امریکا کی بیت المقدس سے متعلق فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممالک کو دھمکی

America threatens countries opposing Jerusalem decision
America threatens countries opposing Jerusalem decision

:نیویارک

اقوام متحدہ کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی نکی ہیلے نے خبردار کیا ہے کہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممالک کے نام لیے جائیں گے اور ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔

امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے اعلان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کل ووٹنگ ہوگی تاہم اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی نے مختلف سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط لکھے ہیں۔

نکی ہیلی نے اپنے خطوط میں لکھا کہ جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرنے و الے ممالک کے نام صدر ٹرمپ کو بتاؤں گی اور بیت المقدس سے متعلق قرارداد پر ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔

نکی ہیلے نے اس حوالے سے ٹوئٹ بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے، جمعرات کو ہمارے انتخاب پر تنقیدی ووٹ ڈالا جائے گا اور امریکا ایسے ممالک کے نام لے گا۔

خیال رہے کہ 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکا نے ویٹو کردی تھی۔

جب کہ امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے، جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here