ملیریا کے خلاف ایک اور مؤثر دوا منظور

Approve another effective medicine against malaria
Approve another effective medicine against malaria

:نیویارک

ملیریا کے خلاف کارگر ایک نئی دوا امریکا میں استعمال کے لیے منظور کرلی گئی ہے تاہم یہ دوا ملیریا کے علاج کے بعد اس کے دوبارہ حملے کو روکنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔

کئی صورتوں میں ملیریا کا جراثیم یا وائرس جگر میں چھپ کر سویا رہتا ہے اور ایک مرتبہ مریض بنانے کے بعد بھی بار بار حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔ ایک طفیلیہ (پیراسائٹ) پلازموڈیم وائیواکس بار بار ملیریا کی وجہ بنتا ہے اور دنیا بھر میں ہرسال 85 لاکھ افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔

دوا کا نام ’ٹیفنو کوئن‘ ہے اور اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں وزارت صحت اور ایجنسیاں اس کی اجازت کب دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ ملیریا کا دوبارہ حملہ صحارا ریگستان اور افریقا میں بہت عام ہے۔ بطورِ خاص بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بار بار ملیریا کی زد میں آجاتے ہیں۔

ملیریا کا ہر حملہ انہیں کمزور سے کمزور کرتا رہتا ہے پھر ایک متاثرہ مریض دیگر بہت سے صحت مند لوگوں کو بھی ملیریا کی لپیٹ میں لیتا ہے۔ مچھر بیمار شخص سے جراثیم حاصل کرکے دیگر افراد میں داخل کرتا رہتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی ایف ڈی اے کی جانب سے منظور شدہ ٹیفنو کوئن جگر میں موجود ملیریا کے جراثیم کو بہت تیزی سے ختم کرتی ہے۔

ایف ڈی اے نے ’ٹیفنو کوئن‘ کی منظوری تو دے دی لیکن امریکی عوام کو اس کے ضمنی اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ مثلاً جن افراد میں جی سکس پی ڈی اینزائم کا مسئلہ ہو تو ان میں یہ دوا خون کی شدید کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here