم سواتی کو لینے کے دینے پڑ گئے

CDA issues notice to Azam Swati over illegal encroachments on farmhouse
CDA issues notice to Azam Swati over illegal encroachments on farmhouse

:اسلام آباد

آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹوانے والے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو زمین پر قبضے کا نوٹس مل گیا۔

غریب جھونپڑی والے کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ہٹوانے والے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو سی ڈی اے کی جانب سے زمین پر قبضے کا نوٹس مل گیا ہے۔

نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے سی ڈی اے کی زمین پر تجاوزات قائم کیں اور غیر قانونی بیسمنٹ بنائی۔

سی ڈی اے کی جانب سے اعظم سواتی کو 5 روز میں تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے بصورت دیگر تجاوزات گرا دی جائیں گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر کے کہنے پر آئی جی کو ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق سابق آئی جی اسلام آباد جان محمد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے اعظم سواتی سے ہونے والی بات چیت اور تلخی سے آگاہ کیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ جے آئی ٹی نے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس کا دورہ بھی کیا، جے آئی ٹی کے ہمراہ سی ڈی اے اور پٹوار خانے کے حکام بھی تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس کی پیمائش بھی کی اور تجاوز کی گئی جگہ کے نوٹس بھی لیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فام ہاؤس کے ملازمین اور ایک غریب خاندان کے افراد کے درمیان گائے کے فام ہاؤس میں گھسنے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا۔

وفاقی وزیراعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کے خلاف پہلے سے کافی شکایات تھیں، جمعرات کو قبائلی افراد کے جانور میرے فارم ہاؤس پر آئے تو ان لوگوں نے میرے ملازمین کو دھمکیاں دیں اور کلہاڑیوں سے ان پر حملہ بھی کیا۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی نے اس معاملے کی شکایت وزیراعظم عمران خان سے کی اور پھر ان کی زبانی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا اور آئی جی کی برطرفی کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

اس قسم کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کے بیٹے اور فریقین کے درمیان مبینہ راضی نامے کے بعد ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ عدالت نے راضی نامے کا بتا کر ضمانت دے دی، ہمارا کوئی راضی نامہ نہیں ہوا، ہماری عزت پر حملہ کیا گیا، ہم خانہ بدوش نہیں پورا قبیلہ ساتھ کھڑا ہے، یہ کیسی غیر سیاسی پولیس ہے، وزیراعظم سے لے کر نیچے تک سب اس واقعے میں ملوث ہیں۔

متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ اعظم سواتی 3 دن میں استعفیٰ دیں ورنہ اُن کے گھر کے باہر دھرنا دیں گے۔

علاوہ ازیں متاثرہ خاندان کے رشتے داروں نے پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کی ہے کہ وہ اعظم سواتی کیخلاف ایکشن لیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی تشکیل دی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here