مشال خان کے بھائی نے مقدمے کے 26 ملزمان کی بریت کو چیلنج کردیا

Brother of slain Mashal Khan petitions PHC against acquittal of 26 suspects
Brother of slain Mashal Khan petitions PHC against acquittal of 26 suspects

:پشاور

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے گئے طالبعلم مشال خان کے بھائی ایمل خان نے مقدمے میں نامزد 26 ملزمان کی بریت کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

مشال خان قتل کیس کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں ایمل خان نے عدالت سے استدعا کی کہ بری کیے گئے 26 ملزمان کو دوبارہ گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 7 فروری کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے  ہری پور سینٹرل جیل میں مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں۔

دوسری جانب عدالت نے اپنے فیصلے میں 25 دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی، تشدد، مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ اقدام کے لیے ہونے والے اجتماع کا حصہ بننے پر 4، 4 سال قید جب کہ 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

مشال خان کون تھا؟

عبدالولی خان یونیورسٹی کا 23 سالہ نوجوان مشال خان صوابی کا رہائشی اور جرنلزم کا طالب علم تھا، جسے گزشتہ برس 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کے ذریعے ابدی نیند سلادیا تھا۔

واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کردیا گیا تھا، بعدازاں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی۔

جے آئی ٹی نے مشال کو بے قصور قرار دیا جب کہ ویڈیو کی مدد سے مقدمے میں 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں سے 58 کو گرفتار کیا گیا، ان افراد میں فائرنگ کا اعتراف کرنے والا ملزم عمران بھی شامل تھا جبکہ پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلرعارف، طلباء تنظیم کا رہنما صابرمایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء تاحال مفرور ہیں۔

مشال کے قتل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا اور اس کے قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے آواز بھی بلند ہوتی رہی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here