مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

announcement of the restoration of MMA by religious parties
announcement of the restoration of MMA by religious parties

:کراچی

مذہبی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی بحالی کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان کراچی میں ہونے والے دینی رہنماؤں کے اجلاس میں کیا گیا۔ آج ہونے والے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، علامہ ساجد میر، ساجد نقوی اور شاہ اویس نورانی نے شرکت کی۔

شاہ اویس نورانی کا مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم ایم اے کو مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ایم ایم اے میں علماء مشائخ ونگ بھی متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایم ایم اے کا اگلا اجلاس بلوچستان میں ہو گا جب کہ فاٹا کے متعلق فیصلہ بھی اگلے اجلاس میں ہی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ ایک ماہ میں کیا جائے گا۔

شاہ اویس نورانی نے کہا کہ ایم ایم اے 2018 کے آغاز میں بھرپور عوامی رابطے شروع کرے گی، ذمہ داران اور عہدیداران کا اعلان ایک ماہ میں کیا جائے گا جب کہ ایک ماہ میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔

شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ امریکا کا مسلسل جارحانہ انداز اسلامی ممالک کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عقیدہ ختم نبوت کے لیے ہرسطح پرجنگ لڑیں گے، بیت المقدس معاملے کو جس طرح چھیڑا گیا اس پر ملک گیر احتجاج ہو گا جب کہ کشمیری عوام پرجو جارحیت کی جا رہی ہے اس پر بھی مہم چلائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے مسئلے پر نیک نیتی سے بات کی ہے، فاٹا کے لیے طریقہ کار وضع کیا ہے، امید ہے کہ راستہ نکلے گا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس ملک میں ہرتجربہ کر کے دیکھ لیا ہے، ہم فرد اور خاندانوں کی بادشاہت کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے بہت سارے شکوک و شبہات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان سے آج ایئرپورٹ پر ملاقات ہوئی جس میں ہمارے درمیان الیکشن اپنے وقت پر ہونے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ایم ایم اے انتخابی اتحاد ہے جس میں 5 بڑی دینی جماعتیں شامل ہیں جب کہ علامہ ساجد میر نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی، یہ اتحاد اسلامی اقدار اور مسلمانوں کے مسائل کی ترجمانی کیلیے ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ دینی جماعتوں کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here