ایپلٹ ٹریبونلز میں درخواستوں کی سماعت: کئی امیدواروں کی اپیلیں منظور و مسترد

appellate tribunals hearing requests, approved and rejected the appeals of several candidates
appellate tribunals hearing requests, approved and rejected the appeals of several candidates

:اسلام آباد

ملک بھر میں قائم ایپلٹ ٹریبونلز میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹریبونل نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو کل صبح 9 بجے طلب کرلیا، ان کے خلاف این اے 35 بنوں سے جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کے انعام اللہ نے اعتراض اٹھایا تھا۔

جسٹس عبدالشکور نے عمران خان کے خلاف دائر اعتراضات پر سماعت کی، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا ذکر انہوں نے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا اس لیے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔

سندھ کے الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس کے کے آغا نے سابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی دہری شہریت کے خلاف درخواست مسترد کردی جب کہ ٹریبونل نے قرار دیا کہ مراد علی شاہ کی دہری شہریت ثابت نہیں ہوئی۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ مراد علی شاہ نے دہری شہریت چھپائی اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

راولپنڈی کے اپیلٹ ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے موکل نے اپنے تمام اثاثہ جات ظاہر کردیے، دونوں فارمز میں ایئرلائن کے شئیر کا ذکر بھی کیا ہے۔

ٹریبونل کے جج جسٹس عبادالرحمان لودھی نے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیل کنندہ مسعود عباسی سے استفسار کیا کہ کوئی ایسی بات بتائیں جو نااہلیت ثابت کرے، انگوٹھا آئی ڈی کارڈ کے اوپر لگا ہے یا نیچے، یہ کوئی بات نہیں، کاغذات نامزدگی میں کہاں ٹیمپرنگ ہوئی وہ دکھائیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 242 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اسد اللہ بھٹو کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

ٹریبونل نے اسداللہ بھٹو کی اپیل منظور کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

امیدوار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسد اللہ بھٹو کا کسان کمپنی سے تعلق نہیں جب کہ اسٹیٹ بینک سے وضاحتی لیٹر بھی وصول کرلیا ہے۔

سندھ کے ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست مسترد کردی۔

سعید غنی نے الیکشن کمیشن کے خلاف پولنگ اسٹیشن حلقے سے دور بنانے کی درخواست دائر کی تھی تاہم ٹریبونل نے انہیں متعلقہ ادارے میں درخواست جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

الیکشن ٹریبوبل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کراچی کے لیے پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل ایڈووکیٹ کی اپیل منظور کرلی۔

ریٹرننگ افسر نے کریمنلز کیسز اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر قادر مندوخیل کے کاغذات مسترد کر دیے تھے تاہم ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

پشاور کے الیکشن ٹریبونل نے سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کو کلیئر قرار دیتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

شہرام ترکئی کے ذمے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے 13 ہزار 870 روپے کے واجبات تھے تاہم ان کے وکیل نے بقایات جمع کرانے کی رسید عدالت میں پیش کی جس کے بعد ٹریبونل نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

تحریک انصاف کے امیدوار عامر کیانی کے خلاف اپیل کی سماعت ان  کے خلاف درج مقدمے کی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کردی گئی۔

عامر کیانی کے خلاف درج مقدمے پر تھانا نصیرآباد کے تفتیشی افسر پیش ہوئے، مقدمے کے اخراج پر مجسٹریٹ کی مصدقہ کاپی پیش نہ کرنے پر ٹریبونل نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی انویسٹی گیشن سے مقدمے کی صورتحال سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

ٹریبونل نے ایس پی انویسٹی گیشن کی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کردی۔

الیکشن ٹریبونلز  بلوچستان

جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اعجاز سواتی پر مشتمل الیکشن ٹریبونلز نے امیدواروں کی اپیلوں کی سماعت کی۔

ٹریبونل نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 9 کوہلو سے آزاد امیدوار نوابزادہ گزین مری کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دے دیا۔

گزین مری کے کاغذات نامزدگی تائید اور تجویز کنندہ کی آر او کے سامنے عدم  پیشی پر مسترد ہوئے تھے۔

ایپلٹ ٹریبونل نے صدر بی اے پی جام کمال کے خلاف دائر 2 درخواستیں خارج کردیں، انہوں نے این اے 272 اور پی بی 50 سے کاغذات جمع کرائے تھے۔

درخواست گزار نے جام کمال کے اثاثے چھپانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here