اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے

AGHA WAQAR AHMED

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے

مبینہ طور پر  نواز شریف اور شہباز شریف کے مابین ہونے والا  معاہدہ جنم لیتے ہی  دم توڑ گیا اور  نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کو  و ینٹیلٹر پر پھینک دیا اور  شہباز شریف سے کسی بھی قسم کا تعاون کرنے سے انکار کر دیا جس مصالحت کی سیاست کرنے پر  شہباز شریف سے متفق ہوئے تھے  اس اخلاقی معاہدے کو توڑ کر  نیب کی پیشی کے بعد  عدلیہ پر بھر پور وار کیا۔پھر سڑکوں ، گلی محلوں ، کوچوں اور بازاروں میں  عدلیہ کے خلاف  بغاوت کا عَلم اٹھا کر  عدلیہ کے خلاف  اعلان جنگ کر دیا ۔ ملک انارکی کی طرف  چل نکلے  گا اور واپسی کے تمام راستے  ایک ہی سمت جائیں گے جہاں بند گلی ہے ۔

افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ تین دفعہ منتخب ہونے والا  پرائم منسٹر  حالات کو اس نہج پر لے آیا ہے  کہ  تاریخ میں پہلی بار  سپہ سالار اعظم  آج  بند کمرے میں  ایوان بالا کے اراکین سے  اپنی معلومات  کا اظہار کرنے  اپنے تمام  دفاعی   عہدیداران کے ساتھ پہنچ گئے۔

ملک اس بات کا متحمل نہیں  ہو سکتا  کہ ایک طرف تو  بیرونی  سازشیں  پاکستان کو  توڑنے  کا فیصلہ  کر چکی ہوں  اور دوسری طرف  ہمارے سیاستدان اپنی خاندانی بادشاہت قائم رکھنے کے خواہاں ہو ں  حد تو یہ ہے کہ جس پارٹی نے عوام کو صحیح طرح متحرک کیا پاکستان تحریک انصاف آج وہ بھی  نئے نوجوان ورکروں کو ٹکٹ دینے کے لئے تیار نہیں  اور انتہائی ڈھٹائی سے ان  کے ترجمان  ٹی وی کے مختلف پروگرامز میں اس  بات کا اعلان کرتے ہوئے اس بات میں شرم محسوس نہیں کرتے  کہ ان کی پارٹی نے بنیادی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے  کہ وہ ٹکٹیں مختلف سیاسی جماعتوں سے آئے ہوئے  سابق  ایم این اے اور ایم  پی اے  حضرات کو تقسیم کریں گے  کیونکہ ان افراد کو الیکشن کی شعبدہ بازیاں احسن طریقے سے آتی ہیں ۔

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تحریک انصاف  اپنے بنیادی نعرے ” ہم تبدیلی لائیں گے”  سے  منحرف ہو گئی   کیونکہ آج تک جتنی سیاسی جماعتیں  معرف وجود میں آئیں  ماسوائے 1970ء کے الیکشن  جو ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں   پاکستان پیپلز پارٹی  نے  لڑے  ان میں نئے چہرے متعارف ہوئے ۔ اور قوی امید کی جاتی تھی کہ   جس طرح عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر  عام عوام کے علاوہ   پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں کو بھی   اپنی طرف متوجہ کر چکے تھے   وہ اس طرح اپنی سیاسی زندگی میں  پارٹی کے بنیادی اصولوں پریو  ٹرن  نہیں لیں گے ۔

 ان کے اس فیصلے سے  پاکستان تحریک انصاف  اور اصغر خان کی پارٹی  تحریک استقلال میں کوئی فرق نہیں رہا ۔

عام عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہیں گے  مسلم لیگ اپنے  نا اہل سابق وزیراعظم کی خود ساختہ سیاسی سوچوں میں الجھ کر  اپنی سیاسی حیثیت کھو جائے گی  کیوں کہ اس تلخ حقیقت  سے کوئی انکار نہیں کر سکتا   کہ نواز شریف کی بنیادی  سیاسی تربیت  جنرل ضیاء الحق کی آغوش میں ہوئی  اور وہ بھی ایک فوجی  جنرل کی پیداوار ہیں  مگر عدالت عظمیٰ  کے  فیصلے کے بعد نا اہل ہونے پر  ان کے اعصابی نظام  نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے   اور وہ مکمل طور پر  مریم نواز اور اس کے حواریوں کے نر غے میں  آ چکے ہیں   جو مسلم لیگ کو تباہی کے علاوہ   اور کسی منزل پر نہیں پہنچا سکتی ۔

شہباز شریف کا فیصلہ اور سوچ انتہائی  مثبت  تھی کہ نواز شریف  پاکستان واپس آ کر  عدلیہ کا سامنا کریں   اداروں سے اختلاف نہ کریں   اور سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں  اس طرح امید کی جا سکتی تھی کہ 2023ء میں ہونے والے الیکشن میں مریم نواز  کامیابی حاصل کرتی مگر نواز شریف  سیاست کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ چکے ہیں   اور مسلم لیگ (ن) کو جس قدر  نقصان نواز شریف کے فیصلوں نے پہنچایا اس قدر تو نقصان ماڈل ٹاؤن میں  14 افراد کا خون بہانے کے باوجود بھی  مسلم لیگ کو نقصان نہیں پہنچا تھا  مگر اب ان دو بھائیوں  (  نواز شریف  و شہباز  شریف )  کےدرمیان سرد جنگ دشمنوں پر عیاں ہو چکی ہے   اور کچھ بعید نہیں کہ  طاہر القادری  پیر وحید الدین سیالوی  کے ساتھ مل کر   جنوری کے پہلے  ہفتے میں ایک عظیم الشان  ملک گیر   احتجاج  کا آغاز کریں گے  جس میں ناموس رسالت کے ساتھ ساتھ   ماڈل ٹاؤن کے 14 شہدا کا   خون اور دو معصوم بچے  جو ابھی اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے  جن کو ان کی ماؤں کے  بطن میں ہی   قتل کر کے ابدی نیند سلا دیا گیا   اس کا فیصلہ کل کائنات بنانے والے   اللہ رب العزت کی جانب سے ہو جائے گا  ۔

 کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا   کہ “اللہ کی لاٹھی  بے آواز ہوتی ہے”

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here