بھارتی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے: ترجمان پاک فوج

Ball now in India's court, situation will go bad if they escalate more: DG ISPR
Ball now in India's court, situation will go bad if they escalate more: DG ISPR

:راولپنڈی

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہےکہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام تھا، دیکھتے ہیں اب بھارت ہمارے امن کے پیغام کا کیا جواب دیتا ہے، اب یہ بھارت پر ہے کہ وہ امن کے قدم کو سمجھے اور کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھے یا پھر اپنے اسی ایجنڈے پر قائم رہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے، اگر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کشیدگی میں اضافہ کیا جائے تو صورتحال واپس اسی جگہ پر آجائے گی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ہم جنگ کے بہت قریب پہنچ گئے تھے کیونکہ بھارت نے ہماری حدود کی خلاف ورزی اور جارحیت کی جس کا ہم نے جواب دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت لائن آف کنٹرول پر فوجی دو بدو ہیں، فوجیں کئی عشروں سے تعینات ہیں مگر بھارتی جارحیت اور ہمارے جواب کے بعد دونوں جانب سے حفاظتی اقدامات لیے گئے ہیں جو جنگی منصوبہ بندی کاحصہ ہوتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے بالاکوٹ میں بھارتی آپریشن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انفرا اسٹرکچر کو چھوڑیں وہاں تو ایک لاش تک نہيں ملی، ایک اینٹ تک نہیں ملی، ان کے دعوے جھوٹے ہیں، یقین ہے کہ بعد میں وہ بھی یہ اعلان کر دیں گے کہ وہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کی ذمہ داری پاکستان سے قبول نہیں کی گئی ہے اور جیش محمد کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں، اس تنظیم پر اقوام متحدہ نے بھی پابندی لگائی اور پاکستان نے بھی پابندی لگائی ہے، ایسے کسی گروپ کا پاکستان میں کام کرنا ہمارے مفاد میں نہیں، دنیا کو چاہیے کہ پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے ایسے تنظیموں سے چھٹکارا پانے میں پاکستان کی مدد کرے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے، اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، اب بھارت پر منحصر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وہ کیا کرتا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں خواتین سے زیادتی اور لوگوں کو نابینا کرنے کیلئے پیلٹ گنز کا استعمال کیا جارہا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ بھی موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اگر آپ کسی آبادی کو اس حد تک جبر میں رکھیں کہ وہاں قتل عام کیا جائے، جنسی زیادتیاں کی جائیں، پیلٹ گنیں چلائی جائیں تو رد عمل آنا فطری ہے، یہ سب وہاں قابض افواج کررہی ہیں، یہ ہم نہيں کہہ رہے بلکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہہ رہی ہے لہٰذا دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ ایسا کیا ہے جو کشمیری نوجوانوں کو تشدد کی طرف لے جارہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here