اپنی ذمہ داری پوری کرینگے، انتخابات بروقت اور شفاف ہونگے: نگراں وزیراعظم

Caretaker PM Mulk assures elections will be timely and transparent
Caretaker PM Mulk assures elections will be timely and transparent

:اسلام آباد

جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا جب کہ ان کا کہناہےکہ جس کام کے لیے آئے ہیں اپنی وہ ذمہ داری پوری کریں گے، انتخابات بروقت اور شفاف ہوں گے۔

موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرکے گزشتہ رات 12 بجے ختم ہوگئی جس کے بعد نگراں حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

نگراں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر مملکت ممنون حسین نے سابق چیف جسٹس ناصر الملک سے نگراں وزیراعظم کا حلف لیا۔

تقریب حلف برداری میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت سابق کابینہ  وقومی اسمبلی ارکان، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان، صوبائی گورنرز، ججز اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک تھے۔

نگراں وزیراعظم نے تقریب حلف برداری کے بعد ایوان صدر میں موجود تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت سابق اراکین اسمبلی اور دیگر شخصیات سےبھی ملاقاتیں کی۔

میرے الفاظ یاد رکھیں، انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے: نگراں وزیراعظم

تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کہا کہ جو ذمہ داری سونپی گئی احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔

انہوں نےکہا کہ کابینہ مختصر رکھوں گا، صلاح مشورے کے بعد کابینہ کا اعلان کیاجائے گا۔

اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ آپ قوم کی آخری امید ہیں،کیا انتخابات بروقت اور شفاف ہوں گے؟ اس پر نگراں وزیراعظم نےجواباً کہا کہ میرے الفاظ یاد رکھیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، جس کام کے  لیے  آئے ہیں اپنی وہ ذمہ داری پوری کریں گے، انتخابات بروقت اور شفاف ہوں گے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن کی مدد کی جائےگی تاکہ بروقت شفاف انتخابات کرائےجاسکیں۔

وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر نگراں وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

بعد ازاں نگراں وزیراعظم ناصر الملک وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس کےبعد وزیراعظم ہاؤس کے عملے نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے اپنےعہدےکا باضابطہ چارج بھی سنبھال لیا جہاں ان کے عملے نے انہیں بریفنگ دی۔

سابق چیف جسٹس ناصرالملک وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کےبعد اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم ہاؤس میں تینوں مسلح افواج کے دستوں سے گارڈ آف آنر پیش کیا جب کہ شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہاؤس سے روانگی پر اپنے عملے سے بھی الوداعی ملاقاتیں کیں۔

جسٹس (ر) ناصر المک کون ہیں؟

نگراں وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹس (ر) ناصرالملک پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔

جسٹس (ر) ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے، ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔

1977 میں لندن سے بار ایٹ لاء کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہوئے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔

جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here