بیوروکریسی اور سیاسی رشوت

AGHA-WAQAR-AHMED

:لاہور

واہ رے بیوروکریسی تیری بھی نرالی شان ہے ۔

احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد جب وہ نیب لاہور میں زیرِحراست ہےاور نیب لاہور نے اسے 11 دن کے جسمانی ریمانڈ پر لیا ہے اُسی دوران جب اس کا ریمانڈ دیا گیااُسی وقت ایک نوٹیفیکشن زیرِتکمیل تھاجورات کو جاری کر دیا گیا۔

نیب نےگرفتاری کے عوض یا کہہ لیں کہ شہباز شریف کی خدمات کے عوض انہیں گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی دے دی گئی۔ یہ سیاسی رشوت

پنجاب کی حکومت کو بچانے کے لیے     دی جا رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ باقی کے سول سرونٹ بھی اپنے انجام کو محسوس کرتے ہوئے

حکومت کے احکامات ماننے سے انکاری ہو جائیں۔

پنجاب شیانہ ہاؤسنگ سکیم کرپشن کیس کے مرکزی ملزم احد چیمہ نے 14 ارب روپے کا ٹھیکہ مبینہ طور پر وزیر ریلوے سعد رفیق کے بھائی کو دیا۔ در اصل ملک کے اصل وزیراعظم پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم فواد حسن فواد ہیں جو جاتی امرا سے براہ راست ہدایت لیتے ہیںدریں اثناء آشیانہ کرپشن کیس میں لاہور میں ایک اعلی بیورو کریٹ احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد سیکرٹری ٹو وزیر اعظم فواد حسن فواد کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہونے لگا ہے اور فواد حسن نے خود کو گرفتار ی سے بچانے کے لیے اپنے بنائے گئے افسران کے گروپ کو احتجاج پر نہ صرف آمادہ کیا بلکہ احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد ہونے والے افسران کے اجلاس میں ہدایات بھی دیتا رہا۔ زرایع نے بتایا کہ احد چیمہ جس کیس میں گرفتار ہوئے اسی میں نیب لاہور نے فواد حسن فواد کو بھی چند روز پہلے طلب کیا تھا،اور وہ اپنے جواب سے نیب کو مطمئن نہیں کر سکے تھے جس پر انھیں دوبارہ بھی بلایا گیا ہے کیونکہ آشیانہ اقبال ہاوسنگ سکینڈل میں فواد حسن کے فواد کے خلاف کافی مواد موجود ہے،اور دستاویزی شواہد بھی موجود ہیں کیونکہ آشیانہ سکیم کے دوران فواد حسن فواد پنجاب کے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کے زمہ دار تھے،جبکہ احد چیمہ ایل ڈی اے کے چیئرمین تھے، فواد حسن فواد کو خدشہ ہے کہ جلد ہی ان کی گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، اس لیے وہ کوشش کر رہے ہیں کہ بیوروکریس کو سڑکوں پر لاکر نیب پر دباؤ ڈالا جا سکے زرایع نے مزید بتایا کہ فواد حسن فواد کی طلبی کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا اور اپنے سیکرٹری طاقتور بیورو کریٹ کی نیب طلبی کے بعد وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں واویلہ مچایا تحا وزیر اعظم کے مطابق اعلی افسران کی طلبی کی وجہ سے حکومتی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں مگر نیب نے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے احکامات ماننے سے انکاری ہو جائیں۔

یہ ہوتی ہے بیوروکریسی اور سیاسی رشوت۔

تحریر: آغا وقار احمد

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here