بچہ جمہورا

AGHA WAQAR AHMED

بچہ جمہورا

سیاست میں مداخلت وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی میرے جیسے جمہوری انسان کے لئے کسی حیرت سے کم نہیں اور شرم آتی ہے ان سیاست دانوں پر جو انتہائی بے شرمی سے ٹیلی وژن پروگرامز میں بیٹھ کر تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے سیاسی امور سر انجام دینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے افراد انہیں اپنے ہاں بلا کر ان کے سیاسی مسائل حل کرتے ہیں ۔

یہ کیسے سیاست دان ہیں جو ایک جمہوری عمل کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں کا سہارہ لیتے ہیں اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ چند مخصوص ٹیلی وژن اینکر حضرات سیاست دانوں اور اسٹیبشمنٹ کے ملاپ کو جمہوریت کی خدمت قرار دیتے ہیں ” پی،ایس،پی اور ایم ،کیو ،ایم” کا حالیہ ملاپ اور طلاق دونوں “24” گھنٹے میں واقع ہوئے اس اتحاد کے بننے اور ٹوٹنے میں دونوں اطراف کے سیاست دانوں نے پاکستان کے جمہوری افراد کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کیا ہے کہ جس کو نہ چاہتے ہوئے بھی میں بھول نہ پاؤں گا۔

مصطفیٰ کمال کا انتہائی ڈھٹائی سے یہ تسلیم کرنا کہ انہیں ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ ملاقات اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے دوران اسٹیبلشمنٹ کی راہنمائی حاصل رہی اور ان کا اتحاد پاکستان کے وسعی تر مفادات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھے گا شرم آتی ہے ان کی سوچ پر اور ڈاکٹر فاروق ستار کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ اس کے پیچھے محرکات کچھ اور ہیں ۔

اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلدیہ ٹاؤن آتشزدگی میں “264” افراد کا زندہ جل جانا ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا ۔

کیونکہ الطاف حسین کے حکم پر انسانوں کو زندہ جلانا اور فیکٹری مالکان سے بھتے کا تقاضہ کرنا یہ تمام امور سر انجام دینے کے لئے الطاف حسین نے اس وقت کے کرتا دھرتا “ایم،کیو، ایم” ڈاکٹر فاروق ستار کا ذریعہ ہی استعمال کیا اور ڈاکٹر فاروق ستار نے جس کسی کارکن کو بھی حکم دیا جس نے یہ گھناؤنا جرم سر انجام دیا اس میں ڈاکٹر فاروق ستار اپنے آپ کو الگ نہیں کر سکتے ۔
اسٹیبلشمنٹ کا ان دونوں مجرموں کے اتحاد اور آیندہ آنے والے الیشن میں ایک تنظیم بنا کر الیکشن لڑانے کی خواہشمند ہے اور ان سیاست دانوں کا اپنے اتحاد کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنا آلہ کار بنانا یا دونوں سیاسی جماعتوں کا دونوں سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا کچھ تو ہے جس کی رازداری ہے۔

پاکستان سر زمین پارٹی اور ایم ،کیو ،ایم کے درمیان اتحاد کروانے کے عمل میں رینجرز کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے لوکل رہنما فیصل واڈا کا بھی ایک اہم کردار تھا

جس سلسلے میں عمران خان نے فیصل واڈا کے خلاف انکوائیری کرنے کے لئے “پی،ٹی،آئی” کراچی کے مقامی راہنما کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ تحقیقات کر کے فیصل واڈا کے خلاف تنظیمی کاروائی کریں مگر سارے عمل میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ “پی،ٹی،آئی ” کے کراچی میں مقامی راہنما بھی ضرورت پڑنے پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ میں ہوتے ہیں جیسا کہ” جنرل بلال اکبر سابقہ ڈی جی رینجرز ” پر الزام ہے کہ اہنوں نے “ایم،کیو،ایم” کے ایسے افراد جو جرائم میں ملوث تھے انہیں اپنے کمرے میں بٹھا کر ایک نئے اتحاد کی بنیاد ڈالی ۔

بادی النظر میں جمہوریت کے اندر اسٹیبلشمنٹ کی در اندازی جمہوریت کو سب و تاش کرنے کے زمرے میں آتی ہے ۔

مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار میں گزشتہ آٹھ ماہ سے رابطے تھے مگر دونوں عام عوام کو احمق اور بے وقوف بنانے میں مصروف تھے۔
جو در حقیقت عام عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے کے زمرے میں آتا ہے اور جمہوری اداروں سے کھلواڑ در حقیقیت ان دونوں سیاسی شخصیات کا عملاََ صادق اور امین نہ ہوتا ثابت کرتا ہے ۔

“عام عوام ” اپنے ہزاروں پیاروں کے قاتلوں کی جستجو میں ہیں کہ ان کے پیاروں کا خون کس خنجر پر موجود ہے اور بلدیہ فیکٹری کی آگ میں زندہ جل کر ہلاک ہونے والے “264” غریب انسانوں کا خون کس کی آستینوں میں تلاش کیا جائے کیونکہ مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار ماضی میں لنڈن میں بیٹھے ہوئے مداری کے بچہ جمہورا تھے۔

میں اپنی ذات کا قاتل کہاں تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here