آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

Army chief confirmed the execution of 10 terrorists
Army chief confirmed the execution of 10 terrorists

:راولپنڈی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے وہ ملک میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے اور انہیں فوجی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم سنا رکھا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں، شہریوں اور فوجیوں کے قتل، سیکیورٹی فورسز اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آرکے مطابق مذکورہ 10 دہشت گرد مجموعی طور پر 41 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور 33 کو زخمی کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوجی عدالتوں نے 10 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کے علاوہ 3 دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سمیع الرحمان اور عظیم خان کالعدم تنطیم سے تعلق رکھتے تھے اور یہ دونوں میجر محمد احسان، 9 فوجیوں اور 2 پولیس اہلکاروں کے قتل اور 13 افراد کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ ان دونوں سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق دونوں دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور دونوں کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ارشد بلال اور انور علی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں مجرمان مسلح افواج پر حملوں میں ملوث پائے گئے اور ان کے حملوں میں 9 فوجی شہید اور 9 زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ ارشد اور انور سوات اور لنگر میں گورنمنٹ بوائے سیکنڈری اسکولوں کو تباہ کرنے اور دھماکا خیز مواد رکھنے میں بھی ملوث تھے۔ فوجی عدالت نے جرائم کا اعتراف کرنے پر دونوں کو سزائے موت سنائی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اور فضل علیم بھی 4 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور سرکاری اسکولوں کو تباہ کرنے میں ملوث پائے گئے، دونوں نے ٹرائل کورٹ کے سامنے اعتراف جرم کیا جس پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

پاک فوج کے مطابق سزائے موت پانے والا دہشت گرد رسول محمد 4 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے اور اس نے دوسرے دہشت گردوں کو شہری سعید رحیم، اے ایس آئی ارشاد علی، ہیڈ کانسٹیبل سرور علی خان اور ہیڈ کانسٹیبل شیر احمد کو قتل کرنے پر بھی اکسایا۔

فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والا دہشت گرد سہیل احمد عام شہریوں کے قتل اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس کے حملوں میں 3 شہری، سب انسپکٹر مصطفیٰ خان اور ایک پولیس کانسٹیبل شہید اور 4 زخمی ہوئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گرد نعمت اللہ کی کارروائیوں میں 2 فوجی شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ اس کے قبضے سے آتش گیر مادہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے رحمت علی کا تعلق بھی کالعدم تنظیم سے ہے اور یہ بھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک جوان شہید ہوا اور مجرم نے عدالت کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا۔

یاد رہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں آئینی ترمیم کے تحت کیا گیا اور اب تک کئی مجرموں کو ان کے ذریعے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

گزشتہ برس 7 فروری کو فوجی عدالتوں کو دیے گئے خصوصی اختیارات ختم ہو گئے تھے جس کے بعد مارچ میں پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ نے فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع کے لیے آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے وہ ملک میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے اور انہیں فوجی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم سنا رکھا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں، شہریوں اور فوجیوں کے قتل، سیکیورٹی فورسز اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آرکے مطابق مذکورہ 10 دہشت گرد مجموعی طور پر 41 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور 33 کو زخمی کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوجی عدالتوں نے 10 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کے علاوہ 3 دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سمیع الرحمان اور عظیم خان کالعدم تنطیم سے تعلق رکھتے تھے اور یہ دونوں میجر محمد احسان، 9 فوجیوں اور 2 پولیس اہلکاروں کے قتل اور 13 افراد کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ ان دونوں سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق دونوں دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور دونوں کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ارشد بلال اور انور علی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں مجرمان مسلح افواج پر حملوں میں ملوث پائے گئے اور ان کے حملوں میں 9 فوجی شہید اور 9 زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ ارشد اور انور سوات اور لنگر میں گورنمنٹ بوائے سیکنڈری اسکولوں کو تباہ کرنے اور دھماکا خیز مواد رکھنے میں بھی ملوث تھے۔ فوجی عدالت نے جرائم کا اعتراف کرنے پر دونوں کو سزائے موت سنائی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے محمد علیم اور فضل علیم بھی 4 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور سرکاری اسکولوں کو تباہ کرنے میں ملوث پائے گئے، دونوں نے ٹرائل کورٹ کے سامنے اعتراف جرم کیا جس پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

پاک فوج کے مطابق سزائے موت پانے والا دہشت گرد رسول محمد 4 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے اور اس نے دوسرے دہشت گردوں کو شہری سعید رحیم، اے ایس آئی ارشاد علی، ہیڈ کانسٹیبل سرور علی خان اور ہیڈ کانسٹیبل شیر احمد کو قتل کرنے پر بھی اکسایا۔

فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والا دہشت گرد سہیل احمد عام شہریوں کے قتل اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس کے حملوں میں 3 شہری، سب انسپکٹر مصطفیٰ خان اور ایک پولیس کانسٹیبل شہید اور 4 زخمی ہوئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گرد نعمت اللہ کی کارروائیوں میں 2 فوجی شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ اس کے قبضے سے آتش گیر مادہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے رحمت علی کا تعلق بھی کالعدم تنظیم سے ہے اور یہ بھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک جوان شہید ہوا اور مجرم نے عدالت کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا۔

یاد رہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں آئینی ترمیم کے تحت کیا گیا اور اب تک کئی مجرموں کو ان کے ذریعے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

گزشتہ برس 7 فروری کو فوجی عدالتوں کو دیے گئے خصوصی اختیارات ختم ہو گئے تھے جس کے بعد مارچ میں پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ نے فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع کے لیے آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here